پانی کے ذخائر میں حد سے زائد اضافہ، سیلاب کا خدشہ

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں پانی کے ذخائر میں خطرناک حد تک اضافے اور شدید بارشوں سے ممکنہ سیلاب کے پیشِ نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔

جنرل منیجر این ڈی ایم اے، زہرا حسن نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ تربیلا ڈیم اس وقت 98 فیصد بھر چکا ہے، اور اگلے 48 گھنٹوں میں شدید بارشوں کے باعث پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ کٹاریاں اور گوالمنڈی میں پانی کی سطح 15 فٹ تک بلند ہو چکی ہے، جب کہ کوہِ سلیمان کے آس پاس بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

آزاد کشمیر کے علاقوں نیلم، پونچھ اور باغ، اور خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور، چترال، دیر اور چارسدہ میں سیلابی خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب شاہ نے بتایا کہ موجودہ بارشوں کا سلسلہ 22 اگست تک جاری رہے گا، جس میں مزید شدت متوقع ہے۔ افغانستان کے ننگرہار اور قندھار کے علاقوں سے بارشوں کا ایک نیا سلسلہ پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے، جب کہ خلیج بنگال سے بھی ایک نیا سسٹم متوقع ہے۔ ان کے مطابق 22 اگست کے بعد بھی مون سون کے مزید تین سلسلے پاکستان پر اثر انداز ہوں گے۔

شمالی علاقہ جات اور پنجاب کے کئی علاقے شدید خطرات کی زد میں ہیں۔

ممبر آپریشنز این ڈی ایم اے بریگیڈیئر کامران نے میڈیا کو بتایا کہ موجودہ مون سون کے لیے تیاریوں کا آغاز فروری 2025 سے کیا گیا تھا۔ بونیر اور باجوڑ میں شدید تباہی کلاؤڈ برسٹ کے باعث ہوئی، اور اب تک دو روز میں 337 افراد جاں بحق اور 178 زخمی ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشنز کے لیے آرمی اور ایف سی کے ذریعے صوبوں کو وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، جب کہ وفاق کی جانب سے امدادی سامان کی دوسری کھیپ کل بونیر روانہ کی جائے گی۔

Back to top button