چینی افغانستان اسمگل نہیں بلکہ برآمد ہو رہی ہے : وفاقی وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کاکہنا ہےکہ بارڈر سے چینی افغانستان اسمگل نہیں ہورہی بلکہ برآمد ہورہی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ چینی افغانستان اسمگل نہیں ہوئی بلکہ برآمد کی گئی ہےجس کا بہت فائدہ ہوا ہے،انہوں کہاکہ رواں سال ملک میں 5.7 ملین ٹن چینی پیدا ہوئی ہے اور اگر گزشتہ سال کے ذخائر کو ملا لیا جائےتو بطور حکومت ہم پر اعتماد ہیں کہ یہ مقدار رواں سیزن میں ملکی ضروریات پوری کرنے کےلیے کافی ہوگی۔
محمد اورنگزیب کہا کہ شوگر کی مانیٹرنگ کےلیے ایف بی آر نے مکینزم تیار کیا ہے،جب سے مانیٹرنگ سسٹم آیا ہے 6 شوگر ملوں کو سیل کیاگیا ہے، مانیٹرنگ سسٹم آنے کےبعد شوگر ملوں کو جرمانے ہوئے،اس سال 24 بلین سیلز ٹیکس شوگر ملوں سے اکٹھا ہوا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاکہ اب تک 6 شوگر ملز سیل اور ساڑھے 12 کروڑ روپے کےجرمانے کیے گئے، چینی کی اس سال 5.7 ملین ٹن پیداوار ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فروری میں 3 ارب 10کروڑ ڈالرز کی ترسیلات زر پاکستانیوں نے بھجوائیں، گزشتہ سال اسٹاک مارکیٹ میں 7 آئی پی اوز ہوئے ہیں۔
پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات : آئی ایم ایف بجلی کی قیمت کم کرنے پر راضی
انہوں نے کہاکہ اسٹاک ایکسچینج کا اتار چڑھاؤ اپنی جگہ لیکن کچھ چیزیں اسٹرکچرل ہوتی ہیں، 2025 میں مزید بہتری آئےگی، پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کےلیے پر عزم ہیں،تجارتی خسارے میں نمایاں کمی آئی ہے۔
انہوں نے بتایاکہ تمام سرویز کاروبار اور صارفین کے اعتماد میں اضافےکی نشاندہی کر رہے ہیں،صنعتی سرگرمیوں میں تیزی بھی اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے۔
