سہیل آفریدی کی کے پی بھلاکرپنجاب میں ورکرزجگانے کی کوشش

پی ٹی آئی قیادت نے مسلسل ناکام ہوتی ہوئی احتجاجی حکمتِ عملی کے بعد ایک خطرناک کھیل کھیلتے ہوئے پنجاب میں پختون نوجوانوں کو متحرک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ دورہ لاہور کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق وزیراعلیٰ نے اپنے دورے کے دوران خاص طور پر ان علاقوں کا رخ کیا جہاں پختون آبادی کی بڑی تعداد مقیم ہے، جن میں لبرٹی مارکیٹ اور اس کے اطراف کی مارکیٹس، لنڈا بازار اور نولکھا بازار شامل ہیں۔ مزید برآں، لاہور میں ان کی رات گئے ہونے والی خفیہ ملاقاتوں میں بھی پختون برادری کے نمایاں افراد شریک تھے۔ان حقائق کی روشنی میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مستقبل قریب میں اگر تحریکِ انصاف کی جانب سے کوئی احتجاجی تحریک شروع کی جاتی ہے تو لاہور شہر یا اس کے گردونواح سے نکلنے والے مظاہرین میں پختونوں کی نمایاں تعداد شامل ہوگی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پنجاب اور بالخصوص لاہور کی پارٹی قیادت کارکنان کو سڑکوں پر لانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ حکومتی دباؤ، گرفتاریوں اور مقدمات کے خوف کی وجہ سے کارکنان تو درکنار، پنجاب میں پارٹی کے منتخب اراکینِ اسمبلی بھی احتجاج میں حصہ لینے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ جس کے بعد اب پی ٹی آئی قیادت نے لاہور میں مقیم پختون آبادی کو احتجاجی تحریک کے لیے سرگرم کرنے کی حکمتِ عملی تیار کر لی ہے۔

مبصرین کے مطابق لاہور کے دورے کے دوران سہیل آفریدی جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے وہ انہوں نے پنجاب حکومت کی دوراندیش پالیسی اور بڑے عقل والوں کے کہنے پر بڑے آرام سے حاصل کرلیے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کو لاہور لانے کا مقصد سیاسی تھا پی ٹی آئی دیکھنا چاہتی تھی کہ اس وقت لاہور میں پارٹی کی کیا پوزیشن ہے اور کیا سہیل آفریدی کے لیے ورکرز نکلتے بھی ہیں یا نہیں۔ ’یہ دورہ ایک سیاسی پتّا تھا جس کے ذریعے معلوم کرنا تھا کہ کیا مستقبل میں سہیل آفریدی کو پوسٹر بوائے کے طور پر میدان میں اتارا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پنجاب میں قیادت کے روپوش ہونے سے ورکرز مایوس تھے سہیل آفریدی کے دورے کا مقصد اس مایوسی کو دور کرنا اور ورکرز کو دوبارہ فعال کرنا تھا۔

مبصرین کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل نے ایک ایسے وقت میں لاہور کا 3 روزہ دورہ کیا ہے جب پنجاب کے اہم پارٹی رہنما یا تو قید میں ہیں یا روپوش ہیں جبکہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیاں بھی تقریباً ختم ہو چکی تھیں۔ ایسے میں سہیل آفریدی لاہور کا دورہ کر کے پارٹی ورکرز کو یہ احساس دلانے میں کامیاب رہے ہیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں، عمرانڈو تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کے دورے سے پی ٹی آئی کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اگر لاہور میں سیاسی سرگرمیاں شروع کی جائیں تو ورکرز نکلنے کے لیے تیار ہیں۔

KPKحکومت کا بھنگ کی کاشت سے معیشت سنبھالنے کا بھنگی منصوبہ

تاہم پنجاب حکومت اس بیانیے کو یکسر مسترد کرتی نظر آتی ہے۔ وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ’’پاکستان کا سوئٹزرلینڈ‘‘ دیکھنے لاہور آئے تھے، مگر لاہور کی روشن بتیاں، بہتر انفراسٹرکچر اور پنجاب میں ہونے والی ترقی دیکھ کر وہ دم دبا کر بھاگ گئے ہیں۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا یہ دورہ کسی سیاسی کامیابی یا عوامی پذیرائی کے بغیر ختم ہوا، کیونکہ لاہور کے عوام نے پی ٹی آئی کے ریاست مخالف بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق تحریکِ انصاف نہ صرف پنجاب میں اپنی سیاسی ساکھ کھو چکی ہے بلکہ اب پنجاب کے عوام ان کے جھوٹے بیانیوں پر بھی اعتیبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ لاہور میں پی ٹی آئی کے لیے نہ عوامی حمایت موجود ہے اور نہ ہی کارکنان سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہیں، اسی لیے ایسے دوروں سے محض وقتی سرخیاں تو بن سکتی ہیں مگر ان سے زمینی حقائق کو تبدیل کرنا ممکن نہیں۔

Back to top button