پشاور میں PTIکا 5اگست کا جلسہ عوامی تنقید کی زد میں کیوں؟

خیبرپختونخوا کے واحد بین الاقوامی معیار کے کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سیاسی جلسہ منعقد کرنے کے اعلان نے کھیل اور سیاست کے درمیان حدِ فاصل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اربوں روپے کی لاگت سے ازسرِنو تعمیر ہونے والا یہ سٹیڈیم ابھی تک قومی اور بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کا منتظر ہے، مگر اس سے پہلے اسے سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ سامنے آ گیا۔ حکومت اس اقدام کو اپنی انتظامی صوابدید قرار دے رہی ہے، جبکہ کھیلوں سے وابستہ حلقے اسے سٹیڈیم کے بنیادی مقصد سے انحراف اور ایک نامناسب روایت قرار دے رہے ہیں۔
پشاور میں واقع عمران خان کرکٹ سٹیڈیم، جو ماضی میں ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کے نام سے جانا جاتا تھا، ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ اس بار وجہ کوئی بین الاقوامی کرکٹ مقابلہ نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف کا 5 اگست کو اسی سٹیڈیم میں سیاسی جلسہ منعقد کرنے کا اعلان ہے۔ پارٹی قیادت کے مطابق جلسے میں صوبے بھر سے کارکن شریک ہوں گے اور مرکزی رہنماؤں کے ساتھ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بھی خطاب کریں گے۔
یہ سٹیڈیم صوبے کا واحد بین الاقوامی معیار کا کرکٹ میدان ہے، جہاں ماضی میں عالمی مقابلے، 1996 کے ورلڈ کپ کے میچز اور پاکستان و بھارت کے درمیان یادگار مقابلے بھی منعقد ہو چکے ہیں۔ 2018 میں اس کی ازسرِنو تعمیر کا منصوبہ شروع ہوا، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر کئی برس تاخیر کا شکار رہا۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد حکومت نے نہ صرف اس کا نام تبدیل کیا بلکہ بین الاقوامی کرکٹ اور پاکستان سپر لیگ کے میچز کی بحالی کے وعدے بھی کیے۔
تاہم سٹیڈیم میں سیاسی جلسے کے اعلان نے کھیلوں کے حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اسپورٹس تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی معیار کے کھیل کے میدانوں کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا ایک غلط روایت کو جنم دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات مستقبل میں دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے بھی نظیر بن سکتے ہیں، جس سے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کا اصل مقصد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سینیئر اسپورٹس صحافی عمران یوسفزئی کے مطابق یہ سٹیڈیم خیبرپختونخوا کی کرکٹ تاریخ کی علامت ہے، جہاں دنیا کے کئی نامور کھلاڑی کھیل چکے ہیں۔ ان کے بقول اگر مقصد سیاسی اجتماعات ہی تھا تو اربوں روپے خرچ کرکے بین الاقوامی معیار کی سہولتیں فراہم کرنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پشاور میں جلسوں کے لیے دیگر وسیع مقامات موجود ہیں، اس لیے کرکٹ سٹیڈیم کا انتخاب مناسب فیصلہ نہیں۔
نوجوان صحافی عارف حیات بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر آج ایک جماعت سٹیڈیم میں جلسہ کرتی ہے تو کل دوسری جماعت بھی یہی مطالبہ کرے گی، جس سے کھیلوں کے میدان سیاسی سرگرمیوں کا مستقل مرکز بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنی توجہ بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی، کھیلوں کے فروغ اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے پر مرکوز رکھنی چاہیے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت اس فیصلے کا دفاع کر رہی ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق سٹیڈیم صوبائی حکومت کی ملکیت ہے، اس لیے وہاں سیاسی جلسہ منعقد کرنا قانونی اور انتظامی طور پر درست ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جلسے کے دوران سٹیڈیم کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا اور اس سے قبل بھی اسی مقام پر عوامی اسمبلی کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔
مبصرین کے مطابق اس معاملے نے ایک وسیع تر سوال کو جنم دیا ہے کہ آیا قومی کھیلوں کی تنصیبات کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے یا انہیں صرف کھیلوں، ثقافتی اور عوامی تقریبات تک محدود رکھا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے میدان قومی اثاثہ ہوتے ہیں اور ان کا بنیادی مقصد کھیلوں کا فروغ، نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی اور بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی ہونا چاہیے۔آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا سٹیڈیم میں سیاسی جلسے کا انعقاد ایک وقتی فیصلہ ثابت ہوتا ہے یا پھر مستقبل میں کھیلوں کے میدانوں کے استعمال کے حوالے سے ایک نئی روایت قائم ہو جاتی ہے، جس کے اثرات کھیل اور سیاست دونوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
