آفریدی حکومت کا بھنگ کی کاشت سے معیشت سنوارنے کا منصوبہ

خیبرپختونخوا میں قائم پی ٹی آئی حکومت نے اپنے قائد عمران خان کے وژن پر عمل کرتے ہوئے بھنگ کے ذریعے صوبے کی معیشت کی بحالی کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ سہیل آفریدی نے اپنے پیشرو علی امین گنڈاپور کے راستے پر چلتے ہوئے بنیادی سہولیات زندگی سے محروم، بدامنی، انتہا پسندی اور دہشتگردی میں جکڑی عوام کو ریلیف دینے کے نام پر وسیع تر قومی مفاد میں صوبے میں بھنگ کی کاشت کو ترویج دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے بھنگ کی کاشت کی لائسنس فیس 15 لاکھ روپے سے کم کر کے 10 لاکھ روپے کر دی ہے جبکہ پراسسنگ فیس چھ لاکھ روپے سے کم کر کے پانچ لاکھ روپے کر دی ہے جبکہ بھنگ پر ایکسائز ڈیوٹی ختم کر کے اس کی پراسسنگ فیس سات لاکھ روپے سے کم کر کے پانچ لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں مرغیاں، بکریاں اور کٹے پال کر معیشت سنوارنے کے منصوبے بنانے والے کپتان کے ویژن کا اختتام اب خیبر پختونخوا میں بھنگ کی کاشت سے صوبے کے عوام کی قسمت سنوارنے کے بھنگ بھرے خواب پر ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے ماضی کے منصوبوں کی طرح خیبرپختونخوا میں جنگلی بھنگ کی کاشت کو فروغ دے کر سالانہ اربوں ڈالرز اکٹھے کرنے کا آفریدی سرکار کا منصوبہ بھی خیالی پلاؤ پکانے سے کم نہیں ہے۔ تاہم حکام کے مطابق بھنگ کی کاشت سے جہاں صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا وہیں عوام کو سستی صحت کی سہولیات بھی میسر آئینگی کیونکہ بھنگ سے ادویات کے ساتھ ساتھ مختلف کارآمد مصنوعات بھی بنائی جاتی ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے میں بھنگ کی کاشت کے فروغ کیلئے کئے جانے والے اقدامات نے ناقدین کو صوبائی حکومت پر تنقید کا نیا جواز فراہم کر دیا۔ اس وقت سوشل میڈیا صارفین دو گروپوں میں تقسیم ہیں جن میں سے ایک گروپ بھنگ کے استعمال اور اس کی ‘افادیت’ پر دلائل دیتا نظر آ رہا ہے جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی کے ناقدین اس فیصلے پر طنزیہ جملے بازی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بھنگ کاشت کر کے صوبے کی معیشت سنبھالنے کا منصوبہ تنقید اور مذاق کی زد میں ہےسوشل میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے ایک صارف ارم غنی کا کہنا ہے کہ انڈوں اور کٹوں کے بعد اب پی ٹی آئی بھنگ سے صوبے کے حالات بہتر بنانے کیلئے میدان میں ہے‘کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایسے بھی عوام کے حالات بدلے جا سکتے ہیں۔ یہ ہوتا ہے لیڈر اور یہ ہوتا ہے اسکا ویژن۔’ ایک اور صارف میمونہ مشتاق نے فقرہ کسا کہ ’پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاجی مارچ اور دھرنوں میں جوسبز باغ دکھائے گئے تھے وہ دراصل بھنگ کے ہی تھے۔ ندیم نامی صارف نے لکھا کہ ‘مرغی انڈوں کے بعد ڈوبتی معیشت کو بھنگ کا سہارا۔ ایک اور صارف شعیب ملک نے لکھا کہ ‘بدامنی، لاقانونیت اور شرپسندی کی ٹینشن اب ختم، بھنگ پیو اور سو جاؤ، تمام غم بھول جاو۔ جمیل بخش نامی صارف نے لکھا کہ کہ بالآخر ثابت ہوا کہ آفریدی سرکار اصل میں بھنگیوں کی حکومت ہے اس لئے اس کو صوبے کے معاشی مسائل کا حل بھی بھنگ کی کاشت میں ہی نظر آیا ہے۔
شہزاد اقبال نامی ایک صارف نے لکھا ’اب ہم ٹی وی پر کچھ یوں سنا کریں گے: بھنگی کاشت کاروں کے نام، وزیر اعلی کا اہم پیغام۔‘ سہیل اختر نامی صارف کو تو امتحانی پرچوں کی بھی فکر پڑگئی۔ انہوں نے لکھا کہ پیپروں میں ایسے سوالات آئیں گے ’سوال نمبر 4: پاکستان میں بھنگ کی کاشت کے عظیم منصوبے کی بنیاد کس نے اور کب رکھی؟‘ ایک اور صارف ندیم اقبال نے لکھا کہ ‘بھنگیوں کی توپ کے لیے مشہور لاہور شہر کے پرانے باسی عمران خان کی پارٹی نے بالآخر بھنگ کے ذریعے ملکی معیشت سنوارنے کا انوکھا حل ڈھونڈ ہی لیا۔ اسے کہتے ہیں ویژن اور تخیل کی پرواز۔
تاہم خیبرپختونخوا حکومت کا اس منصوبے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ بھنگ کا پودا لباس، کاسمیٹکس، پرنٹر کی روشنائی، لکڑی کے حفاظتی سامان، ڈیٹرجنٹ، صابن اور روشنی کے لیے استعمال ہونے والا تیل بنانے کے کام بھی آتا ہے۔ بھنگ کینسر سمیت ان دیگر بیماریوں کی ادویات بنانے کے لیے استعمال ہوگی جن میں مریض شدید درد کے شکار ہوجاتے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ چین میں 40 ہزار ایکڑ پر بھنگ کاشت ہو رہی ہے جبکہ کینیڈا میں ایک لاکھ ایکڑ پر بھنگ کاشت کی جا رہی ہے لہٰذا پاکستان میں ایسا کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ حالانکہ دنیا بھر میں بھنگ کی کاشت کا بزنس 25 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بھنگ ٹیکسٹائل کی صنعت میں بھی استعمال ہوگی کیونکہ کپاس کی کاشت کم ہو رہی ہے، اس لیے بھنگ کو اس کے متبادل کے طور استعمال کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ بھنگ کی سرکاری سطح پر کاشت سے صوبے میں بھنگیوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔
فیض کا عمران کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا امکان کیوں نہیں؟
واضح رہے کہ بھنگ کے پودے میں سینکڑوں کیمیائی اجزا ہوتے ہیں جن میں سے کچھ سرور کی کیفیت پیدا کرتے ہیں، لہذا مہذب ممالک میں اسے خطرناک نشہ آور مواد قرار دے کر اس پر تحقیق کا دائرہ محدود کیا جا رہا ہے تاہم وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے میں باقاعدہ بھنگ کی کاشت کے فروغ کیلئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھانے کی منظوری دے دی ہے۔
