خواجہ آصف کے لہجے میں خوف کیوں؟

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا
گزشتہ روز شاید چار برسوں میں پہلی دفعہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی آواز میں کچھ خدشات اور خوف محسوس ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ کو کچھ ہوا تو سب ذمہ دار ہوں گے اور اس کا نقصان بھی سیاستدانوں ہی کو اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے (پارلیمنٹ) پر سب سے زیادہ کاری وار اور شدید ضربیں خود سیاستدانوں نے لگائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ اب تک ان نقصانات کی تلافی کرتا رہا ہے لیکن ہماری طرف سے بھی غلطیاں ہوئیں‘ اس لیے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ اگر کچھ ہوا تو کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ سب کا نقصان ہو گا۔ ہمیں خود کو مضبوط رکھنا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی والوں سے کہا کہ آپ احتجاج ضرور کریں‘ تقریریں بھی کریں لیکن یہ کام دس پندرہ منٹ کریں اور پھر اس ہاؤس کو چلنے دیں کیونکہ اسی میں سب کا فائدہ ہے۔ جب کارروائی متاثر ہوتی ہے تو ہم سب مل کر اس پارلیمنٹ کو کمزور کرتے ہیں۔
خواجہ آصف کے اس خوف کے پیچھے پچھلے چند دنوں سے اسلام آباد میں گردش کرنے والی وہ خبریں ہیں جن کے مطابق شاید مقتدرہ موجودہ سیٹ اَپ سے زیادہ خوش نہیں۔ دیگر طبقات بھی کسی حد تک ناراض نظر آتے ہیں۔ چار سال مکمل ہو چکے اور شہباز شریف حکومت پانچواں بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔ خواجہ آصف کو یہ طعنہ نہیں دیا جا سکتا کہ وہ پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے نہیں لیتے رہے‘ جس کی آج انہیں اچانک فکر لاحق ہو گئی۔ خواجہ صاحب ان چند وزیروں میں سے ہیں جو باقاعدگی سے پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں نظر آتے ہیں‘ ورنہ بیشتر وزرا تو کبھی کبھار ہی دکھائی دیتے ہیں۔ وزیروں کے نہ آنے کی ایک بڑی وجہ وزیراعظم کا پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے نہ لینا ہے۔ ماضی میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ہی تھے جو ہر سیشن میں خود بیٹھتے اور اگر وقفۂ سوالات میں کوئی وزیر جواب نہ دے پاتا تو جواب بھی وہ خود دیتے تھے۔ ان کے بعد تقریباً تمام وزرائے اعظم چھ چھ ماہ تک پارلیمنٹ نہیں آئے۔ شہباز شریف صاحب پچھلے سال بجٹ والے دن آئے تھے اور ممکن ہے آج بھی بجٹ پیش ہونے پر سیشن میں آئیں اور پھر شاید اگلے سال ہی پارلیمنٹ کا درشن ہو۔خواجہ آصف جب یہ باتیں کر رہے تھے کہ شاید پارلیمنٹ پر کوئی نیا آسمان گرنے والا ہے اور اس کا نقصان سب کو ہوگا تو ان خبروں میں کچھ صداقت محسوس ہونے لگی کہ واقعی سب ٹھیک نہیں چل رہا۔ کچھ دن پہلے میرے پروگرام میں فیصل چودھری صاحب موجود تھے۔ وہ وزیروں کے حوالے سے کچھ کہنے لگے تو میں نے کہا کہ میری اطلاع یہ ہے کہ شاید عام وزیروں کی جگہ ٹیکنوکریٹس کو آگے لایا جائے گا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے متوقع ٹیکنوکریٹس نے ٹی وی چینلز اور پوڈکاسٹس میں اچانک انٹری ڈال دی تھی اور موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ان میں ماہرِ معیشت شیرانی صاحب کے علاوہ سابق گورنر سٹیٹ بینک عشرت حسین بھی پیش پیش ہیں۔ شبر زیدی بھی آئے روز معاشی پالیسیوں کا پوسٹ مارٹم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔سابق وفاقی سیکرٹری احمد نواز سکھیرا اور سابق نگران وزیرِ تجارت گوہر اعجاز بھی معاشی محاذ پر کچھ سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ سکھیرا صاحب کے پاس گورننس کا طویل تجربہ ہے۔ شاید وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے واحد افسر تھے جو مسلسل نو برس تک وفاقی سیکرٹری رہے‘ جن میں تجارت‘ نجکاری اور کابینہ ڈویژن جیسی اہم وزارتیں شامل تھیں‘ اور ان کی اچھی ساکھ رہی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک شیڈو بجٹ تیار کرکے عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ عمومی طور پر شیڈو بجٹ تیار کرنے کا کام اپوزیشن جماعتیں کرتی ہیں لیکن پاکستان میں سیاسی جماعتیں ایسے سنجیدہ کاموں سے دور رہتی ہیں‘ لہٰذا سکھیرا صاحب جیسے ٹیکنوکریٹ نے پہلی مرتبہ شیڈو بجٹ تیار کرکے مغربی دنیا کی ایک اہم روایت کو زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
