جتنابونس لیناہے لےلو،کمپنی کے مالک نے نوٹوں کاڈھیرلگادیا

جتنی رقم اٹھا سکتے ہو اٹھا لو، کمپنی کے مالک نے ملازمین میں انوکھے انداز سے بونس تقسیم کر دیا۔
تصور کریں کہ آپ کے دفتر میں ایک میز پر کروڑوں بلکہ اربوں روپے بچھا دیے جائیں اور کہا جائے کہ مخصوص وقت تک جتنی رقم اٹھا سکتے ہیں، اٹھا لیں تو پھر؟
یقین کرنا مشکل ہوگا مگر چین میں ایک کمپنی کے مالک نے اس انوکھے خیال کو حقیقت بنا دیا۔کمپنی کے مالک نے ملازمین میں 18 کروڑ یوآن (7 ارب پاکستانی روپے سے زائد) روپے تقسیم کیے۔
ہینان کوانگ شان کرین کو لمیٹڈ کمپنی کو 27 کروڑ یوآن کا کا منافع ہوا تھا۔
اس کمپنی کی سالانہ تقریب کے موقع پر 6 کروڑ (2 ارب پاکستانی روپے سے زائد) یوآن نقد بونس کے طور پر تقسیم کیے گئے۔
ایونٹ کے موقع پر 7 ہزار کے قریب افراد کے لیے 800 میزیں لگائی گئیں۔
کمپنی کے ملازمین کو اسٹیج پر بلا کر انعامات دیے گئے جبکہ دیگر کو کہا گیا کہ میزوں پر موجود جتنی رقم وہ اٹھا سکتے ہیں، اٹھا کر گھر لے جائیں۔
میزوں پر نوٹوں کے بنڈل موجود تھے اور انہیں مخصوص وقت تک رقم اٹھانے کا موقع دیا گیا۔
تقریب کے دوران کمپنی کے مالک چوئی پی جون نے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے کہا کہ ہم واشنگ مشینیں کیوں دے رہے ہیں، کیا آپ کو معلوم نہیں سونا کتنا مہنگا ہوگیا ہے، تو نقد رقم لائی جائے اور ہر ایک کو مزید 20 ہزار یوآن دیے جائیں۔
یہ کمپنی ستمبر 2002 میں قائم کی گئی تھی اور کرینیں تیار کرنے کے علاوہ دیگر مصنوعات تیار کرتی ہے اور 130 سے زائد ممالک میں اس کا کاروبار پھیلا ہوا ہے۔
چوئی پی جون نے اس سے قبل 2024 میں کمپنی کے ملازمین میں 17 کروڑ یوآن بونس کے طور پر تقسیم کیے تھے۔
مارچ 2025 میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر کمپنی نے 2 ہزار خواتین ملازمین میں 16 لاکھ یوآن تقسیم کیے۔
