بھارت روانگی پرجے شنکر کا شاندار میزبانی پرپاکستان کا شکریہ

شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کے بعد پاکستان سے بھارت روانگی کے وقت  بھارتی وزیر خارجہ  جے شنکرنےشاندار  میزبانی پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ایکس پر بیان میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکرنے کہا کہ  اسلام آباد سے روانہ ہو رہا ہوں، حکومت پاکستان کا شاندار میزبانی پر شکریہ، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز  شریف کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

جےشنکر کا پاکستانی عوام کا شکریہ

جے شنکر نےوزیر خارجہ اسحاق ڈار اور پاکستانی عوام کابھی شکریہ ادا کیا۔

بھارت روانگی س قبل بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستانی  وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے غیر معمولی ملاقات بھی ہوئی۔

ظہرانے میں جے شنکر،اسحاق ڈار ملاقات

ملاقات وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع  پر ہوئی اور ظہرانے کے موقع پر  وزیرخارجہ اسحاق ڈار اوربھارتی وزیرخارجہ  جے شنکر  ایک ساتھ بیٹھے۔

حکومت کا آئینی ترمیم کا بل پہلے سینیٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق اسحاق ڈاراور جے شنکر کے درمیان ظہرانے پر بات چیت ہوئی۔

بھارتی درخواست پردونوں وزرائے خارجہ کواکٹھے بٹھایا گیا

ذرائع کا کہنا ہےکہ بھارتی درخواست پردونوں وزرائے خارجہ کواکٹھے بٹھایا گیا اور  وزارت خارجہ نےدونوں وزرائے خارجہ کواکٹھا بٹھانے کےلیے سِٹنگ ارینجمنٹ تبدیل کیا۔

ذرائع نے بتایاکہ بھارتی وزیرخارجہ اورپاکستان کے وزیرخارجہ کے درمیان گفتگوکو فی الحال افشا نہیں کیا جا رہا۔

بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر کا خطاب

واضح رہےکہ شنگھائی تعاون تنظیم سےخطاب کرتے ہوئےبھارتی وزیرخارجہ جے شنکر کاکہنا ہے کہ دنیا پائیدار ترقی کےاہداف حاصل کرنےمیں پیچھے ہے، ٹیکنالوجی ایک طرف نئی امیدیں پیدا کررہی ہے تودوسری طرف مشکلات بھی لارہی ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتےہوئے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایس سی او کی صدارت سنبھالنےپرمبارک باد پیش کرتا ہوں،بھارت نےاس صدارت کو کامیاب بنانےکےلیے اپنی مکمل حمایت فراہم کی ہے۔

جے شنکر کاکہنا تھا ہم ایک ایسے وقت میں مل رہےہیں جب دنیا بھر میں حالات پیچیدہ ہیں،دو بڑےتنازعات جاری ہیں،جن کےعالمی اثرات مختلف ہیں۔

کوویڈ نے ترقی پذیر ممالک کو سخت نقصان پہنچایا،شنکر

بھارتی وزیر خارجہ کاکہنا تھا کہ کوویڈ نے ترقی پذیر ممالک کو سخت نقصان پہنچایا ہے،شدید موسمی واقعات،سپلائی چین کی غیریقینی صورت حال اور مالیاتی عدم استحکام ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔

Back to top button