وزیر ریلوے نےخسارے کی رپورٹ جھوٹ کاپلندہ قرار دیدی

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے آڈیٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ میں ریلوے کے 19 فیصد خسارے کی رپورٹ کو حقائق کے برعکس قرار دے دیا۔
راولپنڈی ریلوے لوکو شیڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ گمراہ کن ہے اور اس کے ذریعے ریلوے کی ترقی کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔ ریلوے کے 19 فیصد خسارے کی رپورٹ حقائق کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران آپریٹنگ لاگت میں 3 ارب 60 کروڑ روپے کی کمی لائی گئی، جو عملی طور پر منافع کے مترادف ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پنشن کی مد میں 63 ارب روپے حکومت پاکستان گرانٹ کے طور پر فراہم کرتی ہے اور مستقبل میں بھی حکومت ہی پنشن کی ادائیگی یقینی بنانے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے پنشنرز کو ریلوے کا قیمتی اثاثہ قرار دیا۔
ریلوے کی ترقی سے متعلق حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے میں اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے، جبکہ ریلوے کی 178 سالہ تاریخ میں پہلی بار 115 ارب روپے کے ریونیو ہدف کو حاصل کر لیا گیا ہے۔
حنیف عباسی نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ریلوے کے اسکولوں اور اسپتالوں کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف شعبوں میں رائٹ سائزنگ بھی کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانچ ٹرینوں کو آؤٹ سورس کیا جا چکا ہے، جبکہ عوام ایکسپریس کے چار ریک ری فربش کیے جا چکے ہیں اور جون 2027 تک تمام ٹرینوں کی ری فربشمنٹ مکمل کر لی جائے گی۔ مزید برآں 16 نئے پاور پلانٹس کی خریداری کے لیے بولیاں کھولی جا رہی ہیں اور آئندہ سال 23 مارچ تک تمام پاور وینز کی اوور ہالنگ مکمل کر دی جائے گی۔
حنیف عباسی نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبے کے روہڑی تا کراچی سیکشن کا سنگ بنیاد وزیراعظم ستمبر میں رکھیں گے، جبکہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی خواہش ہے کہ ایم ایل ون منصوبہ جلد از جلد مکمل ہو۔
انہوں نے بتایا کہ ایم ایل تھری، روہڑی تا زاہدان ریلوے ٹریک پر بھی کام جاری ہے اور کوشش ہے کہ ان کی موجودگی میں منصوبوں پر عملی پیش رفت شروع ہو۔
