سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا: وفاقی وزراء

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم کیاگیا ہے اور بین الاقوامی برادری نے اس معاہدے کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کو تقویت بخشی ہے۔
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا،کیوں کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ طور پر طے پانے والا بین الاقوامی معاہدہ ہے۔
وفاقی وزیر عطا تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہےکہ پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے، اس لیے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔
عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا جارہا ہے،جس میں دنیا بھر سے آبی وسائل کے ماہرین شریک ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس سیمینار کے انعقاد سے نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مزید تقویت ملی ہے بلکہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے بیانیے کو بھی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھایاگیا ہے اور پاکستان اپنے حصے کے پانی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرےگا۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاکہ پاکستان ماضی میں تباہ کن سیلابوں کا سامنا کرچکا ہے، جب کہ ملک کی معیشت اور لاکھوں افراد کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے، جس کا انحصار پانی پر ہے۔
وزیر موسمیاتی تبدیلی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتےہوئے کہاکہ وہ پاکستان کےخلاف آبی دہشت گردی کرنا چاہتے ہیں،تاہم پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کےلیے ہرممکن اقدام کرےگا۔
مصدق ملک نے کہاکہ ہم اعلان کرچکے ہیں،جو پانی پر ہاتھ ڈالےگا تو ہاتھ کاٹ دیں گے، پاکستان واضح کر چکا ہے کہ اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔حق اور انصاف کےلیے ڈٹ جانا پاکستان کی روایت ہے اور ملک اپنے قومی مفادات کے تحفظ کےلیے ہرسطح پر آواز بلند کرتا رہےگا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس بھی پاکستان نے ثابت کیا تھاکہ اگر کوئی ملک ہماری خودمختاری پر ہاتھ ڈالےگا تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور اب عالمی برادری کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت کسی بھی ملک کو دوسرے ملک کا پانی روکنے کی اجازت دی جاسکتی ہے یا نہیں۔
پیپلزپارٹی کی گلگت بلتستان حکومت کو درپیش بڑے چیلنجز کیا؟
ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے جاری بین الاقوامی کانفرنس کےدوسرے روز مکمل سیشن جسٹس اینڈ رائٹس کے موضوع پر منعقد ہوگا،جس میں آبی حقوق اور بین الاقوامی قانونی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی جائےگی۔
