قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل،47قوانین منظور

144دن پر مشتمل 16ویں قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل ہوگیا،26ویں آئینی ترمیم سمیت 47قوانین اور26قراردادیں منظور کی گئیں۔

 قومی اسمبلی کے13سیشنز کے دوران مجموعی طور پر 93 نشستیں منعقد ہوئیں،ایوان کی کاروائی247 گھنٹے 23 منٹ تک چلتی رہی۔

پہلے پارلیمانی سال کے دوران انتخابات کے باوجود قومی اسمبلی کا ایوان نامکمل رہا، پارلیمنٹ سے منظور قانون سازی میں عوامی مفاد کا تاثر کم جبکہ سیاسی مفادات کے حصول کی کاوشیں دیکھنے میں زیادہ نظر آئیں۔

مسلم لیگ ن کے صدرنواز شریف اور حمزہ شہباز کی سب سے کم حاضری رہی، صرف 5دن شریک ہوئے،وزیر اعظم شہباز شریف11،اپوزیشن لیڈرعمر ایوب کی حاضری کی تناسب سب سے زیا دہ رہا،حکومت قانون سازی اور اپوزیشن احتجاج میں مصروف رہی،سیاسی مسائل عوامی مسائل پرحاوی رہے۔

قومی اسمبلی میں سیاسی انتشار رہا،اپوزیشن سراپا احتجاج رہی،حکومت نے پوری رات قانون سازی کا ریکارڈ قائم کر ڈالا،قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کے منظوری کے دوران اقلیت کو اکثریت میں بدلتے دیکھا گیا،پریکٹس اینڈ پروسیجر اور الیکشن ایکٹ میں ایک کے بعد ایک قانون سے سیاسی ماحول کو گرمائے رکھا۔

پارلیمانی سال کے دوران قومی اسمبلی میں91بل پیش کیے گئے حکومت کی جانب سے 30 جبکہ اراکین اسمبلی کی جانب سے61قوانین ایوان میں متعارف کرائے گئے جبکہ قومی اسمبلی میں حکومت اور پرائیوٹ ممبر کی جانب سے پیش بلوں میں سے 47پر قانون سازی ہوئی۔

Back to top button