پانی بطور ہتھیار: کیا بھارت واقعی پاکستان کا پانی بند کر سکتا ہے؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا معاملہ محض وسائل کی تقسیم کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے امن، استحکام اور علاقائی سلامتی سے جڑا ہوا حساس معاملہ ہے۔ اسی لیے پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش اس کی قومی سلامتی کے خلاف اقدام اور طبل جنگ تصور ہوگی۔ ایسے میں بھارت کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان کے پانی کو روکنے یا محدود کرنے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ بھارتی وزیر برائے آبی وسائل کی جانب سے یہ اعلان کہ آئندہ برسوں میں پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں جانے دیا جائے گا، بظاہر ایک جارحانہ سیاسی بیان ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارت واقعی ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا یہ محض سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے؟

سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں بھارت کی جانب سے پانی کے مسئلے کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سفارتی اور عسکری محاذ پر مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد نئی دہلی پاکستان پر معاشی اور نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے آبی وسائل کے معاملے کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔پانی کا مسئلہ عوامی جذبات سے براہ راست جڑا ہوتا ہے، اس لیے ایسے بیانات بھارت کے اندرونی سیاسی ماحول میں بھی مقبولیت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ تاہم سیاسی بیانات اور عملی حقائق میں واضح فرق موجود ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت واقعی پاکستان کا پانی روک سکتا ہے؟

تکنیکی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں بھارت کے پاس ایسی آبی ذخیرہ گاہوں اور ڈیموں کی مکمل صلاحیت موجود نہیں جو دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو مکمل طور پر روک سکیں۔ زیادہ سے زیادہ پانی کے اخراج کے وقت میں تبدیلی یا عارضی انتظامی ردوبدل ممکن ہو سکتا ہے، لیکن مستقل بنیادوں پر پانی روکنا نہایت مشکل اور پیچیدہ عمل ہے۔دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ دریا مسلسل بہاؤ رکھتے ہیں اور ان کے پانی کو مکمل طور پر روکنے کے لیے جس حجم کے ذخائر درکار ہوتے ہیں، وہ فی الحال بھارت کے پاس موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی آبی ماہرین بھارتی دعوؤں کو عملی حقیقت کے بجائے سیاسی بیانیہ قرار دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا بنیادی فریم ورک 1960 کا سندھ طاس معاہدہ ہے، جسے دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے نے کئی جنگوں، سیاسی تنازعات اور سرحدی کشیدگیوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا نظام برقرار رکھا۔یہ معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان سمجھوتہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی قانونی حیثیت بھی رکھتا ہے، جس کے باعث کسی یکطرفہ اقدام کے نتائج سفارتی اور قانونی سطح پر بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

پاکستان نے حالیہ برسوں میں آبی ذخائر بڑھانے، ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے بہتر انتظام کے منصوبوں پر زور دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو صرف بیرونی خطرات پر توجہ دینے کے بجائے داخلی آبی اصلاحات پر بھی بھرپور سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔پانی کے ضیاع میں کمی، جدید آبپاشی نظام، نئے ذخائر اور آبی منصوبوں کی تکمیل پاکستان کی طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ یہی اقدامات مستقبل میں کسی بھی ممکنہ دباؤ کا مؤثر جواب بن سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے کے دعوے سیاسی طور پر توجہ حاصل کر سکتے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس دعوے کو آسان یا فوری طور پر قابلِ عمل نہیں بناتے۔ موجودہ آبی ڈھانچے، بین الاقوامی معاہدوں اور تکنیکی حدود کو دیکھتے ہوئے ماہرین کی اکثریت اسے زیادہ تر سیاسی دباؤ کی حکمت عملی قرار دیتی ہے۔البتہ یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام ضرور ہے کہ پانی اب صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معیشت اور مستقبل کی ترقی کا بنیادی مسئلہ بن چکا ہے۔ اسی لیے آبی خود کفالت، ذخیرہ اندوزی اور مؤثر آبی پالیسی آنے والے برسوں میں پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل رہنی چاہیے۔

Back to top button