میاں اور چودھری کا یارانہ، گواہ تھا جس کا ایک زمانہ

یہ غالباً نوے کی دہائی کی بات ہے جب لاہور میں دو ہی سیاستدانوں کا چرچا تھا، ایک میاں صاحب اور ایک چودھری صاحب۔۔نوابزادہ نصراللٰہ کی بیٹھک اور قاضی حسین احمد کی ”منصوری سیاست“ کا ابھی یہاں تذکرہ نہیں کرتے۔
تو ذکر ہو رہا تھا میاں صاحب یعنی نواز شریف کا، جو سیاست کے اکھاڑے میں اپنی کاروباری مہارت اور ذرا وکھری ٹائپ کے داؤ پیچ سے بڑے سے بڑے پہلوان کو چت کر رہے تھے۔ دوسری طرف چودھری شجاعت حسین بھی اپنی وضع دار اور ڈیرہ ٹائپ سیاست کی وجہ سے ایک الگ شناخت رکھتے تھے۔ ان کی مہمان نوازی ضرب المثل تھی، جو ایک بار ان کے ڈیرے پر آ جاتا ”روٹی شوٹی“ کھائے بغیر باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ وہ سیاستدان ہوں، جرنیل ہوں، جج ہوں یا صحافی۔۔ان کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے رہتے۔
اس دور میں کون اقتدار کی ریس میں شامل ہو گا، کسے باہر کرنا ہے؟ کون فیورٹ ہے اور کسے دلاسہ دینا ہے؟ مطلب کسے ہری اور کسے لال جھنڈی دکھانی ہے؟ سب مسلم لیگ کے اجلاسوں میں طے کیا جاتا اور عام طور پر یہ اجلاس چودھری صاحب کے ڈیرے پر ہی منعقد ہوتے۔ ان کے گھر کے در و دیوار، اس دور میں بننے اور ٹوٹنے والی کتنی ہی حکومتوں کے گواہ ہیں۔
اگر نواز شریف اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے وزارت اعلیٰ کے شوق اور شجاعت حسین پرویز الہیٰ کے آنسو نظر انداز کر دیتے تو میاں اور چودھری کی یہ جوڑی سیاست میں تہلکہ تو ضرو مچا دیتی۔
دراصل اقتدار کی پاور گیم کی لت ہی ایسی ہے کہ بھائی کو بھائی سے لڑوا دیتی ہے، یہ تو پھر دو مختلف خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے جن کے اپنے اپنے ”چاؤ چونچلے“ تھے۔
ورنہ شجاعت حسین ہی نہیں بردباری، تحمل مزاجی اور وضع داری میں نواز شریف بھی کسی سے کم نہیں تھے۔۔مگر سیاست بڑی بے رحم ہے، یہ کسی تعلق اور رشتہ داری کو خاطر میں نہیں لاتی۔ دونوں خاندانوں میں اقتدار کی جنگ ایسی چھڑی کہ مسلم لیگ ہی بکھر گئی۔۔جب چودھری صاحب نے دیکھا کی کہ اقتدار کا ”ہما“ میاں صاحب کی منڈیر سے اُڑنے کے لئے تیار نہیں تو انھوں نے غیر مرئی قوتوں رابطہ کیا اور ہر وہ اقدام اٹھایا جو انھیں سیاست سے دور اور اسٹیبلشمنٹ کے قریب لے گیا۔ اور پھر مسلم لیگ دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی، مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق۔۔جماعت کیا بکھری، یارانہ بھی جاتا رہا۔
لیکن اتنا ضرور ہوا کہ شجاعت حسین نے وزارت عظمیٰ کا مزہ لے لیا اور پرویز الہیٰ کو بار بار بنجاب۔۔
یہ اور بات ہے کہ چھوٹے چودھری صاحب نے سیاست کے طفل مکتب، اپنے لالچی بیٹے کے ساتھ مل کر پنجاب میں وہ غدر مچایا کہ نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی اور ان کی ٹیم آج تک اس گند کو سمیٹ رہی ہے۔۔
خیر پنجاب کے دو بڑے ایک بار پھر مل بیٹھے ہیں، لیکن نہ وہ پہلے جیسا رنگ روپ ہے اور نہ وہ دم خم۔۔کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف اور شجاعت حسین کا یارانہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتا اگر
اقتدار کی رسہ کشی پنجاب کے ان لیجنڈ سیاستدانوں کو ایک دوسرے سے

کیاپاکستانی سیاست میں سب سے اہم عنصر فوج ہے؟

یوں جُدا نہ کرتی!!

Back to top button