پنجاب حکومت کا نیا غنڈہ مار قانون سیاسی تنقید کی زد میں کیوں؟

پنجاب حکومت کی جانب سے عادی مجرموں اور سماج دشمن سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے متعارف کرایا گیا پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بی ہیویئر بل سیاسی تنازع کا مرکز بن گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مجوزہ قانون کا مقصد جرائم پیشہ عناصر، قبضہ مافیا، منشیات فروشوں اور سماج دشمن رویوں کا مؤثر تدارک ہے، جبکہ اپوزیشن اس غنڈہ مار قانون کو شہری آزادیوں، میڈیا اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہونے والا متنازع قانون قرار دیتی دکھائی دیتی ہے۔
خیال رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے عادی مجرموں اور سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے لیے متعارف کرایا گیا "پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بی ہیویئر بل” سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر، قبضہ مافیا، منشیات فروشوں، جسم فروشی، دھوکہ دہی اور دیگر جرائم پیشہ سرگرمیوں کی روک تھام ہے، جبکہ اپوزیشن اسے شہری آزادیوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہونے والا قانون قرار دے کر شدید تحفظات کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ بل رواں ماہ پنجاب اسمبلی میں متعارف کرایا گیا اور اسے مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ بعد ازاں جب اس کی تفصیلات منظر عام پر آئیں تو سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا، جہاں بعض ناقدین نے اسے ماضی کے متنازع قوانین سے تشبیہ دی کیونکہ مجوزہ قانون کے تحت ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی تجویز دی گئی ہے جو مسلسل مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوں یا معاشرے میں خوف، بدامنی اور عوامی پریشانی کا باعث بنیں۔ بل میں ایسے افراد کی نگرانی کے لیے الیکٹرانک ڈیوائسز، ضمانتی بانڈ، انتظامی نگرانی اور خلاف ورزی کی صورت میں سزا کا نظام بھی شامل کیا گیا ہے۔
قانون کے مسودے میں بعض ایسے اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں جن پر سب سے زیادہ بحث ہو رہی ہے۔ ان میں پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ایسا مواد شائع یا نشر کرنا قابلِ گرفت قرار دینا شامل ہے جس سے کسی شخص کی ساکھ، شہرت یا مالی حیثیت متاثر ہو۔ اسی طرح سرِعام مغلظات بکنے پر بھی تین سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔اس کے علاوہ قبضہ مافیا، منشیات، جسم فروشی، شراب نوشی، غیر قانونی آمدنی، سرکاری اداروں کے نام یا وردی کا ناجائز استعمال، دھوکہ دہی سے خیرات جمع کرنے اور بدعنوان عناصر کی معاونت جیسے جرائم بھی مجوزہ قانون کے دائرہ کار میں شامل کیے گئے ہیں۔
اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ بل میں بعض اصطلاحات انتہائی وسیع اور مبہم ہیں، جنہیں کسی بھی شخص، صحافی، سیاسی کارکن یا حکومت پر تنقید کرنے والے فرد کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے سینئر رکن اور قانون دان رانا آفتاب احمد خان نے اس قانون کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے میڈیا، سوشل میڈیا اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک احمد خان نے اپوزیشن کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے پر کہا کہ وہ اس بل کی تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں اور اس کا جائزہ لیں گے۔ تاہم حکومت کی جانب سے تاحال یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ بل کا بنیادی مقصد صرف عادی مجرموں اور سماج دشمن عناصر کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ عام شہریوں یا سیاسی مخالفین کی آزادیوں کو محدود کرنا۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس مجوزہ قانون پر حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ قائمہ کمیٹی میں اس کی تمام شقوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، مبہم نکات کو واضح کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جرائم کی روک تھام کے ساتھ ساتھ آئینی حقوق، آزادی اظہار اور قانونی تحفظات بھی برقرار رہیں۔
