بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن جواب تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا : شہباز شریف

 

 

 

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بھارت کو دیاگیا فیصلہ کن جواب تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائےگا، بھارت سے جنگ جیتنے کے باوجود سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کا حل چاہتےہیں۔

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں قرآن پاک کی آیت کریمہ کے آغاز سے خطاب کرتےہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کہنا تھا کہ رواں سال مئی میں پاکستان کو اپنی مشرقی سرحد پر جارحیت کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا،بھارت نے پہلگام حملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش قبول کرنے کےبجائے ہمارے شہروں پر حملے کیے۔

وزیراعظم نے آپریشن بنیان مرصوص کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کو ایسا فیصلہ کن جواب دیا جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،بھارت کے 7 جنگی طیاروں کو ملبے کا ڈھیر بنادیا گیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں جرات کا مظاہرہ کیا، ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کی قیادت میں شاہینوں نے دشمن کو زیر کیا۔

 

 

شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیام امن کی کوششوں کو سراہا اور کہاکہ ہمارے خطے میں قیام امن کی کوششوں کے اعتراف میں پاکستان نے انہیں امن کے نوبیل انعام کےلیے نامزد کیا۔

 

انہوں نے کہاکہ ہم جنگ جیت چکےہیں اور اب ہم اپنے خطے میں امن چاہتے ہیں، پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور پر  جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کےلیے تیار ہے۔ہم کشمیری عوام کو یقین دلانا چاہتےہیں پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ایک دن کشمیری اپنا حق خود ارادیت حاصل کریں گےاور بھارت کا قبضہ ختم ہوگا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ تقریباً 80 سالوں سے فلسطینی عوام اسرائیلی ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں، مغربی کنارے میں فلسطینی اسرائیلی آباد کاروں کی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں جب کہ غزہ میں بھی فلسطینی عورتیں اور بچے اسرائیلی فوج کی درندگی کا نشانہ بن رہے ہیں۔غزہ میں فوری اور اسی وقت جنگ بندی ہونی چاہیے،پاکستان آزاد اور خود مختار فسلطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتاہے جو 1967 کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

شہباز شریف نے قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتےہوئے کہاکہ پاکستان اپنے قطری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

وزیر اعظم نے کہاکہ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جاناچاہیے۔پاکستان دہشت گردوں کے آگے ایک دیوار ہےجس نے دنیا کو دہشت گردی سے بچایا ہوا ہے۔

 

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان سکیورٹی کونسل کے غیرمستقل رکن کے طور پر تنازعات کو روکنے کےلیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ امن، انصاف اور ترقی کی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیراعظم کاکہنا تھاکہ موسمیاتی تبدیلوں سے نمٹنے کےلیے مل کر اقدامات کرنا ہوں گے،پاکستان کا کاربن کے اخراج میں ایک فیصد حصہ ہے،رواں سال بھی پاکستان کو بڑے سیلاب اور قدرتی آفات میں ہمیں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا،2022 میں بھی سیلاب سے ہماری کئی بستیاں تباہ کردیں

 

Back to top button