عدلیہ کے کالے سانپوں نے کئی وزرائے اعظم کو فارغ کرایا،بلاول  بھٹو

 چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کاکہنا ہے کہ  عدلیہ کے کالے سانپوں نے کئی وزرائے اعظم کو فارغ کرایا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کاقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  ترمیمی بل میں سب سے زیادہ میری محنت نہیں، مولانا فضل الرحمٰن کی ہے، میثاق جمہوریت پر محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے دستخط کیے، بے شک اپوزیشن اس بل کو ووٹ نہ دیں یہ ان کا حق ہے، ہمارے بھائی ووٹ دیں یا نہیں ان کی بھی سیاسی کامیابی ہے، 18 ویں ترمیم کے وقت آئین سے آمر کے کالے قوانین نکالے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ بےشک اپوزیشن اس بل کو ووٹ نہ دیں یہ ان کا حق ہے، ہمارے بھائی ووٹ دیں یا نہیں ان کی بھی سیاسی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم میں وفاق کے وسائل صوبوں کے ساتھ شیئر کیے گئے، اس طرح آج عدالت کے اختیارات کو بھی برابری کی سطح پر لارہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کیا ہم بھول چکے ہیں کہ عدالت کیا تاریخ کیا ہے، اس طرح آج عدالت کے اختیارات کو بھی برابری کی سطح پر لارہے ہیں، ہماری عدالت کا جمہوریت، آئین کا تحفظ اور آمریت کا راستہ روکنا تھا، ڈکٹیٹرشپ کی کامیابی میں صف اول کا کردار تو عدالت کارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) مشرف نے ملک پر راج کیا تو ان کو اجازت عدالت نے دی، یونیفارم میں صدر کا الیکشن لڑنے کی اجازت بھی عدالت نے دی، ڈکٹیٹرشپ کی کامیابی میں صف اول کا کردار تو عدالت کا رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اپوزیشن کے دوست کالے سانپ کی بات کررہے ہیں، میری نظر میں اس آئین کے لیے کالا سانپ افتخار چوہدری والا لعنت ہے، آپ ہماری وزیر اعظم کو انصاف نہ دلا سکے، ہم نے عدم اعتماد کو جائز طریقہ سمجھا، عدالت غیر آئینی طریقے سے ہم سے اختیار چھینتی ہے، قائد اعظم محمد علی جناح نے آئینی عدالت کی بات کی۔

 بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدم اعتماد کو جائز طریقہ سمجھا، عدالت غیر آئینی طریقے سے ہم سے اختیار چھینتی ہے، ایک وزیراعظم کو خط نہ لکھنے پر فارغ کردیا گیا، کالے سانپ نے ایک نہیں کئی وزرائے اعظم کو فارغ کرایا، جسٹس دراب پٹیل پی سی او کا حلف لیتا تو چیف جسٹس بنتا، جسٹس دراب پٹیل نے بھی آئینی عدالت کی تجویز دی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم نے کہا کہ عدالتی اصلاحات ہونی چاہیں تو افتخار چوہدری نے اٹھارویں ترمیم پھینک دی، آئینی عدالت کی سوچ آج کی نہیں بلکہ یہ بحث قائد اعظم محمد علی جناح سے شروع ہوئی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے مطالبے پر آئینی عدالت چھوڑ کر آئینی بینچ بنانے جارہے ہیں، افتخار چوہدری کی بلیک میلنگ میں 19 ویں ترمیم منظور کی گئی، آئینی عدالت کی سوچ آج کی نہیں بلکہ یہ بحث قائد اعظم محمد علی جناح سے شروع ہوئی، 2022 میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بھی آئینی عدالت کی حمایت کی گئی۔

 چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کاکہنا تھا کہ رضار بانی نے اُسی کانفرنس میں کہاکہ آئینی عدالت نہیں تو آئینی بینچ دیاجائے، قائداعظم کے دور سے جو سوچ چلی آرہی ہے ہم وہ آج پوری کرنے جارہے ہیں، پوری دنیا میں ایسی مثال نہیں کہ جج جج کو لگائے اور ہٹائے، کہتے ہیں پارلیمان کون ہوتا ہے، ہم عوام کے نمائندے ہیں، 1964 میں بینظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں، ان سے برداشت نہیں ہورہا تھا کہ بینظیر جج کی تعیناتی کرے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اختیار وزیر اعظم سے چوری کرکے جیب میں رکھا، آئین کے چیمپئنز نے مشرف کے دور میں حلف لیا۔

Back to top button