راولپنڈی، کھاریاں موٹروے کا عوامی منصوبہ، متنازع کیسے ہوا؟

حکومت نے 203 ارب روپے کی لاگت سے 117 کلومیٹر طویل راولپنڈی، کھاریاں موٹروے (ایم-13) منصوبے پر پیش رفت تیز کر دی ہے، جس کے تحت اسلام آباد اور لاہور کے درمیان سفر کا دورانیہ تقریباً ایک گھنٹہ کم اور فاصلہ 100 کلومیٹر تک مختصر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تاہم منصوبے کو مسابقتی بولی کی بجائے پاک آرمی کے ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن یعنی ایف ڈبلیو او کے سپرد کرنے کی تجویز نے شفافیت اور قانونی طریقہ کار کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے اور سیاسی و عوامی حلقوں میں اس فیصلے بارے سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے موٹروے نیٹ ورک میں ایک نئے اہم منصوبے، راولپنڈی، کھاریاں موٹروے (ایم-13)، کو حکومت نے تیز رفتار سفری سہولت، بہتر لاجسٹکس اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ 203 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی مجموعی لمبائی 117.2 کلومیٹر ہوگی اور اسے دسمبر 2028 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل کے بعد اسلام آباد اور لاہور کے درمیان موجودہ راستے کے مقابلے میں تقریباً 100 کلومیٹر کی کمی آئے گی، جبکہ سفر کا دورانیہ بھی تقریباً ایک گھنٹہ کم ہو جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئی چھ رویہ موٹروے موجودہ ایم-2 موٹروے اور جی ٹی روڈ پر بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کو نمایاں طور پر کم کرے گی۔

حکومت کے مطابق یہ منصوبہ لاہور، سیالکوٹ، سمبڑیال، کھاریاں اور راولپنڈی کو جدید موٹروے نیٹ ورک کے ذریعے جوڑے گا، جس سے نہ صرف صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ مال برداری کے اخراجات، ایندھن کے استعمال اور کاربن اخراج میں بھی کمی آئے گی۔سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) نے بھی اس منصوبے کو ایک سٹریٹجک متبادل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کوریڈور کی تکمیل کے بعد موجودہ ایم-2 موٹروے پر چلنے والی تقریباً 50 سے 60 فیصد ٹریفک نئے راستے پر منتقل ہو سکتی ہے، جس سے سفر مزید محفوظ، تیز اور مؤثر ہوگا۔

تاہم منصوبے کا سب سے متنازع پہلو اس کا ٹھیکہ دینے کا طریقہ کار ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی نے ابتدائی طور پر اس منصوبے کو فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے سپرد کرنے کی منظوری دی ہے، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اتنے بڑے منصوبے کے لیے کھلی اور مسابقتی بولی کا عمل ہونا چاہیے تھا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے لیکن دوسری جانب این ایچ اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قانون میں موجود اس شق کے تحت کیا گیا ہے جس کے مطابق مخصوص حالات میں نیگوشی ایٹڈ پروکیورمنٹ کے ذریعے بھی منصوبہ آگے بڑھایا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری ضروری ہے۔ اگر کابینہ نے اعتراض کیا تو منصوبے کو اوپن بڈنگ کے لیے پیش کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق یہ منصوبہ دراصل پہلے سے جاری لاہور، سیالکوٹ، کھاریاں موٹروے کوریڈور کا تسلسل ہے اور اسے نئی اسکیم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ دفاعی اور تکنیکی ضروریات کے باعث اس منصوبے کی روٹ الائنمنٹ اور ڈیزائن میں تبدیلیاں کی گئی تھیں اور اسی تناظر میں اسے ایف ڈبلیو او کے سپرد کیا گیا۔حکام کا مؤقف ہے کہ موجودہ ایم-2 موٹروے سرگودھا اور فیصل آباد ڈویژن سے گزرنے کے باعث لاہور اور اسلام آباد کے درمیان سفر کا فاصلہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ نئی موٹروے نسبتاً مختصر اور براہ راست راستہ فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ جی ٹی روڈ پر بڑھتی ہوئی ٹریفک بھی اس منصوبے کی ایک بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر منصوبہ مقررہ وقت، لاگت اور شفاف طریقہ کار کے ساتھ مکمل ہو جاتا ہے تو یہ پاکستان کے موٹروے نیٹ ورک، صنعتی رابطوں اور علاقائی تجارت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف اس کی تعمیر پر نہیں بلکہ شفافیت، قانونی تقاضوں کی تکمیل اور عوامی اعتماد پر بھی ہوگا۔

Back to top button