پاکستانی عوام کی 35 ارب پتی خاندانوں سے نفرت جائز ہے؟

سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام 35 ارب پتی خاندانوں سے نفرت کرتے ہیں حالانکہ یہی خاندان پاکستان کی سب سے بڑی امید ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان امرا کو چور چور کی آوازیں لگائی جاتی ہیں، لہذا خدشہ ہے کہ یہ 35 ارب پتی بھی پاکستان سے اُڈاری مار کر ان سبز چرا گاہوں میں نہ جا بسیں جہاں ان کو چور کہنے کی بجائے سر آنکھوں پر بٹھایا جائے گا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی ابھی تک فرانسیسی ناول نگار بالزاک کے عہد میں جی رہے ہیں۔ بالزاک نے 183 میں لکھا تھا کہ ’’ہر بڑے سرمائے کے پیچھے جُرم ہوتا ہے‘‘۔ یہی وُہ سوچ تھی جس نے پاکستانی سپریم کورٹ کے ججوں تک کو اس افسانوی فقرے کا سہارا لیکر عدالتی فیصلے لکھنے کی تحریک دی تھی۔ اس ذہنیت نے لوگوں میں ہر دولت مند کے خلاف بغض و عناد کا زہر بھر رکھا ہے۔ ہر بڑی گاڑی اور بڑے گھر کے بارے میں عمومی رائے یہی ہوتی ہے کہ اس امیرانہ علامت میں کہیں نہ کہیں ہمارا خون شامل ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ یہ سوچ کمیونزم کے نظریے سے مطابقت رکھتی تھی اب جبکہ عملی طور پر کمیونزم کا کہیں وجود نظر نہیں آتا، بائیں بازو کی سوچ اب سوشلزم کی شکل میں زندہ ہے، مگر چینی سوشلزم میں امیروں، دولت مندوں اور سرمایہ داروں کو نفرت اور حسدِ کی نظر سے نہیں بلکہ رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ دودری جانب پاکستان میں ابھی تک وہی حال ہے۔ حادثہ ہو جائے تو ہر کوئی سائیکل سوار سے ہمدردی اور کار کے مالک سے نفرت کا اظہار کرتا ہے، چاہے قصور سراسر سائیکل سوار کا ہو۔ وجہ وہی کہ’’ ہر دولت مند مجرم ہے‘‘۔ جب تک پاکستان میں یہ ذہنیت تبدیل نہیں ہوتی اس وقت تک سرمائے کی بڑھوتری اور دولت کی زیادہ پیدائش کا امکان نہیں۔ یہاں تو یہ وبا عام ہے کہ ہر افسر اٹھ کر کہہ دیتا ہے کہ سارے تاجر اور صنعتکار چور ہیں ،یہ سب ٹیکس چراتے ہیں، ان سب کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کر دینا چاہئے۔ حال ہی میں صنعت کاروں اور تاجروں نے ایف بی آر کے حوالے سے یہی شکایت فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر سے بھی کی ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ آج کا دور معیشت کا ہے اور معیشت کا پہیہ دولت کے بڑھانے سے ہی آگے کو چلتا ہے۔ نامور صنعتکار اور اپٹما کے سرپرست گوہر اعجاز کے ادارے نے ایک انتہائی دلچسپ تحقیق کی ہے جسکے مطابق اس وقت پاکستان میں 35 خاندان ارب پتی ہیں، ان میں سے 15 تو وہ پرانے خاندان ہیں جو ماضی کے 22 دولت مند گھرانوں میں شامل تھے، ان 22 میں سے سات خاندان اب ڈالرز میں ارب پتی کی کیٹگری سے بھی نکل گئے ہیں جبکہ 10 نئے خاندان ڈالرز کے حساب سے ان ارب پتی خاندانوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق پاکستان کی ترقی کی امید انہی 35 بڑے خاندانوں سے ہے۔ بیرونِ ملک سے کوئی بڑا سرمایہ کار پاکستان آکر انکا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پہلے بھی جن ملٹی نیشنل کمپنیوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہے ان کے لوکل پارٹنر 35 امیر خاندانوں میں سے ہی کوئی ایک ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ایڈم سمتھ کو جدید معاشیات کا باپ تصور کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے برطانوی کرنسی کے 20 پائونڈ کے نوٹ پر اب بھی اس کی تصویر چھپی نظر آتی ہے۔ اس کے فلسفے کا نچوڑ یہ ہے کہ دولت کا بڑھائو دراصل ایک سماجی نیکی ہے۔ صرف وہی معاشرہ ترقی نہیں کر رہا ہوتا اور نہ ہی اسے خوش حال معاشرہ کہہ سکتے ہیں جس کا زیادہ تر حصّہ غریب ہو، گویا لوگوں کی مالی بہتری کسی سماج میں نیکی سے کم نہیں۔ اگر معیشت کے اس جدید اور کامیاب ترین نظریے کو سامنے رکھا جائے تو یہ ڈالرز میں ارب پتی35 خاندان ہی پاکستان کی سب سے بڑی امید ہیں، لیکن افسوس تو یہ ہے کہ سرکار کا محکمہ ایف بی آر ہو یا عوام کا محکمہ سوشل میڈیا، یہاں ایک ہی طبقہ ہے جسے چور چور کی آوازیں لگائی جاتی ہیں، اگر یہ صدائیں جاری رہیں تو خدشہ ہے کہ کہیں یہ 35 امیدیں بھی پاکستان سے اُڈاری مار کر ان سبز چرا گاہوں میں نہ جا بسیں جہاں انہیں چور ڈاکو کہنے کی بجائے سر آنکھوں پر بٹھایا جائے۔
