علی وزیر کی دوبارہ گرفتاری کی اصل وجہ کیا ہے؟

26 ماہ تک سندھ میں جیل کاٹنے کے بعد حال ہی میں رہا ہونے والے جنوبی وزیرستان سے قومی اسمبلی کے رکن اور پشتون تحفظ موومنٹ پی ٹی ایم کے بانی ارکان میں شامل علی وزیر کو شمالی وزیرستان سے ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا ہے۔شمالی وزیرستان کے پولیس سربراہ ڈی پی او سلیم ریاض نے علی وزیر کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ میران شاہ پولیس کو دو مقدمات میں مطلوب تھے۔ڈی پی او سلیم ریاض نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’علی وزیر کے خلاف فروری اور رواں ماہ ریاست، فوج، اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے خلاف ہتک آمیز، شرانگیز اور گستاخانہ الفاظ کے استعمال کے باعث مقدمات درج کیے گئے تھے۔‘

ذرائع کے مطابق  20 دن قبل شمالی وزیرستان میں سیدگئی چیک پوسٹ کے داخلی راستے پر علی وزیر اور ان کے دیگر ساتھیوں کا سکیورٹی پر مامور فوجی اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی کے تناظر میں پی ٹی ایم کے پانچ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا، جن کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے حامیوں نے شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں ایک ہفتہ دھرنا دیا، جو بعدازاں میران شاہ کیمپ کے مرکزی گیٹ کے سامنے منتقل کر دیا گیا۔

آئی ایس آئی بنوں کے افسر کی سربراہی میں دھرنے کے 19ویں روز بعد پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں نے مظاہرین سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔دھرنے میں شریک پی ٹی ایم کے حامی اور شمالی وزیرستان کے سابق رکن صوبائی اسمبلی میر کلام وزیر نے بتایا کہ مذاکرات کے نتیجے میں دھرنا ختم کرنے اور گرفتار افراد کی رہائی پر اتفاق ہو چکا تھا۔’تاہم مذاکرات اس وقت ناکامی کا شکار ہوئے جب اتوار کو علی وزیر، جو دھرنے میں روزانہ حاضری دیتے رہے تھے، نے تقریر کے دوران محمد علی جناح کے حوالے سے نفرت آمیز الفاظ استعمال کیے، جس کا ویڈیو ثبوت موجود ہے۔ پیر کی صبح علی وزیر قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں شرکت کی غرض سے رزمک سے اسلام آباد جارہے تھے، جب پولیس نے ناکہ بندی پر انہیں گرفتار کیا۔‘انہوں نے بتایا کہ دو روز قبل علی وزیر، منظور پشتین اور ان کے ایک ساتھی گِلہ مند پشتون کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ پشاور نے بھی ایک کیس بنایا تھا، جس میں انہوں نے 23 جون کو پیش ہونا ہے۔ میرکلام وزیر کا کہنا تھا: ’میں خود پی ٹی ایم کا حامی ہوں، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ پشتونوں کے تمام مسائل حکومت اور اداروں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے لیکن میں اس بات کا قطعاً حامی نہیں کہ ریاست، فوج یا ملک کے لیڈروں کے خلاف غلط زبان استعمال کی جائے۔ اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ بڑھتے جائیں گے۔

خیال رہے کہ علی وزیر کو 26 ماہ جیل کاٹنے کے بعد رواں برس ہی مختلف مقدمات میں ضمانت ملنے پر رہا کیا گیا تھا۔علی وزیر کو دسمبر 2020 میں پشاور سے گرفتار کرکے کراچی پولیس کے حوالے کیا گیا تھا اور وہ اس کے بعد سے کراچی سینٹرل جیل ہی میں قید تھے۔ علی وزیر پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پالیسیوں اور اس کی دیگر ریاستی امور میں مبینہ مداخلت پر کڑی تنقید کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔علی وزیر خیبر پخنونخوا میں کچھ عرصے قبل ضم ہونے والے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے آزاد حیثیت سے پہلی بار رکن قومی اسمبلی بنے ہیں۔وہ احمد زئی وزیر قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونی ورسٹی سے تعلیم مکمل کی تھی۔ اپنے سیاسی نظریات اور اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں مبینہ کردار پر کھل کر اظہارِ خیال کرنے پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علی وزیر کے والد، بھائیوں، چچا، کزن سمیت خاندان کے 18 افراد مختلف واقعات میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔دوسری طرف قومی اسمبلی میں پیر کو بجٹ پر بحث کے دوران جنوبی وزیرستان کے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری کی بازگشت سنائی دی، ساتھی اراکین قانون سازوں نے گرفتاری پر احتجاج کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

قومی اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے ان کے ساتھی اور شمالی وزیرستان کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ایوان کی توجہ علی وزیر کی گرفتاری کی جانب مبذول کرائی۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکام نے اسپیکر سے اجازت لیے بغیر رکن قومی اسمبلی کو گرفتار کر کے قومی اسمبلی کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں ترمیم شدہ قوانین کے تحت اگر رکن اسمبلی کو جاری سیشن کے دوران گرفتار کیا جائے تو اسپیکر سیشن کے دوران گرفتار رکن کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے پابند تھے۔محسن داوڑ نے کہا کہ رکن اسمبلی کو پشاور میں درج ایک مقدمے کے سلسلے میں چیک پوسٹ پر گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔یہ مسئلہ دیگر قانون سازوں نے بھی اٹھایا، پاکستان پیپلز پارٹی کے قادر مندوخیل نے رکن قومی اسمبلی کی بار بار گرفتاری پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسپیکر سے علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا کہا۔تاہم، حکومت کی طرف سے کسی نے بھی علی وزیر کی گرفتاری پر ایک لفظ بھی نہیں بولا اور عموماً ایوان کے ارکان کی طرف سے پوائنٹس آف آرڈر کے ذریعے اٹھائے گئے تقریباً ہر معاملے پر اپنی رائے دینے والے اسپیکر نے بھی اس بار خاموش رہنے کو ترجیح

پراجیکٹ عمران کے رکھوالے جرنیل اور جج بھی گرفت میں آئیں گے؟

دی۔

Back to top button