عمرانڈوججزکاچیف جسٹس کوترامیم کے خلاف ڈٹ جانےکامشورہ

پارلیمنٹ کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام میں بڑی تبدیلیوں کی کوشش پر سپریم کورٹ کے دو حاضر سروس ججوں سمیت متعدد وکلا اور سابق ججوں نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی کے محافظ کی حیثیت سے واضح مؤقف اختیار کریں اور موجودہ حکومتی دباؤ کے پیشِ نظر فوری فل کورٹ اجلاس طلب کریں۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو لکھے گئے چھ صفحات پر مشتمل تفصیلی خط میں مجوزہ ترمیم کو عدلیہ کو کمزور کرنے کی سیاسی کوشش قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ چیف جسٹس کو حکومت کے سامنے ڈٹ کر یہ اصول طے کرنا چاہیے کہ عدلیہ سے متعلق کسی بھی ترمیم کو اعلیٰ عدلیہ سے مشاورت کے بغیر منظور نہ کیا جائے۔انہوں نے چیف جسٹس سے مخاطب ہوکر کہا:

“آپ صرف عدلیہ کے منتظم نہیں بلکہ اس کے محافظ بھی ہیں۔”جسٹس شاہ نے چیف جسٹس کو تجویز دی کہ وہ سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت اور تمام ہائی کورٹس کے ججز پر مشتمل فل کورٹ اجلاس یا مشترکہ کنونشن طلب کریں تاکہ عدلیہ کی اجتماعی پالیسی اور مؤقف واضح کیا جا سکے۔

جسٹس منصور علی شاہ کا اپنے خط میں مزید کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں عدلیہ کو قیادت، شفافیت اور ادارہ جاتی عزم کی ضرورت ہے۔ اگر چیف جسٹس کی سربراہی میں مشاورت شروع نہ کی گئی تو اسے خاموش منظوری اور آئینی ذمہ داری سے انحراف سمجھا جائے گا۔ جسٹس شاہ کا مجوزہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہنا ہےکہ آئینی عدالت کس آئینی خلا کو پُر کرے گی؟ آئینی عدالت کا کوئی حقیقی اصلاحی پس منظر نہیں، بلکہ اس کے ججز کے تقرر کے لیے کوئی آئینی طریقہ کار بھی طے نہیں، جس سے حکومت کو عدالتی عمل پر اثرانداز ہونے کا موقع ملے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کوئی عدالت وقتی سیاسی مقاصد پورے کر سکتی ہے، مگر یہ جمہوری نظام کو مستقل نقصان پہنچائے گی۔جسٹس شاہ نے مزید کہا کہ عدلیہ کی آزادی ججوں کی نہیں بلکہ عوام کی حفاظت ہے تاکہ طاقت کا بے جا استعمال نہ ہو۔“یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ چیف جسٹسادارے کے سربراہ کی حیثیت سے خطرے کی گھنٹی بجائیں، اس سے پہلے کہ عدلیہ کی آزادی ناقابلِ واپسی حد تک ختم ہو جائے۔”

جسٹس منصور علی شاہ کے بعد سپریم کورٹ کے ایک اور عمراندار جج جسٹس اطہر من اللہ نے بھی چیف جسٹس آف پاکستان کو سات صفحات پر مشتمل ایک علیحدہ خط لکھا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان کو 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق 8 نومبرکو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں سپریم کورٹ اکثر عوام کی بجائے مقتدر قوتوں کے ساتھ کھڑی ہوتی رہی ہے، ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی پھانسی عدلیہ کا ناقابل معافی جرم تھا، بےنظیر بھٹو، نواز شریف، مریم نواز کے خلاف کارروائیاں بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں جبکہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والا سلوک اسی جبر کے تسلسل کا حصہ ہے۔انہوں نے لکھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو عوامی اعتماد حاصل کرنے پر نشانہ بنایا گیا، بہادر ججز کے خط اور اعتراف سپریم کورٹ کے ضمیر پر بوجھ ہیں، ‏ہم سچ جانتے ہیں مگر صرف چائے خانوں میں سرگوشیوں تک محدود ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج کا اپنے خط میں مزید کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں بیرونی مداخلت اب کوئی راز نہیں، ایک کھلی حقیقت بن چکی، جو جج سچ بولتا ہے وہ انتقام کا نشانہ بنتا ہے، جو جج نہیں جھکتا، اس کے خلاف احتساب کا ہتھیار استعمال ہوتا ہے۔

