پرویز الٰہی اور شاہ محمود کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کنفرم ہو گئی

9؍ مئی 2023 کو تحریک انصاف کے کارکنان کو فوجی تنصیبات پر حملوں کیلئے اکسانے کے الزام پر نگران حکومت کی تشکیل کردہ کابینہ کمیٹی کی رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور صدر پرویز الہی تب سے اب تک اسٹیبلشمنٹ کے رابطے میں ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی اور پرویز الہی کے نام نو مئی کے ملزمان کی لسٹ میں سے نکال دیے گئے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ چوہدری پرویز الہی رہائی کے بعد سے مکمل طور پر خاموشی اختیار کر چکے ہیں جبکہ شاہ محمود قریشی بھی عدالتی پیشی کے موقع پر مکمل چپ سادھے رکھتے ہیں۔ پرویز الہی کے مفرور صاحبزادے مونس الہی کبھی کبھار حکومت کے خلاف ٹویٹ کر دیتے ہیں لیکن خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب سے مونس پیسہ سمیٹ کر بیرون ملک فرار ہوئے ہیں ان کے اپنے والد سے اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ اسکے علاوہ شاہ محمود کے صاحبزادے زین قریشی اور صاحبزادی مہر بانو قریشی بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ پر کبھی تنقید کرتے دکھائی نہیں دیے۔

سینیئر صحافی انصار عباسی کے مطابق نگران دور حکومت میں 9 مئی کے افسوسناک حملوں کے حوالے سے مرتب کردہ رپورٹ جب موجودہ وفاقی کابینہ کے روبرو پیش کی گئی تو پی ٹی آئی کے کئی رہنمائوں کے مبینہ کردار بارے تفصیلات افشا ہوئیں۔ اگرچہ اس رپورٹ میں پی عمران خان کے ملوث ہونے کی بات کی گئی ہے اور ان پر سرگرم انداز سے 9؍ مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے لیکن اس میں پرویز الٰہی اور شاہ محمود قریشی کے نام شامل نہیں ہیں۔ اس رپورٹ میں تحریک انصاف کے تقریبا تمام مرکزی رہنماؤں کے نام بطور ملزمان شامل ہیں لیکن شاہ محمود قریشی اور پرویز الہی چونکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں  آ چکے تھے لہذا ان کے نام اس میں شامل نہیں کیے گئے تھے۔

9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے حوالے سے مرتب کردہ رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح پی ٹی آئی کے درجنوں رہنمائوں نے تشدد اور گھیراو جلاو کو ہوا دی۔ 8 مئی کے واقعات کو ریاستی اداروں پر ایک غیر معمولی حملہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اس کا بنیادی مقصد لوگوں خو فوجی قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسانا تھا۔ انصسر عباسی کے نطابق نگران دور کی رپورٹ سے پرویز الٰہی اور شاہ محمود قریشی کا اخراج اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ آخر دونوں رہنما اب مکمل خاموشی کیوں اختیار کیے بیٹھے ہیں۔

عمران خان کے علاوہ 9 مئی کی رپورٹ میں جن دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے اُن میں حماد اظہر، زرتاج گل، مراد سعید، فرخ حبیب، علی امین گنڈاپور، علی زیدی، انعم شیخ ، شاندانہ گلزار خان، کنول شوزب، سینیٹر اعجاز چوہدری، فیصل جاوید اور شہریار آفریدی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ تحریک انصاف کے جن دیگر رہنماؤں کو 9 مئی کے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ان میں عمر ملک، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، جمشید اقبال چیمہ، زبیر نیازی، عمر چیمہ، حسان نیازی، عائشہ اقبال، عالیہ حمزہ، منزہ حسن، مسرت چیمہ، علیمہ خان، نوشین حامد، صداقت عباسی، واثق قیوم، عمر بٹ، جہانگیر بٹ، راجہ عثمان، عاطف قریشی، مسلم خان، ذیشان ممتاز، قیصر خان، زکی بٹ، ملک عابد، سیمابیہ طاہر، آصف محمود، طیبہ ابراہیم، شبانہ فیاض اور اظہر میر کے نام شامل ہیں۔

