پراجیکٹ عمران کے رکھوالے جرنیل اور جج بھی گرفت میں آئیں گے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار اور مسلم لیگ نون کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ  پاکستان کے لئے نہایت بھیانک نتائج لانے والے ’پروجیکٹ عمران خان‘ کے منصوبہ سازوں نے کسی موڑ پر نہ سوچا کہ ہم کتنا بڑا جوا کھیل رہے ہیں۔ اگر نواز شریف دور میں 4 فیصد سے اوپر نہ جانے والی مہنگائی آج 35 فی صد پر آگئی ہے اور اگر آج پاکستان گہری دلدلی پاتال سے نکلنے کے جتن کررہا ہے تو لامحالہ نگاہیں پروجیکٹ عمران خان کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کی طرف اٹھ ہی جاتی ہیں۔

 9مئی کا یوم سیاہ بھی جرنیلوں اور ججوں کی اسی سیاہ کاری کا ثمر ہے۔ اپنے ایک کالم میں عرفان صدیقی لکھتے ہیں کہ لوگ سوچتے ہیں کہ 9مئی کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرگیا لیکن ’یوم ِسیاہ‘ کے افق سے ’’یومِ حساب‘‘ کیوں طلوع نہیں ہورہا ؟ جھوٹ کی دکانوں کے پھاٹک آہستہ آہستہ اوپر اٹھنے لگے ہیں۔ ’’پریس کانفرنسیں‘‘ تھم سی گئی ہیں اور نئے سیاسی حجروں کی چہل پہل میں کمی آرہی ہے۔ پُرسکوں سطحِ آب سے فریب کھا کر لنگر اٹھانے اور بادبان کھولنے کی تیاریاں کرنے والوں کو اندازہ نہیں کہ سمندر کس نوع کا ’’ تہیّہِ طوفان‘‘ کئے ہوئے ہے۔ فارمیشن کمانڈرز کا اعلامیہ محض ایک جھلک تھی۔ بڑی پریس کانفرنس کی نوک پلک سنواری جارہی ہے جو اب زیادہ دور کی بات نہیں۔ 9 مئی آفٹر شاکس  کے باوجود، قومی تاریخ کے شدید ترین معاشی بحران سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں۔ ہم تکنیکی  طورپر دیوالیہ ہوئے یا نہیں لیکن عملاً صورتِ حال کچھ ایسی ہی ہے۔اقتصادی امور کا گہرا، وسیع اور طویل تجربہ رکھنے والے سینیٹر اسحاق ڈار پہ کتنے ہی تازیانے برسالئے جائیں، اُن کے اخلاصِ نیت اور اَن تھک محنت ہی کے باعث اب تک، کسی نہ کسی طور، بات بنی ہوئی ہے، لیکن ہمارا ناتواں بحری جہاز تیزی سے تباہ کن بھنور  کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ قوم اس سازش کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو بھی اچھی طرح جان چکی ہے۔ آسان فہمی کے لئے اس سازش کو ’’پروجیکٹ عمران خان‘‘ کانام دیا جاتا ہے۔ جنرل پاشا، جنرل ظہیرالاسلام ، جنرل رضوان اختر، جنرل فیض حمید، جنرل عاصم سلیم باجوہ اور جنرل آصف غفور فوج کی عزت اور وقار کو ’پراجیکٹ عمران خان‘ کی بھٹّی میں جھونکتے قدم قدم آگے بڑھتے رہے۔ جنرل کیانی ہم آہنگ نہ تھے تو بھی منصوبہ سازوں کو نکیل نہ ڈالی البتہ 2013کے انتخابات میں نقب نہ لگانے دی۔ راحیل شریف کی ساری ترجیحات اور مفادات صرف مدّتِ ملازمت میں توسیع سے جڑے تھے۔ وہ اسی ہدف کے لئے پروجیکٹ کی سرپرستی کرتے رہے۔ خلاف توقع جنرل قمر جاوید باجوہ تن من دھن سے اس منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر بن گئے اور نہایت تیزی کے ساتھ اسے آگے بڑھایا۔  ہرگز توقع نہ تھی کہ جمہوریت اور آئین سے گہری وابستگی کا دعویٰ کرنے والے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  بھاری اکثریت کے حامل ایک منتخب وزیراعظم کے ساتھ ایسا سلوک کریں گے۔ نوازشریف کو بھی کسی طرح جنرل باجوہ سے اس ’’حُسن سلوک‘‘ کی توقع نہ تھی۔ آج بھی بات چلتی ہے تو انہیں سب سے زیادہ رنج، جنرل باجوہ کے طرز عمل ہی کا ہوتا ہے۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ  پاکستان کے لئے نہایت بھیانک نتائج لانے والے ’پروجیکٹ عمران خان‘ کے منصوبہ سازوں نے کسی موڑ پر نہ سوچا کہ ہم کتنا بڑا جوا کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے یہ دیکھنے کی زحمت گوارا ہی نہ کی کہ نوازشریف تمام تر سازشوں، جلسے جلوسوں اور دھرنوں کے باوجود کس استقامت کے ساتھ پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکال رہا ہے۔ معیشت کی شرح نمو 6 فی صد سے اوپر جارہی ہے۔ افراط زر کی مجموعی شرح 4 فی صد اور کھانے پینے کی اشیاء کی افراط زر یعنی مہنگائی کی شرح صرف 2 فیصد ہے۔ پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج جنوبی ایشیا میں پہلے اور پوری دنیا میں پانچویں نمبر پر آگئی ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق پاکستان 2030ء میں دنیا کی ب20 بڑی معیشتوں میں شمار ہونے جا رہا ہے۔

