جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں

تحریر: عمار مسعود

بشکریہ: وی نیوز

سیاسی مبصرین کی بات ہو یا سماجی مفکرین کا بیان، ہر کسی نے موجودہ ایران اور امریکا تنازعے میں جہاں پاکستان کے کردار کو سراہا، وہاں سعودی عرب کی قیادت کی دانش مندی، صبر اور تحمل کی پالیسی کی بھی بے پناہ تعریف کی۔ اس بین الاقوامی تنازعے میں جس متانت، ذہانت اور استقامت کا مظاہرہ سعودی قیادت کی جانب سے کیا گیا، اس کی مثال تاریخِ انسانی نے اس سے پہلے کم ہی دیکھی۔ جس وقار، برداشت اور حلم سے سفارت کاری کے معاملات نمٹائے گئے، وہ اس سے پہلے چشمِ فلک کی نگاہ سے نہیں گزرے۔

یہ درست ہے کہ امریکا ایران جنگ میں امن کی سرحد عبور کرنے سے پہلے بہت کٹھن مراحل آئے۔ دنیا نے بہت سے نشیب و فراز کا سامنا کیا۔ بسا اوقات لگتا تھا کہ بات بنتے بنتے بگڑ جائے گی اور کئی لمحات ایسے بھی آئے جب محسوس ہوا کہ بگڑی بات بن جائے گی۔ امن کی خواہش جنگ و جدل کے مابین کوشاں رہی۔ امید کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوٹ جاتا، کبھی کسی ایک بیان سے، کسی ایک ٹویٹ سے منزل کھوٹی ہونے لگتی۔ یاد رکھیے، جب اشتعال انگیزی اپنے عروج پر ہو، ایسے میں دانش ہی امن کی منزل کی جانب لے کر جا سکتی ہے۔

اب تک سب کو پتا چل چکا ہے کہ امریکا ایران جنگ کے پیچھے اسرائیل کی ایک خوفناک سازش تھی، جس نے ایک جانب امریکا کو یہ خوش کن خواب دکھایا کہ ایران چند دنوں میں ڈھیر ہو سکتا ہے اور دوسری جانب مسلم امہ کو جنگ پر اکسانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایران کی جانب سے جب کویت، بحرین اور دبئی پر حملے ہوئے تو عالمِ اسلام نے اس سازش کو نہیں بھانپا، مگر جب اس سلسلے میں ایران کے میزائل نے سرزمینِ مقدس پر وار کیا تو سارے عالمِ اسلام کو دھچکا لگا۔ اس لمحے سب پر اسرائیلی سازش بے نقاب ہو گئی۔

اسرائیل کی بہیمانہ خواہش تھی کہ ایک جانب تو امریکا ایران کی بربادی کا سامان کرے اور دوسری جانب مسلم امہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا جائے۔ ارضِ مقدس پر حملے کے نتیجے میں عالمِ اسلام کا دل دُکھا کیونکہ اسلام کے قلعے سے سب کی عقیدتوں کا شمار نہیں۔ اس معاملے میں امّہ میں کوئی ابہام نہیں، کوئی تفرقہ نہیں، کوئی اختلاف نہیں۔ ساری امت ایک ایسے جھنڈے تلے متحد ہے جس پر کلمۂ طیبہ تحریر ہے اور جس سرزمین کی طہارت اور پاکیزگی کی قسم کھائی گئی ہے۔

بنیانِ مرصوص میں فتح کے بعد ایران امریکا جنگ میں ثالثی پاکستان کا ایک عالمی کارنامہ ہے۔ جس انتھک محنت اور محبت سے پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا، وہ بے مثال ہے۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل، وزیراعظم اور وزارتِ خارجہ کی توجہ صرف ایک نقطے پر مرکوز تھی کہ دنیا کو بربادی کی ایک نئی داستان لکھے جانے سے بچایا جائے۔ انسانیت کا تحفظ کیا جائے اور بے لوث ہو کر کیا جائے۔ ثالثی کی ان ساری کاوشوں میں پاکستان کو ہر لمحہ سعودی حکومت کی تائید اور تعاون حاصل رہا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اس جنگ کے مرہونِ منت نہیں۔ یہ دہائیوں کی محبت اور اخلاص کا قصہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سعودی عرب کی حیثیت عالمِ اسلام میں ایسے ہی ہے جیسے سورج کی حیثیت نظامِ شمسی میں۔ سب ستارے اسی کی کشش کے زیرِ اثر گردش کرتے ہیں۔ سب کی گردش کا محور اور مدار یہی حجازِ مقدس ہے۔ ہمارے رابطے اور رشتے زمانوں سے عقیدتوں میں گندھے ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کی خارجہ پالیسی آج سے نہیں، ہمیشہ سے امن پر مبنی رہی ہے۔ وہ کبھی جنگ کے حامی نہیں رہے۔ وہ اختلافات کو ہوا نہیں دیتے۔ وہ ساری دنیا کے لیے امن کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہی ان کی خارجہ پالیسی ہے اور یہی دنیا میں ان کے احترام کی ایک بڑی وجہ ہے۔