9 مئی کے افسوسناک واقعات کے ایک سال بعد سیاسی منظر نامے پر بھی بہت کچھ بدل چکا ہے لیکن تاحال ان واقعات کی تحقیقات کے لیے کوئی جوڈیشل کمیشن قائم نہیں کیا گیا۔ اس دوران تحریک انصاف کے س سے زائد ورکرز کو نو مئی کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام پر لمبی قید کی سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔ تحریک انصاف کے چند رہنما اور کارکن یا تو ابھی بھی جیلوں میں ہیں یا روپوشی کی زندگیاں گزار رہے ہیں جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو متعدد کیسوں میں سزائیں دی جا چکی ہیں اور اپنے خلاف باقی مقدمات وہ اڈیالہ جیل میں ہی بھگت رہے ہیں۔

ایسے میں سیاسی ڈیڈ لاک کی ایک فضا قائم ہے، 9 مئی کے واقعات پر رپورٹ کرنے والی صحافی بینظیر شاہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ ریاست اس معاملے پر صرف اپنا غصہ نکال رہی ہے، جیسے انتقام لینے کی کوشش کر رہی ہو بجائے یہ کہ اسکی تحقیقات ہوں اور قانونی تقاضے پورے ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اس کا آسان سا حل یہ ہے کہ آپ 9 مئی کے الزامات کی تحقیقات کروا لیں۔ اس حوالے سے شفاف تحقیقات ہونی چاہییں، تاکہ سب کو پتا چلے کہ اصل میں کون ملوث تھا اور کس نے اس میں کردار ادا کیا۔ انکا کہنا یے کہ ہم تب تک آگے نہیں بڑھ پائیں گے جب تک یہ کام نہیں ہو جاتا۔ جب تک آپ ان سوالوں کے جواب نہیں دیں گے جن کا پچھلے ایک سال سے جواب نہیں مل رہا، تب تک ہم آگے نہیں بڑھ سکتے اور آئندہ کے لائحہ عمل کی بات ہی نہیں کر سکتے۔

لیکن حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات اور پروسیکیوشن جاری ہے اور بے نظیر شاہ کو شاید قانونی طریقہ کار کا علم نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نو مئی کے واقعات کی تحقیقات اور پروسیکیوشن کا عمل شفاف انداز میں مکمل ہونے کے بعد ہی 100 سے زائد تحریک انصاف کے گرفتار کردہ کارکنان کو فوجی عدالتوں کی جانب سے قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ یاد رہے کہ درجنوں پی ٹی ائی کارکنان نے فوجی عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کے بعد معافی کی اپیلیں دائر کی تھیں جنہیں منظور کرتے ہوئے انہیں رہا بھی کر دیا گیا۔

کیا اپوزیشن جماعتیں 9 مئی کے منصوبہ ساز کا ساتھ دیں گی؟

صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’ہماری بدقسمتی ہے کہ کسی بھی واقعے سے جمہوری سپیس بڑھتی نہیں ہے، ہر واقعے سے جمہوری سپیس کم ہو جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے میرا اس وقت سے یہی پیغام ہے کہ سیاسی جماعتوں کو یہ طریقہ کار سوٹ ہی نہیں کرتا۔ کیونکہ یہ طاقت کا میدان ہے۔‘ دوسرا میرا خیال ہے کہ 9 مئی کے حملوں میں ملوث تمام افراد کو معاف کر دینا چاہیے۔ انھیں سزائیں مل گئیں، انھوں نے سبق سیکھ لیا لیکن جو ماسٹر مائنڈ تھے انھیں سزائیں دینی چاہییں کیونکہ حملوں کے اصل ذمہ دار وہی قائدین تھے جنہیں ابھی تک اس الزام پر کوئی سزا نہیں سنائی گئی۔

Back to top button