پاکستانی روپیہ ، ڈالر کے مقابلے میں مضبوط قدموں پر کھڑا ہے۔ سی پیک کی شکل میں 52 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری بھی آرہی ہے۔ لوڈ شیڈنگ میں ڈوبے پاکستان میں روشنیاں واپس آگئی ہیں اور نیشنل گرڈ میں تقریباً 12ہزار میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوگیا ہے۔ انہیں بالکل علم نہ ہوسکا کہ ایک مرحلے پر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر سے آگے نکل گئے تھے، اُنہیں اندھے عشق میں یہ بھی دکھائی نہ دیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار وفاقی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کرگیا ہے۔ وہ اس بڑی خبر سے بھی بے بہرہ رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آئی۔ایم۔ایف پروگرام کامیابی کے ساتھ پایۂِ تکمیل کو پہنچا اور نوازشریف نے کہا ،’’بائی بائی ’آئی۔ایم۔ایف‘، آئندہ ہمیں آپ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘‘ انہیں بین الاقوامی معیار کی موٹرویز، شاہراہیں، روزگار کے مواقع، توانا خارجہ پالیسی، پُرامید تاجر، حوصلہ مند صنعتکار، مطمئن کاشتکار، کچھ دکھائی نہ دیا۔ انہیں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نوازشریف کی کامیاب کوششیں بھی نظر نہ آئیں۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ  نیلم پری ، کے عشق میں ہلکان ٹولے نے نوازشریف کی مُشکیں کسیں، جھوٹے مقدمات بنائے، ججوں کے لبادے میں چھپے سہولت کاروں کے ذریعے ہانکا لگایا، نوازشریف کو گھر بھیجا، 2018میں تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی دھاندلی کی اور چار سال تک گز گز بھر لمبے نوکیلے کانٹوں والی فصل کو اپنے مقدس ادارے کا لہو پلاتے رہے۔ معاشی برمودا تکون تک آپہنچنے والا پاکستان، سنہری گوٹے کناری والی سیاہ ریشمی عبائوں میں لپٹے اُن منصفانِ کرام کو بھی کیسے بھول سکتا ہے جنہوں نے اپنے حلف سے روگردانی کی، اپنا ضابطۂِ اخلاق پامال کیا اور بغض وعناد میں لتھڑے ایسے متعّفن نوشتے رقم کئے جن سے آج بھی گھِن آرہی ہے۔ ثاقب نثار، آصف سعید کھوسہ، گلزار احمد، اعجاز افضل، اعجازالاحسن اور عظمت سعید شیخ نے پروجیکٹ عمران خان میں جو کردار ادا کیا، اُسے کیسے بھلایا جاسکے گا؟ مانا کہ وردی پوش اور عبا پوش، سابق ہوکر بھی حاضروموجود ہی رہتے ہیں اور کوئی قانون انہیں میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا لیکن کیا وہ سب سے بڑے قادر اور عادل کی گرفت سے بھی بچ جائیں گے؟

عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ اگر آج کا پاکستان اُسی ’آئی ۔ایم۔ایف‘ کی دہلیز پر ماتھا ٹیکے منتیں کررہا ہے جسے نوازشریف نے بائی بائی کہہ دیا تھا، اگر 2017ء میں دنیا کی چونتیسویں معیشت 2022ء میں، سو فی صد نیچے گر کر سینتالیسویں نمبر پر آگئی، اگر نواز شریف دور میں چار فیصد سے اوپر نہ جانے والی مہنگائی پینتیس فی صد پر آگئی ہے اور اگر آج پاکستان گہری دلدلی پاتال سے نکلنے کے جتن کررہا ہے تو لامحالہ نگاہیں پروجیکٹ عمران خان کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کی طرف اٹھ ہی جاتی ہیں۔ 9مئی کا

تحریک انصاف فوجی عدالتوں پر عوام کو کیسے ماموں بنا رہی ہے؟

یوم سیاہ بھی جرنیلوں اور ججوں کی اسی سیاہ کاری کا ثمر ہے۔

Back to top button