مقتدرہ کو شکایت ہے کہ سفارتی محاذ پر پاکستان کو جو کامیابیاں ملی ہیں شاید ان سے معاشی طور پر خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ آج بھی ملک قرضوں کے سہارے چل رہا ہے۔ خطرے کی لکیر بھی کب کی عبور ہو چکی۔ جتنا بینکوں کا قرض اور اس پر سود ادا کیا جا رہا ہے اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے پورا ملک صرف بینکوں کا سود ادا کرنے کیلئے کام کر رہا اور ٹیکس دے رہا ہے تاکہ ان کا پیسہ واپس کیا جا سکے۔ ایک دن قرض واپس کیا جاتا ہے‘ اس پر بھاری سود ادا کیا جاتا ہے اور پھر اگلے دن اس سے بھی بڑا قرض مزید زیادہ سود پر لے لیا جاتا ہے۔ اگر فنانس کمیٹیوں کے اجلاسوں میں بیٹھ کر گفتگو سنی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اورنگزیب صاحب کو شوکت عزیز اور شوکت ترین کی طرح وزیر خزانہ بنانے کا ایک مقصد یہ تھا کہ وہ بینکوں سے اپنے تعلقات استعمال کرکے روزانہ کمرشل شارٹ ٹرم قرض حاصل کرتے رہیں اور ملک کا نظام چلاتے رہیں‘ جبکہ سارا ٹیکس سود کی مد میں انہی بینکوں کو ادا ہوتا رہے۔حالانکہ انہی بینکوں کے پاس بقول سینیٹر انوشہ رحمان پاکستانی سرکاری اداروں کے 1200 ارب روپے کرنٹ اکاؤنٹس میں جمع ہیں جن کی بنیاد پر وہ حکومت کو سود پر قرض دے کر ہر ماہ اربوں روپے مارک اَپ وصول کرتے ہیں۔ اندازہ کریں آپ ہی کے بارہ سو ارب روپے درجن بھر بینکوں کے پاس پڑے ہیں اور آپ ہی کا پیسہ قرض کی شکل میں بھاری سود پر آپ کو دیا جا رہا ہے۔
مجھے وزارتِ خزانہ کے ایک افسر نے بتایا کہ آپ بارہ سو ارب روپے کے اس معاملے پر بات کرتے ہیں جو پرائیویٹ بینکوں کے پاس رکھا ہے اور جس کے بدلے ہم قرض لے رہے ہیں لیکن اگر حکومتِ پاکستان کے ادارے اپنا یہ ڈیپازٹ وہاں سے نکال کر نیشنل بینک یا سٹیٹ بینک کے کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں منتقل کر دیں تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے بغیر سود استعمال کرکے واپس جمع کرا دیا جائے تو جانتے ہیں کیا ہوگا؟ میں نے پوچھا: کیا ہوگا؟ اس نے حیران کن انکشاف کیا کہ اکثر نجی بینک بند ہو جائیں گے کیونکہ وہ حکومتی ڈیپازٹس پر چل رہے ہیں۔بینک کے پاس آٹھ سے دس ارب روپے کا ڈیپازٹ ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ یہاں بارہ سو ارب روپے پڑے ہیں۔ مطلب یہ کہ اکثر بینک عوام کے ٹیکس سے جمع کیے گئے سرکاری ڈیپازٹس پر چل رہے ہیں اور پھر انہی سرکاری رقوم پر بھاری سود وصول کرکے ہر سال اربوں روپے منافع کما رہے ہیں۔ یہ ہے وزارتِ خزانہ کا کمال۔
اگر نئے ٹیکنوکریٹ وزیروں کی بات کی جائے تو شہباز شریف پہلے بھی بڑی مشکل سے اس بات پر آمادہ ہوئے تھے کہ انرجی ایکسپرٹ محمد علی کو مشیرِ توانائی مقرر کیا جائے۔ کچھ عرصہ تو انہوں نے محمد علی کو برداشت کیا لیکن اب انہیں نجکاری کا وزیر بنا دیا گیا ہے۔محمد علی سے شہباز شریف کی ناراضی کی ایک وجہ ان کی وہ خوفناک رپورٹ بتائی جاتی ہے جس میں توانائی کے شعبے‘ شریف خاندان کے آئی پی پیز‘ ان کے سابق رشتہ دار سیف الرحمن کے بجلی یونٹس اور چند پسندیدہ بیوروکریٹس کے باہمی تعلقات کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ٹیرف کے معاملے پر کس طرح مختلف حلقوں نے مل کر سارا کھیل کھیلا۔ اب مقتدرہ چاہتی ہے کہ شہباز شریف نے وزارتوں میں جو ”فیملی فرینڈز پیکیج‘‘ متعارف کرا رکھا ہے اس کا خاتمہ کیا جائے اور صرف اہل اور متعلقہ شعبوں کے ماہر افراد کو ہی وزارتیں دی جائیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اگلے ماہ سے اس حوالے سے کام شروع ہو سکتا۔ بہت سارے ‘فارغ‘ وزیر واقعی فارغ کیے جا سکتے۔ اس پس منظر میں خواجہ آصف کے بیان میں چھپے خدشات اور خوف کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔ انہیں بھی شاید محسوس ہو رہا کہ پارلیمنٹ پہ گہرے بادل منڈلا رہے ہیں اور ان کے بقول اگر کوئی کاری ضرب لگی تو اس میں قصور سب کا ہوگا اور نقصان بھی سب کو اٹھانا پڑے گا۔
