عاصم منیر اورجنرل باجوہ سمیت کئی جرنیلوں کے استاد:عرفان صدیقی

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے دیرینہ ساتھی اور معتمد خاص سمجھے جانے والے عرفان صدیقی کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ایک لمبے عرصے تک درس وتدریس سے وابستہ رہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل زبیر حیات، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود سمیت سینکڑوں سول، فوجی بیوروکریٹس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دینے والے ان گنت افراد معروف دانشور، کالم نگار، مصنف اور شاعر پروفیسر عرفان صدیقی کے شاگردوں میں شامل ہیں۔
جنرل عاصم منیر 1980 کی دہائی میں فیڈرل گورنمنٹ سرسید کالج راولپنڈی میں پری میڈیکل کے طالب علم تھے۔ پروفیسر عرفان صدیقی سے انہوں نے اردو کا مضمون پڑھا۔ دلچسپ اتفاق ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 1970 کی دہائی میں فیڈرل گورنمنٹ سرسید سکول میں زیرتعلیم رہے، انہوں نے بھی اُردو کی تعلیم عرفان صدیقی سے حاصل کی تھی۔ اسی طرح لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود بھی سرسید کالج سے تعلیم یافتہ ہیں اور عرفان صدیقی کے شاگرد رہے ہیں۔
عرفان صدیقی کا اصلی نام عرفان الحق صدیقی تھا لیکن وہ اپنے قلمی نام عرفان صدیقی کے نام سے زیادہ معروف اور جانے جاتے ہیں۔عرفان صدیقی جماعت اسلامی کے مرحوم رہنما اور دانشور نعیم صدیقی کے بھانجے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے پھوپھی زاد تھے۔ راولپنڈی کے مضافاتی علاقے چک بیلی خان روڈ پر واقع ایک گاؤں ڈھوک بُدہال میں 25 دسمبر 1949 کو پیدا ہونے والے عرفان صدیقی نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے سکول سے ہی حاصل کی۔ بعدازاں اُنہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
عرفان صدیقی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور ایک پرائمری اِسکول ٹیچر سے کیا، بعد ازاں ترقی کر کے ہائی اسکول اور اُس کے بعد سرسیّد کالج راولپنڈی میں اُردو کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ 18 سال تک ایف جی سر سید کالج راولپنڈی’’ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اسی طرح دو سال تعلیم کے سربراہ کے طور پر او ڈی ایف میں بھی خدمات سر انجام دیں۔بطور اُستاد کیریئر کے ایک طویل عرصے کے بعد اُنہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور مختلف اخبارات میں کالم لکھنے شروع کئے۔ 1997 میں جب پاکستان مسلم لیگ نواز برسرِ اقتدار آئی تو عرفان صدیقی کو اُس وقت کے صدرِ مملکت رفیق تارڑ کا پریس سیکریٹری اور تقریر نویس مقرر کیا گیا جہاں سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ اُن کے تعلق کا آغاز ہوا۔جس کے بعد تقریباً ساڑھے تین سال تک صدیقی صاحب پیشہ وارانہ صحافت سے الگ رہے۔
عرفان صدیقی نے 1990 میں پیشہ وارانہ صحافت کا آغاز مضمون نویسی سے کیا، وہ محمد صلاح الدین شہید کے ہفتہ وار میگزین ‘‘تکبیر ’’سے وابستہ ہوئے اس کے ساتھ ساتھ 1997 تک جنگ اخبار میں ‘‘نقش خیال’’ کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہے۔عرفان صدیقی ریڈیو پاکستان میں متکلم، فیچر رائٹر اور ڈراما نگار بھی رہے اور 100 سے زائد ایسے ریڈیو ڈرامے لکھے جنھیں عام عوام اور دانشوروں کی طرف سے وسیع پیمانے پر سراہا گیا.نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں عرفان صدیقی کو وزیر اعظم کا مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ مقرر کیا گیا جس کے بعد انھوں نے کالم لکھنا ترک کر دیا تھا. تاہم نواز شریف کی تقاریر عرفان صدیقی ہی لکھا کرتے تھے.
شہباز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں انہیں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی امور و میڈیا تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے سیاسی ابلاغ، قومی یکجہتی اور فکری پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کیا۔بعد ازاں وہ سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کے کام کو دیکھتے ہوئے انہیں پاکستان کے اعلیٰ سول اعزاز ہلالِ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
مسلم لیگ (ن) کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد سینیٹر عرفان صدیقی کا حکومتی امور میں عمل دخل بڑھ گیا۔ وہ خارجہ امور کی سینیٹ کمیٹی کے چیئرپرسن تھے جبکہ بزنس ایڈوائزری، ہیومن رائٹسس، انفارمیشن و براڈ کاسٹنگ، داخلہ اور منشیات کنٹرول سمیت مختلف کمیٹیوں کے رکن تھے۔عرفان صدیقی پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں حکمران جماعت کے پارلیمانی لیڈر بھی تھے
عرفان صدیقی نے اپنے سیاسی و صحافتی سفر میں مشکلات کا بھی سامنا کیا۔ 2019 میں عمران خان کے دور حکومت میں انھیں سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا جس پر ملک بھر کے صحافتی و ادبی حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنا گوکہ پاکستان میں ایک عام سی بات ہے لیکن عرفان صدیقی جن کی ساری زندگی کتاب اور قلم کے ساتھ گُزری، جن کے شاگردوں کا حلقہ خاصہ وسیع ہے جب اُنہیں اُس وقت 70 سال کی عمر میں ایک مجہول سے الزام کے تحت ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا تو معاشرتی سطح پر اِسے اساتذہ کی تحقیر سے تعبیر کیا گیا۔ ان کی گرفتاری اس بات کی علامت بن گئی کہ قلم کار اور اہلِ دانش کو اپنی رائے کے اظہار کی کس قدر بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
عرفان صدیقی کا شمار ان شخصیات میں ہوتا تھا جو ریاستی اداروں کے کردار پر نہایت سنجیدہ مگر متوازن رائے رکھتے تھے۔ وہ فوج اور سول قیادت کے درمیان ہم آہنگی کے حامی تھے، تاہم جب بھی انہیں ادارہ جاتی تجاوز یا سیاسی مداخلت محسوس ہوئی، وہ کھل کر اظہارِ خیال کرتے۔ ان کا نواز شریف سے دیرینہ تعلق ذاتی اعتماد، فکری ہم آہنگی اور جمہوری نظریے پر مبنی تھا۔ ان کے سیاسی و فکری موقف میں ہمیشہ ایک اصولی مزاحمت نظر آتی رہی۔
27ویں آئینی ترمیم، چیف جسٹس سے میدان میں آنے کا مطالبہ
زندگی کے آخری برسوں میں عرفان صدیقی قومی سیاست، بین الاقوامی تعلقات اور فکری مباحث پر اپنی تحریروں کے ذریعے متحرک رہے۔ نومبر 2025 میں طبیعت بگڑنے کے باعث وہ چند روز اسپتال میں زیرِ علاج رہے اور 10 نومبر 2025 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ عرفان صدیقی نے اپنی زندگی میں قلم، تدریس اور خدمتِ وطن کو یکجا کر کے ایک نادر مثال قائم کی۔عرفان صدیقی پاکستان کے سیاسی و فکری مباحثے میں اپنی نرم، نفیس اور باوقار تحریری اسلوب کے باعث منفرد مقام رکھتے تھے۔ ان کا شمار اُن لکھاریوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستانی صحافت کو وقار، شائستگی اور سنجیدگی بخشی۔
