حکومت نے آئینی ترامیم کا پیکج پاس کروانے کا فارمولا ڈھونڈ لیا

وفاقی حکومت نے آئینی ترامیم کی منظوری کے لیے پارلیمینٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی امید اب چیف جسٹس فائز عیسی سے وابستہ کر لی ہے جو 30 ستمبر کو آئین کے آرٹیکل 63 اے بارے نظرثانی درخواستوں کے سماعت کرنے جا رہے ہیں۔ یہ کیس سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی لارجر بنچ کے سامنے فکس کر دیا ہے، جس میں فائز عیسیٰ، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں۔ یاد رہے کہ مئی 2022ء میں سپریم کورٹ کے تب کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے بنچ نے قرار دیا تھا کہ منخرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔ اس فیصلے سے وزیراعلی حمزہ شہباز کی حکومت ختم ہو گئی تھی اور پرویز الہی وزیراعلی بن گئے تھے۔ تب اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کو انصاف کا قتل قرار دیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ منحرف اراکین کی نا اہلی کی صورت میں ان کا ووٹ لازمی شمار کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر ہوئی تھی جسے دو سال گزر جانے کے باوجود سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ اب اس کیس کی سماعت 30 ستمبر کو ہونے جا رہی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ نظر ثانی اپیل منظور ہو جائے گی اور منحرف اراکین کہ ووٹ شمار کرنے کا فیصلہ آ جائے گا۔ یوں اگر آئینی ترامیم پاس کروانے کے لیے اگر کسی دوسری جماعت کا رکن حکومت کے حق میں ووٹ دیتا ہے تو وہ نااہل تو ہو جائے گا لیکن اس کا ووٹ شمار ہو جائے گا اور یوں حکومت دو تہائی اکثریت سے ترامیم پاس کروا لے گی۔ حکومتی منصوبے کے مطابق ائینی ترامیم پاس ہونے کے بعد نااہل ہونے والے اراکین کو سینٹ اور قومی اسمبلیوں الیکشن کے ذریعے دوبارہ منتخب کروا لیا جائے گا۔

اس دوران جسٹس منصور علی شاہ کی زیر قیادت عمران دار ججز کا ایک گروہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے ساتھ جاری جنگ کو اخری حدوں تک پہنچا چکا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز نے ایک دوسرے کے فیصلوں اور اقدامات پر سوالات اٹھانا شروع کر دیئے ہیں، تیرہ رکنی بنچ کے 8 ججز فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے نتائج کے حوالے سے تنبیہ کر رہے ہیں تو دو ججز اس پر کہہ چکے ہیں کہ جو فیصلہ آئین کے خلاف ہو اس پر عملد رآمد نہ کیا جائے، 8 ججز اختلافِ رائے رکھنے والے دو جج صاحبان کے اختلافی فیصلے کو انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ قرار دے رہے ہیں، 8 جج صاحبان اپنے فیصلے پر وضاحت جاری کرتے ہیں تو چیف جسٹس آف پاکستان اس وضاحت جاری کرنے کے طریقِ کار پر 9 سوالات اٹھا دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کیلئے آرڈیننس جاری ہونے کے چند ہی گھنٹوں میں چیف جسٹس آف پاکستان کیسز مقرر کرنے والی ججز کمیٹی کو تبدیل کر دیا تھا، جسٹس منیب اختر کی جگہ جسٹس امین الدین خان کو کمیٹی میں شامل کر دیا گیا تھا جس پر کمیٹی کے رکن اور سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے پرانی کمیٹی بحال ہونے تک اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک خط میں مطالبہ کر دیا کہ فل کورٹ بنچ یا سپریم کورٹ کے تمام ججز کا اجلاس بلا کر معاملے پر فیصلہ کیا جائے۔ تاہم چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے منصور علی شاہ کا اعتراض سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنا آیینی اختیار استعمال کرتے ہوئے تین رکنی ججز کمیٹی تشکیل دی ہے اور جسٹس منیب اختر نے خود اس میں شمولیت سے انکار کر دیا تھا۔

عدلیہ کے اندر اس تقسیم کا تعلق 25 اکتوبر کو ہونے والی چیف جسٹس کی تبدیلی سے بھی ہے جس کیلئے اعصاب کی جنگ شروع ہو چکی ہے، ہر دن ایک کے بعد ایک پیشرفت اور سینے سے لگے کارڈز عدلیہ، پارلیمان اور ملکی سیاست میں بھونچال لاتے ہیں، عدلیہ میں اس اختلاف کا فائدہ حکومت کو ہو رہا ہے جو طے کر چکی ہے کہ ہر صورت آئینی ترمیم کر کے آئینی عدالت بنائی جائے گی تاکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے بڑے اختیارات نئی عدالت کو منتقل کر دیئے جائیں۔

آئینی ترمیم کرنے کیلئے حکومت کو دو تہائی اکثریت درکار ہے جس کیلئے اس کی نظریں تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر تھیں مگر مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے نے حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو چکرا کر رکھ دیا ہے، پہلے 12 جولائی کو مختصر فیصلہ جاری ہوا، چند روز قبل الیکشن کمیشن کی درخواست پر 8 جج صاحبان کی وضاحت آئی اور اب دو روز قبل جاری ہونے والے تفصیلی فیصلے نے صورتحال کو تبدیل کر دیا ہے۔ ایک جانب جہاں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد گزشتہ اڑھائی ماہ سے رکا ہوا ہے وہیں حکومت اور الیکشن کمیشن کئی کوششوں کے باوجود مخصوص نشستوں سے متعلق اپنی مرضی کا قدم اٹھانے میں ناکام نظر آتے ہیں، مخصوص نشستوں بارے اکثریتی ججوں کا تفصیلی فیصلہ جاری ہونے کے بعد پارلیمنٹ کی جانب سے سادہ اکثریت کے ساتھ الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترمیم بھی اب غیر مؤثر ہو چکی ہے، اور جسٹس منصور علی شاہ نے یہ راستہ بھی بند کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 8 ججز نے اپنے تفصیلی فیصلے میں مخصوص نشستوں کی تقسیم بارے الیکشن کمیشن کو اختیار دینے والے رُول 94 کی وضاحت کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے بعد اب الیکشن کمیشن، جو کہ تحریک انصاف کی مخصوص نشستیں (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں میں تقسیم کرنے کیلئے پر تول رہا تھا، اب اہنا یہ اختیار استعمال نہیں کر سکتا، دوسری جانب سپیکر نے ایک خط کے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بتایا ہے کہ پارلیمان مخصوص نشستوں سے متعلق قانون میں ترمیم کر چکی ہے اور اب نشستیں اس ترمیم کی روشنی میں تقسیم ہوں گی۔

ایسے میں الیکشن کمیشن پریشان ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہو ا تو اسے خمیازہ اسکا بھگتنا پڑے گا، مگر فیصلے پر عملدرآمد کی صورت میں بھی اس کیلئے بڑے مسائل کھڑے یو جاتے ہیں کیونکہ دوسری جانب سپیکر قومی اسمبلی بھی اسے الیکشن ترمیمی ایکٹ کی روشنی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ چنانچہ الیکشن کمیشن اف پاکستان نے سات روز مسلسل مشاورتی اجلاس کرنے کے بعد اب سپریم کورٹ میں ایک نئی اپیل دائر کر دی ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی آرٹیکل 63 کی نظر ثانی اپیل پر فوری فیصلہ کر دیتے ہیں تو ہھر حکومت کی مشکلات ختم ہو جائیں گی اور اسے آئینی ترامیم کا پیکج پاس کروانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل ہو جائے گی۔

Back to top button