کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے بعد پاکستان پر ڈالروں کی برسات کا امکان کیوں؟

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل کی جانب سے پاکستان کی طویل المدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ‘بی مائنس’ سے بڑھا کر ‘بی’ کرنے کو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت مالیاتی نظم و ضبط، آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد اور معاشی اصلاحات کو اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ پاکستان اب بھی سرمایہ کاری کے درجے سے کافی دور ہے، تاہم کریڈٹ ریٹنگ میں یہ بہتری عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا اشارہ ہے، جس کے مثبت اثرات مستقبل میں سرمایہ کاری، قرضوں کی لاگت اور مجموعی معاشی استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی طویل المدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ‘بی مائنس’ سے بڑھا کر ‘بی’ کر دی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ بہتری ملک میں معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر مسلسل عمل درآمد اور بیرونی شعبے میں بہتر کارکردگی کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے مالیاتی خسارہ کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے اور کرنٹ اکاؤنٹ کے دباؤ میں کمی لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ ساتھ ہی اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد کے تسلسل نے عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بھی بڑھایا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کو حکومت کی معاشی پالیسیوں پر عالمی اعتماد کا اظہار قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
معاشی ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔ بہتر ریٹنگ کے باعث مستقبل میں عالمی بانڈز کے اجرا، بیرونی قرضوں کے حصول اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں نسبتاً آسانی پیدا ہونے کی توقع ہے۔ماہر معاشیات ظفر پراچہ کے مطابق بہتر کریڈٹ ریٹنگ سے پاکستان عالمی مالیاتی منڈی سے نسبتاً کم لاگت پر قرض حاصل کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کار کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری سے پہلے کریڈٹ ریٹنگ کو اہم پیمانہ سمجھتے ہیں، اس لیے اس فیصلے سے پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بھی بہتر ہو سکتے ہیں۔معاشی تجزیہ کار جبران احمد کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کے معاشی اشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی سرمایہ کار ایسے فیصلوں کو معاشی استحکام کے اشارے کے طور پر دیکھتے ہیں، جس سے سرمایہ کاری کے فیصلوں پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایس اینڈ پی گلوبل دنیا کی تین بڑی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ موڈیز اور فچ ریٹنگز بھی عالمی سطح پر حکومتوں، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کی مالی حیثیت اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیتی ہیں۔کریڈٹ ریٹنگ دراصل یہ ظاہر کرتی ہے کہ کوئی ملک اپنے بیرونی قرضوں اور مالی ذمہ داریوں کی بروقت ادائیگی کتنی صلاحیت اور اعتماد کے ساتھ کر سکتا ہے۔ جتنی بہتر ریٹنگ ہوگی، اتنا ہی عالمی سرمایہ کار اس ملک کو نسبتاً کم خطرے والا سمجھتے ہیں۔ایس اینڈ پی کے درجہ بندی نظام میں AAA سب سے اعلیٰ درجہ ہے، جسے سرمایہ کاری کے لیے انتہائی محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد AA اور A کی کیٹیگریاں آتی ہیں، جبکہ B کیٹیگری میں وہ ابھرتی ہوئی معیشتیں شامل ہوتی ہیں جو اپنی مالی بنیاد کو مضبوط بنانے کے مرحلے میں ہوتی ہیں۔
پاکستان کی ریٹنگ ‘بی مائنس’ سے بڑھ کر ‘بی’ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت کے بارے میں عالمی اعتماد میں بہتری آئی ہے، اگرچہ معیشت اب بھی بیرونی اور اندرونی معاشی جھٹکوں سے متاثر ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستان فوری طور پر ڈیفالٹ کے خطرے میں شمار نہیں کیا جا رہا، تاہم اسے اپنی معاشی اصلاحات اور مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا ہوگا۔ماہرین کے مطابق یہ اپ گریڈ حتمی منزل نہیں بلکہ ایک مثبت اشارہ ہے۔ اگر حکومت مالیاتی اصلاحات، ٹیکس نظام کی بہتری، برآمدات میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام پر مؤثر عمل درآمد جاری رکھتی ہے تو مستقبل میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ مزید بہتر ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ اس کے برعکس اگر معاشی نظم و ضبط متاثر ہوا یا اصلاحات کا عمل سست پڑ گیا تو یہ بہتری برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
