پاکستان ویتنام اور بنگلہ دیش سے بھی پیچھے رہ گیا

پاکستان فی کس آمدنی میں بنگلہ دیش اور ویتنام سے بھی پیچھے رہ گیا، پاکستان کی معیشت کے حوالے سے سامنے آنے والے تازہ اعداد و شمار ایک اہم اور تشویشناک حقیقت کی نشاندہی کرتے نظر آتے ہیں۔ تین دہائیاں قبل پاکستان جنوبی ایشیا اور مشرقی ایشیا کے کئی ممالک سے معاشی طور پر بہتر پوزیشن میں تھا، لیکن آج صورتحال یکسر مختلف ہے۔ فی کس آمدنی کے اشاریے میں پاکستان نہ صرف چین بلکہ بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک سے بھی پیچھے رہ گیا ہے۔
وزارت منصوبہ بندی کی دستاویزات کے مطابق 1990 میں پاکستان کی فی کس آمدنی 344 ڈالر تھی جو 2025 میں بڑھ کر 1824 ڈالر تک پہنچی۔ بظاہر یہ اضافہ قابلِ ذکر دکھائی دیتا ہے، لیکن جب اسی عرصے کا موازنہ خطے کے دیگر ممالک سے کیا جائے تو پاکستان کی کارکردگی بہت کمزور نظر آتی ہے۔1990 میں ویتنام کی فی کس آمدنی صرف 99 ڈالر تھی، یعنی پاکستان کی معیشت اس وقت ویتنام سے تین گنا سے بھی زیادہ مضبوط تھی۔ تاہم گزشتہ 35 برسوں میں ویتنام نے صنعتی ترقی، برآمدات، تعلیم اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر مسلسل توجہ دی جس کے نتیجے میں اس کی فی کس آمدنی 5026 ڈالر تک جا پہنچی۔یہ صرف اعداد و شمار کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی انقلاب کی کہانی ہے جس نے ویتنام کو دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ ایک وقت تھا جب بنگلہ دیش کو معاشی مشکلات اور غربت کی علامت سمجھا جاتا تھا، لیکن آج وہ کئی معاشی اشاریوں میں پاکستان سے آگے نکل چکا ہے۔ 1990 میں بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی 324 ڈالر تھی جو اب 2653 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔گارمنٹس انڈسٹری، خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت، آبادی کے بہتر انتظام اور برآمدی پالیسیوں نے بنگلہ دیش کی معاشی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔بھارت نے آئی ٹی سیکٹر، خدمات کی صنعت، صنعتی ترقی اور عالمی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی فی کس آمدنی 2675 ڈالر تک پہنچائی۔ دوسری جانب چین نے منصوبہ بندی، صنعتی پیداوار، انفراسٹرکچر اور برآمدات پر توجہ دے کر فی کس آمدنی کو 14 ہزار ڈالر تک پہنچا دیا اور دنیا کی بڑی معاشی طاقت بن گیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی معاشی سست روی کے پیچھے چند بنیادی وجوہات ہیں:پاکستان مسلسل تعلیم پر کم سرمایہ کاری کرتا رہا جبکہ کامیاب ممالک نے اپنی نوجوان آبادی کو ہنرمند بنانے پر توجہ دی۔ آج بھی لاکھوں نوجوان جدید مہارتوں سے محروم ہیں۔پاکستان کی برآمدات محدود شعبوں تک محدود رہیں جبکہ ویتنام، بنگلہ دیش اور چین نے عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کے لیے نئی جگہیں بنائیں۔تیزی سے بڑھتی آبادی نے اقتصادی ترقی کے ثمرات کو تقسیم کر دیا۔ قومی آمدنی میں اضافہ ہوا لیکن آبادی کی رفتار زیادہ ہونے کے باعث فی کس آمدنی مطلوبہ سطح تک نہ پہنچ سکی۔پاکستان میں خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ اس کے برعکس بنگلہ دیش اور ویتنام نے خواتین کو معاشی سرگرمیوں کا اہم حصہ بنایا۔معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں بار بار کی سیاسی تبدیلیوں، معاشی عدم استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کی کمی نے ترقی کی رفتار کو متاثر کیا۔
معاشی ماہرین کے بقول یہ اعداد و شمار صرف معاشی مقابلے کی کہانی نہیں بلکہ قومی ترجیحات کا آئینہ بھی ہیں۔ جب پاکستان 1990 میں ویتنام اور بنگلہ دیش سے آگے تھا تو آج ان سے پیچھے کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب صرف اعداد و شمار میں نہیں بلکہ ان پالیسی فیصلوں میں پوشیدہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں میں کیے گئے یا نہیں کیے گئے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان واقعی خطے کی ترقی کرتی معیشتوں کے برابر آنا چاہتا ہے تو اسے تعلیم، ہنر مندی، برآمدات، صنعتی ترقی، خواتین کی معاشی شمولیت اور آبادی کے مؤثر انتظام کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ محض قرضوں، امداد یا قلیل مدتی معاشی اقدامات سے یہ خلا پر نہیں ہو سکے گا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے بقول پاکستان کے پاس نوجوان آبادی، جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کی صورت میں بے شمار مواقع موجود ہیں، لیکن ان مواقع کو معاشی طاقت میں بدلنے کے لیے مستقل مزاجی، پالیسی تسلسل اور طویل المدتی وژن ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر خطے کے دیگر ممالک اور پاکستان کے درمیان معاشی فاصلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
