ایرانی تیل پر پابندیاں ختم، پاکستان میں پٹرول کتنا سستا ہونے والا ہے؟

امریکہ کی جانب سے ایرانی خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی فروخت پر عائد پابندیوں میں 60 روزہ نرمی کے بعد پاکستان نے ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق حکومت ایرانی حکام سے خام تیل، ایل پی جی اور دیگر توانائی مصنوعات کی درآمد کے حوالے سے رابطے میں ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی خریداری سے فوری طور پر پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی فروخت کے لیے 60 روزہ عارضی اجازت ملنے کے بعد پاکستان نے بھی توانائی کے شعبے میں ایران کے ساتھ تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان ایرانی حکام سے خام تیل سمیت مختلف توانائی مصنوعات کی درآمد کے حوالے سے رابطے میں ہے اور اگر یہ معاہدے ملکی مفاد میں ہوئے تو حکومت ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق ایران کے پاس زیادہ تر بھاری خام تیل یعنی ہیوی کروڈ آئل موجود ہے، جسے پاکستانی ریفائنریوں میں براہ راست استعمال کرنا آسان نہیں۔ ان کے مطابق حکومت اس امکان پر غور کر رہی ہے کہ ایرانی خام تیل کو دوسرے خام تیل کے ساتھ ملا کر ایسی مصنوعات تیار کی جائیں جو پاکستانی صارفین کو نسبتاً کم قیمت پر فراہم کی جا سکیں۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان اس وقت روزانہ تین سے چار ہزار ٹن ایل پی جی ایران سے درآمد کر رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ اس حجم میں اضافہ کیا جائے تاکہ مقامی مارکیٹ میں ایل پی جی کی دستیابی بہتر بنائی جا سکے۔وفاقی وزیر نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے بتایا کہ یہ معاملہ اس وقت پیرس کی ثالثی عدالت میں زیر سماعت ہے، تاہم پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک باہمی مذاکرات کے ذریعے اس تنازع کا قابل قبول حل تلاش کریں۔ ان کے مطابق اگر ایرانی گیس کی قیمت مقامی یا دیگر درآمدی ذرائع سے زیادہ ہوئی تو حکومت عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے سے گریز کرے گی۔

دوسری جانب توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران سے تیل خریدنے کا راستہ وقتی طور پر کھلا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نمایاں طور پر کم ہو جائیں گی۔ماہرین کے مطابق ماضی میں ایران پابندیوں کی وجہ سے رعایتی نرخوں پر تیل فروخت کرتا تھا، مگر اب عالمی منڈی تک رسائی ملنے کے بعد ایران بھی اپنی مصنوعات بین الاقوامی قیمتوں کے مطابق فروخت کرے گا۔ اس صورت میں پاکستان کو صرف اتنا فائدہ ہو سکتا ہے کہ ہمسایہ ملک ہونے کی وجہ سے ترسیلی اخراجات نسبتاً کم رہیں، جس کا محدود اثر ایندھن کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ایک اور اہم مسئلہ ایرانی خام تیل کی نوعیت ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کا خام تیل بھاری ہے، جبکہ پاکستان کی بیشتر ریفائنریاں نسبتاً ہلکے خام تیل کو پراسس کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔ بھاری خام تیل سے فرنس آئل زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا ہے، جس کی مقامی طلب کم اور عالمی منڈی میں قیمت بھی نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اسی لیے موجودہ ریفائنری ڈھانچے میں ایرانی خام تیل کا وسیع پیمانے پر استعمال معاشی طور پر زیادہ پرکشش نہیں سمجھا جاتا۔

خیال رہے کہ پاکستان اپنی بیشتر خام تیل کی ضروریات سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے پوری کرتا ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی ایک بڑی مقدار بھی بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران ایک متبادل سپلائر بن سکتا ہے، لیکن قیمتوں، ریفائننگ صلاحیت اور موجودہ تجارتی معاہدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اور معاشی موقع ضرور ہے، تاہم اس کے حقیقی فوائد کا انحصار عالمی منڈی کی قیمتوں، دوطرفہ معاہدوں، ریفائنریوں کی تکنیکی صلاحیت اور مستقبل کی امریکی پالیسی پر ہوگا۔ اس لیے عوام کے لیے سستے پیٹرول اور ڈیزل کی توقعات کو فی الحال حقیقت پسندانہ حدود میں رکھنا ضروری ہے۔

Back to top button