پاکستان نے افغانستان کے سرحدی صوبوں میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر فضائی کارروائی کرتے ہوئے جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور 25 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان نے ان حملوں کو شہری آبادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ خواتین اور بچوں سمیت درجنوں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے متضاد دعووں نے ایک بار پھر پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔
پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی شب مستند انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان کے صوبوں پکتیکا، پکتیا اور کنڑ میں جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی سے منسلک تین مبینہ ٹھکانوں کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 25 شدت پسند ہلاک جبکہ بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق یہ کارروائی خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد کی گئی۔ ان کے مطابق کارروائی کا مقصد سرحد پار موجود ان عناصر کو نشانہ بنانا تھا جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسی روز ضلع باجوڑ میں افغان سرحد کے قریب ایک انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے زمینی آپریشن میں جماعت الاحرار کے مبینہ کمانڈر خان فروش عرف زبل سمیت چار شدت پسند ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حملوں میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین، بچوں اور دیگر عام شہریوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ طالبان حکومت کے مطابق پکتیا، پکتیکا اور کنڑ کے مختلف علاقوں میں متعدد رہائشی مکانات متاثر ہوئے ہیں۔بی بی سی پشتو کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان پکتیا کے علاقے مندی خیل میں رپورٹ کیا گیا، جہاں مقامی ذرائع نے بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور زخمیوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ مقامی اسپتال حکام کے مطابق حملوں کے بعد درجنوں زخمیوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔
تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حالیہ حملے اور دیگر دہشت گرد کارروائیوں کے شواہد افغانستان میں موجود شدت پسند نیٹ ورکس کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جبکہ افغان طالبان مسلسل اس الزام کی تردید کرتے آئے ہیں کہ وہ پاکستان مخالف گروہوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
خیال رہے کہ یہ حالیہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی، فضائی حملوں اور الزام تراشیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان متعدد بار سرحد پار موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا دعویٰ کر چکا ہے، جبکہ افغان طالبان کا مؤقف رہا ہے کہ ان حملوں میں عام شہری متاثر ہوتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق سرحد پار دہشت گردی، جوابی کارروائیوں اور دونوں ممالک کے متضاد مؤقف نے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مستقبل میں کشیدگی میں کمی کا انحصار دونوں ممالک کے درمیان مؤثر سفارتی رابطوں، سرحدی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر ہوگا۔