اگر تو ہم نے ایڈم سمتھ کی آزاد معیشت اور مارکیٹ اکانومی کے سفر کو آگے بڑھانا ہے تو ان 35 ارب پتیوں کو بلا کر عزت و اکرام دیا جائے کہ ناسازگار ماحول کے باوجود آپ نے سرمایہ پیدا کیا ہے۔ انہیں ملعون و مطعون کرنے کی بجائے ان سے پوچھا جانا چاہیئے کہ مزید دولت کیسے پیدا کی جائے؟ جو اقدامات وہ تجویز کریں ان پر عمل کیاجائے تاکہ دولت پیدا ہو اور غربت کم سے کم ہو۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں 60ء اور 70ء کی دہائی میں سوشلزم کا نعرہ مقبول تھا اسی زمانے میں 22 خاندانوں کا غلغلہ ہوا۔ ڈاکٹر محبوب الحق نے ایوب دور میں انہی 22 خاندانوں کو ارتکازِ دولت کا ذمہ دار ٹھہرایا پھر سوشلسٹ دنیا کی پیروی کرتے ہوئے بھٹو صاحب نے کئی صنعتیں، تعلیمی ادارے اور تجارتی گروپ قومیا لئے مگر یہ تجربہ کامیاب نہ ہو سکا۔ ڈالر اور روپیہ بہت ڈرپوک ہوتا ہے جہاں اسے خطرہ نظر آئے وہ وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ نیشنلائزیشن نے دولت کے پھیلائوکو روک دیا ڈالر اور روپیہ دنیا بھر میں بھاگنا شروع ہو گیا۔ اب بھی جب چور چور کا نعرہ لگتا ہےتو ڈالر کبھی دبئی، کبھی لندن، کبھی امریکہ اور کبھی یورپ فرار ہو جاتا ہے۔ یہ عجیب معاملہ ہے کہ اس ڈالر اور روپے کی اڑان خطرے کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن اسے اگر واپس لانا ہو تو یہ کام جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ حکومت کا کام یہی ہے کہ ڈالر اور روپیہ کیلئے آسانی پیدا کرے، اور خوف کو دور کرے تاکہ کم از کم یہ 35 ارب پتی خاندان تو اپنا سرمایہ پاکستان میں مزید پھیلائیں اور باقی دنیا کو بھی اگر باہر سے بلانا ہے تو وہ انہی کے ذریعے سے آئے گی، وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جیسے گھر کے پالتو کبوتر دانہ کھا رہے ہوں تو جنگلی کبوتر بھی ان کے سہارے آپ کی چھت پر بسیرا کر لیتے ہیں۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ سوشل ڈیموکریسی کا نظریہ بینظیر بھٹو کے دل کے بہت قریب تھا۔ اس نظریے کا مارکیٹ اکانومی کے ساتھ ساتھ عوامی بھلائی پر بھی زور ہوتا ہے۔ آج کی سرمایہ دار دنیا میں مارکیٹ اکانومی کے ساتھ ساتھ حکومتوں کا کردار یہ ہے کہ وہ آزاد سرمائے کیلئے پالیسیاں ترتیب دے اور ساتھ ہی موناپلی اور کارٹلائزیشن کے تدارک کا انتظام کرئے۔ امریکہ میں فری مارکیٹ کے اندر یہ خرابی 20 ویں صدی کے شروع میں در آئی تھی اور بڑے بڑے صنعت کاروں اور سیٹھوں نے آپس میں گٹھ جوڑ کرکے اجارہ داریاں اور ناجائز گروہ بندیاں بناکر عام لوگوں سے بہت زیادہ منافع لینا شروع کر دیاتھا حالانکہ قانون مسابقت کی اجازت دیتا ہے اور اجارہ داری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ 1920ء کی دہائی میں امریکی کانگریس نے مناپلی اور کارٹلائزیشن Cartelizationکے خلاف سخت قوانین منظور کئے۔ پاکستان میں سرمایہ داری کی حوصلہ افزائی کے ساتھ حکومتی مسابقتی پالیسیوں کا سختی سے نفاذ بھی ضروری ہے تاکہ نئے ارب پتی اور کروڑ پتی بنیں، اور دولت کا انہی پرانے 23 گھرانوں میں ارتکاز نہ ہو۔ جب صرف چند خاندان امیر ہوں اور خلقت غریب ہو تو پھر انقلاب آتا ہے اور اگر امیروں کی تعداد بڑھتی جائے اور غریبوں کی تعداد کم ہوتی جائے تو ریاست فلاحی شکل اختیار کرتی جاتی ہے۔
