پیپلزپارٹی کی گلگت بلتستان حکومت کو درپیش بڑے چیلنجز کیا؟

گلگت بلتستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی سیاسی منظرنامہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت اور امجد حسین ایڈووکیٹ کے بلا مقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد اب اصل امتحان اقتدار نہیں بلکہ کارکردگی کا ہے۔ عوامی توقعات بلند ہیں جبکہ چیلنجز کی فہرست بھی طویل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئی حکومت اپنے انتخابی وعدوں کو حقیقت میں بدل پائے گی یا ماضی کی حکومتوں کی طرح امیدیں ایک بار پھر ادھوری رہ جائیں گی؟
مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہو چکی ہے، جبکہ امجد حسین ایڈووکیٹ بلا مقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔ انتخابی عمل کے دوران پارٹی قیادت، خصوصاً بلاول بھٹو زرداری کی خطے میں بھرپور موجودگی اور عوامی رابطہ مہم نے سیاسی فضا کو خاصا متحرک رکھا۔اب جبکہ حکومت تشکیل پا چکی ہے، اصل چیلنج وعدوں کو عملی شکل دینا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی نے روزگار، بجلی کے بحران کے خاتمے، سیاحت کے فروغ، بنیادی سہولیات کی بہتری اور آئینی حقوق کی فراہمی جیسے اہم وعدے کیے تھے، جن پر اب عوام کی نظریں مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام طویل عرصے سے بنیادی مسائل کا شکار ہیں، جن میں سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف گھریلو زندگی بلکہ کاروباری سرگرمیوں اور سیاحت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔دوسرا بڑا مسئلہ نوجوانوں کے لیے روزگار کی کمی ہے۔ مقامی طلبہ اور نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود بہتر مواقع نہ ہونے کے باعث ملک کے دیگر شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ عوامی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اگرچہ حکومتیں بدلتی رہی ہیں لیکن روزگار کے مواقع میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔
خطے میں ایک دیرینہ اور حساس مسئلہ خودمختاری اور آئینی حیثیت کا بھی ہے۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کو مکمل صوبائی حیثیت دی جائے تاکہ مقامی سطح پر فیصلے خود کیے جا سکیں۔مقامی شہریوں کے مطابق زیادہ تر اہم فیصلے وفاق میں ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مقامی ضروریات اور زمینی حقائق بعض اوقات نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی مالی پیکیج کا مطالبہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لائی جا سکے۔
گلگت بلتستان کی معیشت میں سیاحت بنیادی حیثیت رکھتی ہے، تاہم خراب سڑکیں، کمزور انفرا اسٹرکچر اور ہنگامی طبی سہولیات کی کمی اس شعبے کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔مقامی ماہرین کے مطابق اگر سیاحتی مقامات تک رسائی بہتر بنا دی جائے اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے تو یہ خطہ پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت پیپلز پارٹی کے لیے ایک اہم امتحان ہے، کیونکہ یہ خطے میں ان کی چوتھی حکومت ہے۔ عوامی توقعات بلند ہیں اور اب کارکردگی ہی حکومت کے سیاسی مستقبل کا تعین کرے گی۔نوجوانوں، تاجروں اور مقامی برادریوں کی نظریں اس بات پر ہیں کہ نئی حکومت وعدوں کو کس حد تک عملی شکل دیتی ہے اور آیا واقعی گلگت بلتستان میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوتا ہے یا نہیں۔
