پاکستان چھوڑنے والوں کی تعداد تین گنا کیوں بڑھ گئی

سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ وسطی پنجاب، ہزارہ قبیلے کے ستائے ہوئے لوگ، بلوچستان کے آزردہ شہری، کشمیر کے پہاڑوں سے روزگار کی تلاش میں نوجوان، یہ سب خوابوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، نا اُمید ہیں یا پاکستان میں اپنے مستقبل سے مایوس؟ ۔ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جبکہ ہمارا ملک دُنیا کے پانچ ایسے ممالک میں شامل ہے جن کی اکثریتی آبادی نوجوان ہے جبکہ بیروزگاری کی شرح پانچ فیصد سے زائد ہے.عالمی درجہ بندی کے مطابق پاکستان بیروزگاری میں 16ویں نمبر پر ہے، 2021 میں پاکستان سے بیرون ملک جانے والے نوجوانوں کی تعداد دو لاکھ 88 ہزار تھی، 2022 میں یہ تعداد تین گُنا بڑھ کر سوا آٹھ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 2023 میں اب تک دو لاکھ سے زائد پیشہ ور افراد بیرون ملک جا چکے ہیں۔ اپنے ایک کالم میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ سپنے پوچھ کے تھوڑی آنکھوں میں آتے ہیں اور نہ ہی اُنھیں ویزے کی ضرورت ہے، اُمیدیں کب جیب دیکھتی ہیں کہ کریڈٹ کارڈ مستقبل کی ضمانت بن جائیں۔
ابھی فروری میں ہی اٹلی کے ساحل پر ڈوبی کشتی میں قومی فُٹ بال کھلاڑی شاہدہ رضا اور اُس کے یورپ میں محفوظ مستقبل کے خواب ڈوبے۔ ایسا کیا ہوا ہے کہ سالوں میں ہونے والے واقعات اب ہر دوسرے مہینے ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ انسانی سمگلنگ کا نیٹ ورک وسیع ہو گیا ہے یا پاکستانی نوجوانوں کا صبر ختم ہو چلا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ کم پڑھے لکھے بھی ملک سے بھاگنا چاہتے ہیں اور زیادہ پڑھ لکھ کر انجینئیر، ڈاکٹر اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد بھی ملک سے فرار ہو رہے ہیں۔ دُنیا کا دل بڑا ہو گیا ہے یا ہمارے دامن تنگ پڑ گئے ہیں۔ بیرون ملک روزگار کی کشش ہے یا کم پر گزارہ نہ کرنے کی عادت، ہوس بڑھ رہی ہے یا شکر گزاری ناپید۔۔۔ کچھ تو ہے کہ المیے بڑھتے جا رہے ہیں اور مداوا کوئی نہیں؟ سوچیے، یہ المیے کب تک جنم لیتے رہیں گے، پاکستان سے زندہ بھاگنے والوں کو کب تک یورپ کے ساحل لاشوں کی صورت اُگلتے رہیں گے؟ عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ آبادی میں بے تحاشا اضافہ ایک مسئلہ تو ہے ہی مگر اتنی بڑی نوجوان آبادی کو مثبت طریقے سے استعمال نہ کرنا ایک المیہ بنتا جا رہا ہے۔ ستر کی دہائی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑا موڑ تب آیا جب پاکستانی تربیت یافتہ نوجوانوں کو سرکاری سرپرستی میں بیرون ملک جانے کی ترغیب دی گئی تاکہ پاکستان نہ صرف انسانی اثاثے کا استعمال کرے بلکہ ترسیلات میں اضافہ بھی ممکن ہو سکے۔ کیا اب ایسا ممکن نہیں کہ ان نوجوانوں کو تکنیکی تعلیم دی جائے اور پاکستان سے باہر سرکاری سطح پر بھیج کر بہترین مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ زرمبادلہ کاحصول ممکن ہو۔ یورپ کے کئی ممالک میں نوجوان آبادی کافی حد تک کم ہو گئی ہے جبکہ ورک فورس کے لیے جوان چاہییں۔ ہمارے ہاں ایسا نظام کیوں نہیں بن سکتا کہ ان ممالک میں دوطرفہ تعلقات استعمال کیے جائیں۔ اس سب کے لیے پالیسی، ترجیحات اور سنجیدگی کی ضرورت ہے جو کم از کم اب تک نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب سرکار کی جانب سے مختلف تعلیمی سکالرشپ حاصل کرنے والے دماغ پاکستان واپس آنے کو ترجیح نہیں دیتے۔ گذشتہ کچھ سالوں میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے سرکار کے اخراجات پر بیرون ملک جانے والے اکثر دانشور واپس نہیں آتے۔ یہ ایک اور بڑا المیہ ہے لیکن سرکار نہ صرف بے پرواہ بلکہ شاید بے خبر بھی ہے۔ ایسے لوگوں کی تحقیقات کر کے اُنھیں یا تو پاکستان لایا جائے یا اُن پر مستقل پابندی عائد کی جائے۔ وطن عزیز کے شہری کیوں دوسرے درجے کے شہری کہلانا پسند کرتے ہیں، یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے۔ پاکستان میں روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں تو کوئی کیوں یورپ کی گلیوں میں چھپتے پناہ گزین بننے کی تمنا کرے؟ پاکستان میں اُمید دلائی جائے تو کوئی اپنے مستقبل کو سمندر کی لہروں کے سپرد کیوں کرے؟ وطن عزیز کو فلاحی ریاست بنایا جائے تو کوئی کیوں یورپ کی آس لگائے؟ عاصمہ شیرازی کے مطابق پاکستان میں بڑھتی نوجوان آبادی کو سیاسی، معاشی اور معاشرتی منصوبے کا حصہ نہ بنایا گیا تو ملک کہاں کھڑا ہو گا یہ کسی نے سوچا بھی نہیں۔ حکومتی سطح پر نوجوانوں کے لیے جامع منصوبے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی اس بڑی تعداد کو ملک کی بہتری کے بیرون ملک بھجوانے کی بھی تاکہ بہترین استعمال ہو ورنہ یونہی یورپ کے ساحلوں پر خدانخواستہ ہم لاشیں ڈھونڈتے رہیں گے اور پکارتے رہیں گے کہ ساحلو!

اسحاق ڈار کی امریکی سفیر سےآئی ایم ایف پروگرام کیلئےکردارکی درخواست

ہماری لاشیں واپس کرو۔

Back to top button