فوج نہ تو عمران سے ڈیل کرے گی اور نہ ہی کوئی ڈھیل دے گی ؟

حکومتی اور عسکری حلقوں نے تحریک انصاف کی جانب سے دیے جانے والے اس تاثر کی سختی سے نفی کی ہے کہ عمران خان کو ایک ڈیل کے تحت بیرون ملک جانے کی آفر کی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان پچھلے دو برس سے ڈیل کے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی منتیں کر رہے ہیں لیکن ملک کے مروجہ قوانین کے تحت ایک سزا یافتہ مجرم کے ساتھ کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کی جاسکتی۔

حالیہ دنوں میں منصور علی خان کو انٹرویو دیتے ہوئے سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے بھی یہ دعوی کیا ہے کہ عمران کو ڈیل کی آفر کی گئی تھی، لیکن جب علی امین گنڈاپور یہ آفر لے کر اڈیالہ جیل گئے تو عمران خان نے ان پر جوتی اٹھا لی تھی۔ اس انٹرویو کے بعد علی امین گنڈا پور نے بھی ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ نہ تو عمران کو کسی ڈیل کی آفر کی گئی تھی اور نہ ہی عمران خان ایسی کوئی آفر قبول کریں گے۔ ادھر سہیل وڑائچ نے اپنے انٹرویو میں یہ دعوی بھی کیا کہ علی امین گنڈاپور کے ذریعے عمران خان کو جو آفر دی گئی تھی وہ بنی گالا شفٹ ہونے کی تھی لیکن اس کے بدلے ان سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ موجودہ سسٹم کی مخالفت بن کر دیں اور اسے چلنے دیں، لیکن وہ عمران نہیں مانے تھے، لہٰذا اب ان کا لمبے عرصے تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کی سیاست میں سب سے بڑی غلطی اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا سیاسی ہو جانا تھا جس کا انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

عمران کے بیٹوں کی ڈبل گیم، احتجاجی تحریک میں شرکت ناممکن

دوسری جانب حکومتی اور عسکری حلقوں نے عمران خان کو کسی قسم کی ڈیل کی آفر کا دعوی مضحکہ خیز قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان ایک سزا یافتہ مجرم ہیں جن کے خلاف 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے کیسز بھی زیر سماعت ہیں لہذا ایسے شخص کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کی بات کسی کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن حقیقت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان پچھلے دو برس سے فوجی قیادت کو مطعون و ملعون کرتے ہوئے ایک ہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ مذاکرات کرے، تاہم انہیں جواب میں گھاس نہیں ڈالی گئی جس کے بعد اب انہوں نے ڈیل کی آفر کی جھوٹی کہانیاں چلوانا شروع کر دی ہیں۔

ادھر وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو کسی قسم کی ڈیل آفر نہیں کی گئی۔ اگر انہیں ایسی کوئی پیشکش کی گئی ہوتی تو وہ یہ موقع ضائع نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پچھلے دو برس سے جو کچھ کر رہے ہیں اس کا بنیادی مقصد ڈیل کے لیے دباؤ ڈالنا ہے لیکن فیصلہ سازوں نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ 9 مئی کے منصوبہ ساز کو نہ تو کسی قسم کی کوئی ڈھیل ملے گی اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی ڈیل کی جائے گی۔

Back to top button