ایران کے گلف پر حملے نے اسرائیلی سازش کو بے نقاب تو کیا، مگر اس کے مذموم مقاصد پورے نہیں ہو سکے۔ سعودی قیادت نے اس موقع پر جس عاقبت اندیشی، بصیرت اور دانائی کا مظاہرہ کیا، اس کی مثال ملنا ممکن نہیں۔ حملے کا جواب حملے سے دیا جا سکتا تھا۔ میزائل، میزائل سے ٹکرا سکتا تھا۔ نفرت کا جواب نفرت سے دیا جا سکتا تھا۔ اشتعال کو پالیسی بنایا جا سکتا تھا، مگر سرزمینِ حرمین شریفین کے مقدس پاسبانوں نے امن کی خواہش کو اولیت دی۔ نفرت کے بجائے محبت کو شعار بنایا۔ جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دی۔ اختلاف کے بجائے اتفاق کی پالیسی اپنائی۔ تقسیم کے بجائے تعاون کا درس دیا۔ اسی صبر و تحمل کی لازوال پالیسی کا نتیجہ ہے کہ جنگ بھی بند ہو گئی، امن بھی ممکن ہوا، مسلم امّہ کا اتحاد بھی قائم رہا اور دیارِ حرمین کا پرچم پہلے سے بلند تر ہو گیا۔ اس تنازعے میں سعودی قیادت کی جانب سے دنیا کو سفارت کاری کا نیا سبق دیا گیا، ایسا سبق جس کی اساس حوصلے، ہمت، تحمل اور تدبر پر مبنی تھی۔

سعودی قیادت نے ایران امریکا تنازعے کو مسلم امّہ کا اختلاف نہ بننے دیا، لیکن ایک لمحے کو سوچیے کہ اگر جارح ملک اپنی جارحیت سے باز نہ آتا، اگر ایران کے گلف پر حملے جاری رہتے، اگر اسرائیل کی سازش کامیاب ہونے لگتی اور مسلم امّہ کو ایران و عرب میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا مرحلہ درپیش ہوتا تو ساری امّہ، تمام مسلمان ممالک ایک آواز ہو کر سعودی پرچم تلے جمع ہو جاتے۔ اس سلسلے میں نہ کسی مسلمان کو کوئی تامل ہوتا، نہ کسی مسلمان ملک کی جانب سے کوئی تاخیر ہوتی۔

یہ بات بہت اہم ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ایک دفاعی معاہدہ ہے۔ پاکستان نے اس سرزمینِ مقدس کی حفاظت کی قسم کھائی ہے، لیکن یہ دفاعی معاہدہ اہم ضرور ہے، مگر اس سے زیادہ اہم وہ عقیدت ہے جو سارے پاکستان کو عالمِ اسلام کے روحانی مرکز سے ہے۔ اس محبت و عقیدت کے لیے نہ کسی معاہدے کی ضرورت ہے، نہ کسی پیمان کی، نہ کسی کی منظوری درکار ہے، نہ کسی کے دستخط اہم ہیں۔ یہ معاہدہ پاکستانیوں کے دلوں کا معاہدہ ہے۔

سعودی عرب سے پاکستان کی عقیدت کو کسی دفاعی معاہدے کی تائید کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستانیوں کے دل اس سرزمینِ حجاز کے چپے چپے کے لیے دھڑکتے ہیں۔ ہماری ساری امنگوں اور محبتوں کا مرکز یہی دیارِ مقدس ہے۔ ہماری سوچوں اور عقیدتوں کا محور بھی یہی خاکِ حرم ہے۔ یہی ہماری کل سوچ، یہی ہماری کل خواہش ہے۔ یہی ہماری طاقت، یہی ہماری توانائی ہے۔ یہی ہمارا راستہ ہے، یہی ہماری منزل ہے۔

تو اگر ایسا کٹھن فیصلہ مسلم امّہ کو درپیش ہوتا تو پاکستان پر کیا موقوف، پوری امت کلمۂ طیبہ کے سائے تلے جمع ہوتی۔ اپنی محبتوں کا اظہار کرتی۔ اپنی عقیدتوں کا خراج پیش کرتی۔

کچھ معاہدے ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے کاغذ اور قلم کی حاجت نہیں ہوتی، جن کے لیے کسی تائید اور تردد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ معاہدے دلوں کے معاہدے ہوتے ہیں۔ یہ عشق کا معاملہ ہوتا ہے۔ ہم اس سرزمینِ نبوت کا ذکر کر رہے ہیں کہ جس کا ذکر آنے پر تمام مسلمانوں کی پلکیں آنسوؤں سے وضو کرتی ہیں۔ اگر اس سرزمینِ وحی کے دفاع کا موقع آتا تو یقین مانیے، ہر مسلمان کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا تھا، اس لیے کہ یہ موقع اس کی ساری زیست کا ثمر ہوتا۔ اس کی زندگی کی معراج ہوتا۔ سرزمینِ توحید کا دفاع اس کا سب سے بڑا اعزاز ہوتا۔ یہی اسکا رستہ یہی اسکی منزل ہوتا ۔ یہی اس کی دنیا یہی اس کا دین ہوتا۔

 

Back to top button