آزاد کشمیر اسمبلی کی مہاجرین کیلئے مختص 12 نشستوں کا اصل تنازع کیا ہے؟

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے تنازعے نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ان نشستوں کے خاتمے کے مطالبے کے بعد حکومت، آئینی ماہرین اور سیاسی مبصرین کے درمیان اس معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ حکومت ان نشستوں کو مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے تاریخی، آئینی اور سفارتی مؤقف کی علامت قرار دے رہی ہے، جبکہ ناقدین ان کی موجودہ شکل پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ ان نشستوں کی بنیاد کیا ہے، انہیں آئینی تحفظ کیوں حاصل ہے اور ان کے خاتمے یا تبدیلی کی صورت میں کیا قانونی اور سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں محض انتخابی نمائندگی کا ذریعہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، آئینی ڈھانچے اور پاکستان کے سفارتی مؤقف کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ حالیہ دنوں ان نشستوں کے حوالے سے اٹھنے والی بحث نے ایک بار پھر اس حساس معاملے کو قومی سطح پر موضوعِ گفتگو بنا دیا ہے۔

ان نشستوں کی بنیاد 1947 میں تقسیم ہند اور ریاست جموں و کشمیر کے تنازع کے بعد رکھی گئی، جب ہزاروں کشمیری خاندان اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہوئے۔ بعد کے برسوں میں بھی مزید کشمیری خاندان پاکستان منتقل ہوتے رہے۔ چونکہ یہ افراد قانونی طور پر ریاست جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے تصور کیے جاتے ہیں، اس لیے انہیں آزاد کشمیر کے سیاسی نظام میں نمائندگی دینے کے لیے اسمبلی میں مخصوص حلقے قائم کیے گئے تاکہ وہ اپنے حقِ رائے دہی اور سیاسی نمائندگی سے محروم نہ ہوں۔

آزاد جموں و کشمیر کا عبوری آئین 1974 ان نشستوں کو آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ نشستیں اسمبلی کے آئینی ڈھانچے کا حصہ ہیں، اس لیے ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا خاتمہ محض انتظامی فیصلے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے آئینی ترمیم اور متعلقہ قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہوگی۔

پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے کے ذریعے ہونا چاہیے۔ اسی تناظر میں مہاجرین کی یہ نشستیں اس تصور کی عملی عکاسی سمجھی جاتی ہیں کہ ریاست کے وہ باشندے جو پاکستان میں مقیم ہیں، انہیں بھی سیاسی نمائندگی حاصل رہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ان نشستوں کو محض انتخابی حلقے نہیں بلکہ قومی پالیسی اور کشمیر کاز کے ایک اہم جزو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

حالیہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ان نشستوں کو ختم کرنے اور نمائندگی کے متبادل نظام کی تجویز سامنے آئی۔ اس مطالبے کے بعد وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر حکومت نے واضح کیا کہ مہاجرین کی نشستوں کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور انہیں ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔

سیاسی اور آئینی مبصرین کے مطابق اس معاملے کے کئی پہلو ہیں۔ ایک طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں کشمیری مہاجرین کی قربانیوں اور تحریکِ آزادی کشمیر کے تسلسل کی علامت ہیں، جبکہ دوسری جانب بعض حلقے نمائندگی کے موجودہ طریقہ کار پر بحث کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ تاہم موجودہ آئینی ڈھانچے کے تحت کسی بھی تبدیلی کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی کارروائی ناگزیر ہوگی۔

تجزیہ کار جاوید اقبال ہاشمی کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور ان کے خاتمے کا مطالبہ درست نہیں۔ ان کے مطابق حکومت واضح کر چکی ہے کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کو کسی صورت ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

اسی طرح راجا کفیل احمد کے مطابق آزاد کشمیر کی سیاسی شناخت اور تحریکِ آزادی کشمیر کے تاریخی تناظر میں مہاجرین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے بقول جب تک مسئلہ کشمیر کا حتمی حل سامنے نہیں آتا، اس وقت تک مہاجرین کی سیاسی نمائندگی برقرار رکھنا ریاستی پالیسی کا حصہ رہے گا۔

خواجہ اے متین بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ کشمیری مہاجرین نے تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان کی نمائندگی کو محض ایک انتخابی معاملہ نہیں بلکہ تاریخی اور قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

موجودہ صورتحال میں یہ واضح ہے کہ مہاجرین کی 12 نشستیں صرف ایک سیاسی یا انتخابی معاملہ نہیں بلکہ آئینی، تاریخی اور سفارتی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مستقبل سے متعلق ہر بحث نہ صرف آزاد کشمیر کی سیاست بلکہ پاکستان کے کشمیر سے متعلق سرکاری مؤقف کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔

Back to top button