قومی اسمبلی : اسپیکر کا عمر ایوب کو بولنے کی اجازت دینے سے انکار

قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کےلیے اسپیکر ایاز صادق سے درخواست کی جس پر اسپیکر نے وقفۂ سوالات میں پوائنٹ آف آرڈر کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے ارکان نے بات کرنےکی اجازت نہ ملنے پر احتجاج شروع کردیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑدیں۔اپوزیشن اراکین کے نعروں سے ایوان گونجنے لگا۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہاکہ ہاؤس بزنس ایڈوائزری میں طے ہوا تھا کہ نکتۂ اعتراض وقفۂ سوالات کے دوران نہیں ہوگا، وقفۂ سوالات کے دوران نکتۂ اعتراض کی اجازت نہیں دوں گا،یہی چیز ہاؤس بزنس میں طےہوئی تھی۔
اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران وقفۂ سوالات جاری رہا،اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کے کاپیاں پھاڑ دیں۔
وزارت داخلہ کے سوالات کےجوابات نہ آنے پر اسپیکر نے برہمی کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ وزارت داخلہ سے کون افسر آیا ہے؟
افغانستان سے اسلحے کی بڑی کھیپ پاکستان اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
وزارت داخلہ کے افسران کے گیلری میں موجود نہ ہونےپر اسپیکر قومی اسمبلی نے برہمی کا اظہار کیا اور ڈی جی سی ڈی اے کےموجود ہونےپر تعجب کا بھی اظہار کیا۔
