سپین نے ایران کیخلاف جنگ میں تعاون کا امریکی دعویٰ مسترد کردیا

سپین نے ایران کے خلاف امریکی جنگ میں تعاون کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپین کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور حکومت اب بھی اپنے سابقہ مؤقف پر قائم ہے۔
تفصیلات کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرو لائن لیویٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ سپین نے ایران کے خلاف امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم اسپین کی حکومت نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ان کے خیال میں سپین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ پیغام کو واضح طور پر سن لیا ہے اور گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
ایران پر حملہ نہ کرتے تو دو ہفتوں میں اس کے پاس ایٹم بم ہوتا : صدر ٹرمپ
انہوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی کہ اگر امریکا اسپین پر تجارتی پابندیاں عائد کرتا ہے تو یورپی یونین کی رکنیت کے تناظر میں یہ اقدام کس طرح ممکن ہوگا۔ لیویٹ کے مطابق امریکی فوج سپین میں اپنے ہم منصب اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور صدر ٹرمپ کو توقع ہے کہ تمام یورپی اتحادی امریکا کے ساتھ تعاون کریں گے، کیونکہ ان کے بقول ایرانی حکومت نہ صرف امریکا بلکہ یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ سمجھی جاتی ہے۔
دوسری جانب سپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے ایک مقامی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسپین کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور حکومت اب بھی اپنے سابقہ مؤقف پر قائم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپین ایران کے خلاف کسی جنگی کارروائی میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا اور یہ پالیسی بدستور برقرار ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا
یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپین کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا تو امریکا اس پر تجارتی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
اس بیان کے جواب میں سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں کہا تھا کہ سپین کسی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بنے گا جو عالمی سطح پر نقصان دہ ثابت ہو یا ملک کے قومی مفادات اور اقدار کے خلاف ہو، چاہے اس فیصلے کے نتیجے میں اسے کسی بھی قسم کے دباؤ یا ردعمل کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔
