بھارت سیاسی بیانیے سے قانونی حقائق نہیں بدل سکتا، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو جارحانہ بیانات یا سیاسی دباؤ کے ذریعے تبدیل نہیں کر سکتا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کے بیانات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو سیاسی بیانیے اور دباؤ کے ذریعے مسخ کرنے کی ایک اور کوشش ہیں۔ ایسے بیانات نہ تو بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی خطے میں امن، استحکام اور بامعنی مذاکرات کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے حتمی فیصلے کا انحصار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ رائے پر ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کے بار بار الزامات اس کے اپنے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے دستاویزی ریکارڈ کے باعث کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی سرپرستی اور عدم استحکام پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جو اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے ذریعے پورے خطے کو متاثر کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی دو ایٹمی ریاستوں کے درمیان کشیدگی اور تصادم کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔ جبکہ پاکستان امن، مذاکرات اور علاقائی استحکام پر یقین رکھتا ہے، تاہم اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کا عزم غیر متزلزل ہے۔

 

کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے بعد پاکستان پر ڈالروں کی برسات کا امکان کیوں؟

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بھارتی قیادت کی حالیہ بیان بازی دراصل ملک کے اندرونی سیاسی بحران، بڑھتی ہوئی بے چینی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے آمرانہ اور تقسیم پیدا کرنے والے طرز حکمرانی سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

Back to top button