نئی آئینی عدالت سپریم کورٹ کا کون کون سا اختیار چھین لے گی؟

اسی طرح سپریم کورٹ کے 38 سابق لاء کلرکس نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر فل کورٹ میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سابق لاء کلرکس کا چیف جسٹس کے نام لکھے گئے اپنے خط میں کہنا ہے کہ آج عدلیہ کو 2007 سے زیادہ خطرات لاحق ہیں، آپ کا ردعمل طے کرے گا کہ آپ کا نام تاریخ میں کیسے یاد رکھا جاتا ہے۔ آپ تاریخ میں سپریم کورٹ کا دفاع کرنے والے چیف جسٹس کے طور پر جانے جاتے ہیں یا اسے دفن کرنے والے کے طور پر۔ جبکہ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل فیصل صدیقی نے بھی سابق ججز کی تائید سے دو صفحات پر مشتمل ایک خط چیف جسٹس کو ارسال کیا ہے جس میں چیف جسٹس سے آئینی ترمیم بارے واضح موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ فیصل صدیقی نے اپنے خط میں لکھا کہ سپریم کورٹ اپنے قیام کے بعد آج سب سے بڑے خطرے سے دوچارہے، کوئی سول یا فوجی حکومت سپریم کورٹ کو اپنا ماتحت ادارہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی تاہم اب سپریم کورٹ کو ایک ایسی عدالت کے ماتحت کیا جا رہا ہے جس کے ججز کا تقرر حکومتی صوابدید پر منحصر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر چیف جسٹس نے غیرجانبداری یا قانون سازی میں عدم مداخلت کے بہانے سے اس مطالبے کو مسترد کیا، تو پھر انہیں یہ تحریری طور پر تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے آخری چیف جسٹس کے طور پر اس منصب کو ختم ہوتا دیکھنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

27ویں آئینی ترمیم بارے لاہور ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس عباد الرحمان لودھی کا کہنا ہے کہ اِس وقت انتظامیہ نے عدلیہ کو مکمل طور پر اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے، عدلیہ کی آزادی مکمل ختم ہو چکی ہے تاہم یہ پہلی بار نہیں عدلیہ اتنی مفلوج ہوئی ہو ہم نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب تمام حکومتی معاملات بینچ نمبر ون سے چلائے جاتے تھے۔’صبح تمام آئی جیز، ڈی آئی جیز، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے چیمبر میں حاضری دیتے، وہاں سے احکامات جاری ہوتے اور پھر بیورکریٹس بینچ نمبر ون میں پیش ہوتے اور ان کو بے عزت کیا جاتا۔‘انہوں نے کہاکہ جسٹس ثاقب نثار کے دور میں بھی یہی کچھ ہوا، عدلیہ کی جانب سے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا گیا جس کے بعد اب حکومت نے عدلیہ کے اختیارات محدود کر دئیے ہیں۔اب تو جو نئی وفاقی آئینی عدالت بننے جا رہی ہے اس میں صدر اور وزیراعظم مِل کر چیف جسٹس کا انتخاب کریں گے اور وہ آگے مزید 6 ججز کا انتخاب کرے گا۔’مطلب من پسند ججز لگائے جا سکیں گے، یہ عدالت آئین کی تشریحات کرے گی مطلب آئین حکومت کے تابع ہو جائے گا۔ باقی کی سپریم کورٹ کے پاس طلاق، نکاح، تجاوزات یہ والے مقدمات ہی رہ جائیں گے۔‘

 

Back to top button