آئینی بینچ کی جانب سے حکومت کو دو تہائی اکثریت دیے جانے کا امکان

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 14 نومبر سے آئینی کیسز کی سماعت کے فیصلے کے بعد حکومت نے خصوصی نشستوں کی بحالی سمیت دیگر نظرثانی درخواستوں بارے اپنی معروضات مرتب کرلی ہیں، حکومت پر امید ہے کہ سپریم کورٹ سے عمراندار ججز کا سایہ ختم ہونے کے بعد نہ صرف انھیں جلد دو تہائی اکثریت مل جائے گی بلکہ عمرانی محبت میں خلاف آئین فیصلے آنے کا سلسلہ بھی ہمیشہ کیلیے رک جائے گا۔ اسی لیے آئینی بینچ کے فعال ہونے کے آثار نمایاں ہونے کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کے عمراندار ججز کی پریشانیاں ان کے ریمارکس کی صورت میں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق اس وقت حکومت کی تمام تر توجہ ترجیحاً ان آئینی درخواستوں کے فیصلے پر مرتکزہے جو کئی ہفتوں سے زیر سماعت ہی نہیں آسکیں،حکومت مطمئن ہے کہ عدالتی مہم جوئی اور ماورائے آئین فیصلے صادر ہونے کا پھاٹک بند ہو گیا ہے،بارہ جولائی کے متنازع فیصلے کی پشت پر کارفرما جج تتر بتر ہو گئے ہیں،قانون دانوں کی بھاری اکثریت متنازع فیصلوں کو نادرست قرار دے رہی ہے، ایسی صورت میں ان کو ریلیف ملنا سو فیصد یقینی ہو گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم کورٹ کی سطح پر آئینی بینچ کی تشکیل اور اسکے فعال ہونے کے بع حکومت کی تمام ترتوجہ ترجیحاً ان آئینی نوعیت کی درخواستوں پر فیصلے کی استدعا پر مرکوز رہے گی جو کئی ہفتوں سے زیر سماعت ہی نہیں آسکیں اور جن کے باعث حکومت کےلیے مشکلات پیدا ہوتی رہی ہیں جن میں مخصوص نشستوں بارے نظرثانی درخواست سر فہرست ہے کیونکہ مخصوص نشستوں بارے نظرثانی درخواست پر فیصلہ حکومت کے حق میں آنے کی صورت میں نہ صرف اتحادی جماعتوں کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی بلکہ وہ کسی قسم کی آئینی ترامیم کرنے میں بھی خودمختار ہو جائے گی اور اسے جے یو آئی یا پی ٹی آئی کے آزاد اراکین کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ سے عمرانداری دور کے خاتمے کے بعد اب عدالتی مہم جوئی اورماورائے آئین فیصلے صادر ہونے کےامکانات ختم ہوگئے ہیں اور فیصلوں پر سیاسی غلبہ آئندہ کبھی دکھائی نہیں دے گا۔

بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم کورٹ میں قائم آئینی بینچ کو آنے والے دنوں میں خاص طور پر ایگزیکٹو یا دیگر ریاستی اداروں کے اثر و رسوخ کے بغیر عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھنے کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ مارچ 2009 سے عدالت عظمیٰ نے ملکی سیاست کی تشکیل میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ سپریم کورٹ کے عمراندار ججز نے ہم خیال ججز پر مشتمل بینچز کی تشکیل سے حکومت کو فل۔سپورٹ اور پروٹیکشن دی اور گڈ ٹو سی یو سمیت ایسی مثالیں سامنے آئیں کہ انصاف پسند ججز بھی اس پر منہ چھپاتے دکھائی دئیے۔

اس وقت کے چیف جسٹس ادارے کے سربراہ ہونے کے ناطے اپنی مرضی سے عدالت کا ایجنڈا ترتیب دیتے رہے اپنی مرضی کے بینچز سے آئین سے ماورا اپنی مرضی کے فیصلے کروا کر  ملک میں جمہوریت کو مزید کمزور کرتے رہے۔ سپریم کورٹ میں فرد واحد کی اجارہ داری دکھائی دی۔ ون پیج کی وجہ سے ماضی میں سپریم کورٹ اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات خوشگوار رہے۔ تاہم اب حکومت نے یہ سلسلہ ہمیشہ کیلیے روک دیا ہے۔ اب آئینی پینچز کے ذریعے ذاتی پسند یا ناپسند ہی بجائے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے سامنے آئیں گے۔

مبصرین کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑی سیاسی جماعتیں خاص طور پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جوڈیشل ایکٹوازم کا شکار رہیں۔ جس وقت ان چیف جسٹسز نے پسندیدہ نتائج حاصل کرنے کے لیے اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال شروع کردیا تو عدلیہ کے اندر تقسیم شروع ہوگئی ۔

بلوچستان میں فوجی آپریشن کی اصل حقیقت کیا ہے؟

ماضی قریب میں تو ججوں نے ایک دوسرے کے خلاف ہوکر بیرونی اداروں کی مدد شروع کردی۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں تو سپریم کورٹ کو دو کیمپوں میں تقسیم کردیا گیا۔ جس کے اثرات اب تک دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم قانون پسند جج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم آئینی بینچ کی تشکیل کے بعد یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ اب عدالت عظمی سے عمراندارانہ فیصلے آنے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔

Back to top button