تحریک انصاف انتخابات کیلئے امیدوار کہاں سے لائے گی؟

الیکشن کمیشن کی جانب سے جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کے انعقاد کو ہر صورت یقینی بنانے کے اعلان کے بعد سیاسی گہما گہمی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عام انتخابات کے واضح امکانات کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے سیاسی محاذ سنبھال لیے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے چئیرمین اٹک جیل میں قید ہیں جبکہ عمرانڈو عتاب سے بچنے کیلئے بلوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئندہ انتخابات میں ماضی کی دو بڑی سیاسی جماعتیں نون لیگ اور پیپلز پارٹی ہی مد مقابل ہونگی یا تحریک انصاف بھی سیاسی میدان میں اپنی موجودگی کو ثابت کرے گی؟
جہاں ایک طرف پاکستان مسلم لیگ نون نے پارٹی ٹکٹوں کیلئے درخواستیں طلب کرتے ہوئے الیکشن کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے وہیں دوسری جانب پارٹی نے منشور کی تیاری کا ٹاسک بھی دے دیا ہے جس کے بعد پارلیمانی بورڈ ٹکٹوں کی تقسیم کا عمل شروع کرے گا۔مسلم لیگ ن کی طرح پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق چاروں صوبوں میں پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیا ہے۔دوسری جانب سانحہ 9 مئی کے بعد عتاب کا شکار پاکستان تحریک انصاف نے تاحال ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے بورڈ تو تشکیل نہیں دیا لیکن انتخابات کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پارٹی کی مرکزی قیادت اس وقت جیل میں ہے، عمران خان کے علاوہ وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور پارٹی صدر چوہدری پرویز الہی بھی مختلف مقدمات میں گرفتار ہیں تاہم پارٹی کی کور کمیٹی عمران خان کی مشاورت کے بعد سیاسی حکمت عملی مرتب کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق تمام پی ٹی آئی رہنماؤں کو ملک بھر خصوصاً خیبر پختونخوا میں سیاسی طور پر متحرک ہونے کی ہدایات دے دی گئی ہیں جس کے بعد چند اضلاع میں رواں ماہ ورکرز کنونشن بھی شیڈول کردیے گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، ’پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ اپنے حلقوں میں سیاسی طور پر متحرک ہوں، اس کے علاوہ روپوش رہنماؤں کو بھی منظر عام پر آنے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم حالیہ دنوں میں پارٹی پر نئے کریک ڈاؤن کے بعد حکمت عملی تبدیل کردی گئی ہے۔‘ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی اپنی انتخابی مہم کا آغاز الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی کردے گی، اس سلسلے میں پارٹی رہنماؤں کو ورکرز کنوشن کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا، ’انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی تحریک انصاف کے روپوش رہنما بھی منظر عام پر آجائیں گے اور انتخابی مہم میں حصہ لیں گے، پارٹی ٹکٹ کی تقسیم کے لیے بورڈ تشکیل دے دیا جائے گا، جس حلقے میں سابق امیدوار میسر نہیں ہوگا وہاں نظریاتی ورکرز اور وکلا کو ٹکٹ دیا جائے گا۔
دوسری جانب مبصرین کے مطابق موجودہ حالات اور کیسز کے تناظر میں عمران خان کی انتخابات سے قبل جیل سے رہائی ناممکن دکھائی دیتی ہے جبکہ تحریک انصاف بحیثیت جماعت الیکشن میں ضرور موجود ہو گی۔ تاہم الیکشن کمیشن میں انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے زیر سماعت کیس میں پی ٹی آئی پر پارٹی نشان اور بطور سیاسی جماعت پابندی کے امکانات بھی موجود ہیں۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت پارٹی کی صف اول کی قیادت جیل میں ہے، اور دوسرے درجے کے رہنما گرفتاریوں سے بچنے کے لیے روپوش جبکہ متوقع امیدوار تذبذب کا شکار ہیں۔پی ٹی آئی ابھی تک اپنی انتخابی مہم کے خدوخال واضح نہیں کر سکی اور بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ وہ ابھی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی پر گامزن ہے۔تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں ابھی اس بات کا یقین نہیں کہ انتخابات ہوں گے، اور اگر ہوں گے بھی تو ان انہیں کس حد تک ان کا حصہ بننے کی اجازت ملے گی۔پی ٹی آئی کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اس کے امیدواروں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کے لیے انتخابی مہم چلانا آسان نہیں ہو گا۔اس غیر یقینی کے باوجود پی ٹی آئی کو توقع ہے کہ پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں مہنگائی کی وجہ سے عوام کی بڑی اکثریت اس کے امیدواروں کو ووٹ دے گی اور یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ وہ انتخابی مہم چلاتے بھی ہیں یا نہیں۔
سینئر تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق ’پی ڈی ایم کی حکومت کی بُری کارکردگی کا فائدہ تو پی ٹی آئی کو ضرور ہو گا لیکن انہیں یہ الیکشن بحرانی کیفیت میں لڑنا پڑے گا۔‘ ’پی ٹی آئی کو انتخابی مہم کے بحران کا تو سامنا ہے ہی، اسے ’امیدواروں کے بحران‘ کا بھی سامنا ہے۔‘ضیغم خان کہتے ہیں کہ ‘پی ٹی آئی کے پاس حلقوں کے لیے امیدوار بھی نہیں بچے۔ جو زیادہ تعداد ہے وہ چھوڑ چکی ہے، اور جو تھوڑی تعداد بچی ہے وہ جیلوں میں ہے۔‘’ضیغم خان کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی کے امیدواروں کے لیے الیکشن میں جو فائدہ ہے وہ دوسری جماعتوں کی غیر مقبولیت ہے۔‘تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس وقت پی ٹی آئی پر جو مشکلات ہیں ان کاالیکشن میں اس کے
’’گوگل کا ’’انکل سرگم‘‘ فاروق قیصر کو خراج تحسین‘‘
امیدواروں کو نقصان بھی ہو گا