کیا ’دبئی انوائٹ سکیم‘ سے پاکستانیوں کا مفت دبئی جانا ممکن ہے؟

دبئی حکومت نے سیاحت کے فروغ کے لیے "دبئی انوائٹ” پروگرام متعارف کرا دیا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ تاثر تیزی سے پھیل رہا ہے کہ پاکستانی اس سکیم کے ذریعے مفت دبئی جا سکتے ہیں۔ تاہم حقیقت اس سے مختلف ہے۔ یہ پروگرام نہ تو مفت ویزا فراہم کرتا ہے، نہ ہوائی ٹکٹ اور نہ ہی سفری اخراجات برداشت کرتا ہے۔ اس کا اصل مقصد دبئی میں مقیم قانونی رہائشیوں کو اپنے بیرونِ ملک موجود دوستوں اور رشتہ داروں کو دبئی آنے کی دعوت دینے کی ترغیب دینا ہے، جبکہ انعامات اور مراعات بنیادی طور پر دعوت دینے والے رہائشی کو دی جاتی ہیں۔ ایسے میں اہم سوال یہی ہے کہ پاکستانی اس سکیم سے کس حد تک فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اس کی اصل شرائط کیا ہیں؟
خیال رہے کہ دبئی کے محکمہ اقتصادیات و سیاحت نے بین الاقوامی سیاحت کو مزید فروغ دینے کے لیے "دبئی انوائٹ” پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد دبئی میں رہنے والے اماراتی شہریوں اور قانونی غیر ملکی رہائشیوں کو اس بات کی ترغیب دینا ہے کہ وہ اپنے بیرونِ ملک موجود دوستوں اور اہل خانہ کو دبئی کی سیر کے لیے مدعو کریں، تاکہ شہر کی سیاحت کو مزید وسعت مل سکے۔
اس پروگرام کے تحت دبئی میں مقیم کوئی بھی اہل رہائشی سرکاری آن لائن پورٹل پر اپنے دوست یا رشتہ دار کی معلومات درج کر کے اسے مدعو کر سکتا ہے۔ اگر مدعو کیا گیا شخص مقررہ مدت کے دوران دبئی کا سفر مکمل کر لیتا ہے تو دعوت دینے والا رہائشی تین ہزار درہم سے زائد مالیت کے مختلف ریوارڈز، رعایتوں اور خصوصی واؤچرز کا اہل بن جاتا ہے۔
ان مراعات میں معروف ہوٹلوں میں خصوصی رعایتیں، لگژری رہائش کی آفرز، ممتاز ریستورانوں میں ڈائننگ ڈسکاؤنٹس، برج خلیفہ، ایٹلانٹس دی پام اور دیگر سیاحتی مقامات کے خصوصی ٹکٹ یا رعایتی آفرز کے علاوہ شاپنگ، تفریح اور لائف اسٹائل برانڈز کی جانب سے مختلف سہولیات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم یہ فوائد متعلقہ پارٹنر اداروں کی شرائط کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی شہریوں کے حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اس پروگرام میں براہِ راست درخواست نہیں دے سکتے۔ اگر ان کا کوئی قریبی عزیز یا دوست دبئی میں قانونی طور پر مقیم ہے تو وہ انہیں اس پروگرام کے تحت مدعو کر سکتا ہے، لیکن اس دعوت کا مطلب مفت سفر نہیں ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اس سکیم کے تحت مدعو کیے جانے والے افراد کو مفت سیاحتی ویزا، ہوائی ٹکٹ، سفری انشورنس یا دیگر سفری اخراجات فراہم نہیں کیے جاتے۔ پاکستانی شہریوں کو اپنا ویزا، فضائی ٹکٹ، رہائش اور دیگر تمام سفری اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے، جبکہ دعوت دینے والا رہائشی اور اس کا مہمان صرف مخصوص رعایتوں اور واؤچرز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پروگرام میں شرکت کے لیے دبئی میں مقیم فرد کی عمر کم از کم 18 سال ہونا ضروری ہے اور اس کے پاس متحدہ عرب امارات کی درست اماراتی شناختی دستاویز موجود ہونی چاہیے۔ مدعو کیا جانے والا شخص متحدہ عرب امارات کا رہائشی نہیں ہونا چاہیے بلکہ وہ سیاحتی ویزا یا ویزا آن ارائیول کے ذریعے دبئی آئے گا۔ ہر اہل رہائشی اس پروگرام کے تحت محدود تعداد میں ریوارڈ پیکجز حاصل کر سکتا ہے۔
حکومت کے مطابق مدعو کیے گئے مہمانوں کو 31 اکتوبر 2026 تک دبئی پہنچنا ہوگا، جبکہ پروگرام کے تحت ملنے والے ریوارڈز اور ڈسکاؤنٹ واؤچرز دسمبر 2026 کے اختتام تک استعمال کیے جا سکیں گے۔دبئی حکومت کا کہنا ہے کہ "دبئی انوائٹ” پروگرام اس کے وسیع معاشی وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد دبئی کو دنیا کے نمایاں سیاحتی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے مراکز میں شامل رکھنا اور مقامی رہائشیوں کو بھی سیاحت کے فروغ میں شریک کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سکیم کو "مفت دبئی سفر” سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ درحقیقت یہ ایک ریفرل اور ریوارڈ پروگرام ہے، جس میں اصل مراعات دبئی میں مقیم دعوت دینے والے رہائشی کو ملتی ہیں، جبکہ مدعو کیا گیا مہمان صرف مخصوص رعایتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس لیے پاکستانی شہریوں کو اس پروگرام کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ معلومات کے بجائے اس کی اصل شرائط کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
