سہیل وڑائچ نے سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے حل تجویز کر دیا

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ سیاسی بحران دراصل ہمارے اپنے اجتماعی طرزِ حکمرانی اور فیصلوں کا نتیجہ ہے اس لیے ملک کے وسیع تر مفاد میں تمام اختلافی معاملات پر اتفاقِ رائے ناگزیر ہے تاکہ اس بحران سے نکلا جا سکے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بابا فرید الدین گنج شکر نے روٹی کو بنیادی ضرورت قرار دیا تھا، جبکہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا نعرہ روٹی، کپڑا اور مکان بھی دراصل عوامی خوشحالی کی علامت تھا۔ ان کے مطابق روٹی یہاں معیشت کی علامت ہے اور چولہا حکمرانی اور نظام کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر چولہا درست نہ ہو تو روٹی بھی یا تو کچی ہو گی یا جل جائے گی۔

انہوں نے سیاست کو سب سے بڑا تنور قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بننے والی سیاسی پالیسیاں اکثر متوازن نہیں ہوتیں۔ کبھی فیصلے ناپختہ ہوتے ہیں اور کبھی حد سے زیادہ سخت۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سیاسی جماعتیں آپس میں ٹکراؤ کا شکار رہتی ہیں اور ملک کا ماحول کشیدہ ہو جاتا ہے۔ ان کے بقول جب سیاست میں نفرت، تعصب اور مقابلہ بازی بڑھتی ہے تو پورا نظام مزید گرم اور غیر مستحکم ہو جاتا ہے۔

 

سہیل وڑائچ نے کہا کہ ہمارے عوام کو بار بار ایسے فیصلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے نتائج ان کے لیے تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ اگر غلط پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے بھی انہیں قبول کیا جائے تو نقصان خود عوام ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی اور معاشی فیصلوں میں بہتری لائی جائے تاکہ جلی یا کچی روٹی جیسی صورتحال پیدا نہ ہو۔ معاشی حوالے سے سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ملک کا معاشی چولہا اس وقت کمزور پڑ چکا ہے۔ ہمارس زرعی شعبہ مشکلات کا شکار ہے، گندم اور آلو کے کاشتکار پریشان ہیں، جبکہ صنعت بھی مطلوبہ رفتار سے نہیں چل رہی۔ ان کے مطابق اگر کسان خوشحال نہ ہوں تو اناج کی پیداوار متاثر ہوگی اور اگر صنعت فعال نہ ہو تو روزگار اور ترقی کا عمل رک جائے گا۔

 

انہوں نے مشرقِ وسطیٰ یا مغربی ممالک سے بڑی معاشی مدد کی امیدوں کو بھی حقیقت پسندانہ تناظر میں دیکھنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ آج کی دنیا میں ہر ملک پہلے اپنے مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو اپنی معیشت مضبوط بنانے کے لیے اندرونی وسائل، مقامی زراعت اور صنعت پر توجہ دینا ہوگی۔

کالم میں تعلیم اور ٹیکنالوجی کو بھی مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق جدید دنیا میں حکومت کا کردار براہِ راست کاروبار چلانے کے بجائے قواعد و ضوابط طے کرنا اور معیار کی نگرانی کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی نظام میں واضح تفاوت ہے؛ مہنگے نجی ادارے ایک محدود طبقے تک رسائی رکھتے ہیں جبکہ متوسط اور نچلا طبقہ سرکاری نظام تک محدود ہے۔ ان کے خیال میں جب تک تعلیم اور ٹیکنالوجی میں سنجیدہ اصلاحات نہیں کی جاتیں، ملک عالمی مقابلے میں پیچھے ہی رہے گا۔

 

انہوں نے بیرونی قرضوں، بڑھتی ہوئی مالی ذمہ داریوں اور معاشی سست روی کو بھی سنگین چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق ملک ایک بحران سے نکل کر دوسرے بحران میں داخل ہو جاتا ہے اور معیشت میں وہ روانی نظر نہیں آتی جو ترقی کے لیے ضروری ہے۔

آصف زرداری نے پنجاب کے دورے میں عمران کا رگڑا کیوں نکالا؟

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ملک کی معاشی بہتری کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق تمام سیاسی قوتوں کو ایک قومی ایجنڈے پر اکٹھا ہو کر معیشت کی بحالی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ جیسے ہم خود ہوں گے ویسا ہی ہمارا نظام اور ویسی ہی ہماری معیشت ہوگی  یعنی جیسا چولہا ہو گا ویسی ہی روٹی پکے گی۔

 

Back to top button