چینی شہریوں کے تحفظ میں ناکامی کی ذمہ دار حکومت یے یا فوج؟

کراچی ایئرپورٹ کے قریب بلوچستان لبریشن آرمی کے ایک خودکش بمبار کے ہاتھوں دو چینی انجینیئرز کی موت کے بعد پاکستان اور چین کے تعلقات ایک مرتبہ پھر خرابی کا شکار ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی حکام نے پاکستان میں اپنے شہریوں، خصوصا سی پیک پروجیکٹ پر کام کرنے والوں کو مسلسل دہشت گرد حملوں میں نشانہ بنائے جانے کے بعد ہاتھ کھڑے کر دیے تھے اور دھمکی دی تھی کہ وہ اپنے شہریوں کو واپس بلا لے گا۔ تاہم وزیر اعظم شہباز شریف نے چین جا کر وہاں کے وزیراعظم کو یقین دہانی کروائے تھی کہ اب ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوگا۔ تاہم حکومت پاکستان اپنا یہ وعدہ پورا کرنے میں ناکام ہو گئی ہے جس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چینی حکومت پاکستان میں اہم ترین سی پیک پروجیکٹس پر کام کرنے والے ماہرین کو واپس بلا سکتی ہے۔
یاد ریے کہ اس مرتبہ بلوچستان لبریشن آرمی کے خودکش بمبار نے پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کے لیے کام کرنے والے چینی انجینئیرز کے قافلے کو نشانہ بنایا ہے۔ واضح رہے کہ 6 اکتوبر کی تسر کراچی انٹرنیشنل ایئر پورٹ سگنل کے قریب ایک زوردار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 2 چینی شہریوں سمیت 3 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے۔ دھماکے سے کئی گاڑیاں بھی جل کر تباہ ہو گئیں۔ پاکستان میں چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ دھماکے میں 2 چینی شہری چل بسے ہیں جبکہ ایک زخمی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ پر چینی عملے کو لے جانے والے قافلے پر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب حملہ کیا گیا۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے تصدیق کی کہ 2 چینی شہریوں کی لاشیں جناح ہسپتال لائی گئی ہیں۔ دوسری جانب، ایدھی فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں بتایا کہ پیر کی صبح جائے وقوعہ سے کچھ دور جھاڑیوں کے پاس سے ملنے والی لاش کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اموات کی تعداد 3 تک جا پہنچی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے نے ای میل کیے گئے ایک بیان میں کراچی حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایک گاڑی میں دیسی ساختہ بم کے ذریعے کیے گے دھماکے میں چینی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور یہ مشن کامیاب رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی ایئر پورٹ کے قریب چینی انجینئیرز پر ہونے والے حملے کی ابتدائی تفتیش سے پتا چلا ہے کہ یہ دھماکا خود کش تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق کراچی ایئرپورٹ کے قریب مہران کار میں سوار حملہ آور غیر ملکیوں کی گاڑی کے نکلنےکا انتظار کر رہا تھا۔ جیسے ہی چینیوں کی کار قریب پہنچی، خودکش بمبار نے اپنی مہران کار ان کی گاڑی سے ٹکرادی جس سے زوردار دھماکا ہوا اور کئی دیگر گاڑیوں میں بھی آگ بھڑک اٹھی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ کار میں طاقت ور بارودی مواد موجود تھا جس سے مہران مکمل تباہ ہو گئی، تفتیش کاروں کی جانب سے کار کی نمبرپلیٹ، انجن اور چیسز نمبر حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دوسری جانب کراچی دھماکے سے متعلق خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، بم ڈسپوزل ایسٹ ، ساؤتھ اور ویسٹ کی ٹیمیں مشترکہ طور پر تفتیش کریں گی، آئی جی سندھ کے احکامات پر خصوصی ٹیم بنائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ بلوچ عسکریت پسندوں کی جانب سے چینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے زیادہ تر واقعات کراچی میں ہی پیش آئے ہیں۔ بلوچستان لبریشن ارمی بار بار چینی حکام کو یہ کھلی دھمکی دے چکی ہے کہ انہیں پاکستان چھوڑ کر جانا ہوگا ورنہ حملوں کا نشانہ بننا ہوگا۔ پاکستانی حکام چینی شہریوں پر ہونے والے ہر دہشت گرد حملے کے بعد یہ یقین دہانی کرواتے ہیں کہ اب سیکیورٹی کو فول پروف بنا دیا گیا ہے لیکن پھر اگلا حملہ پاکستانی حکام کے دعووں کو غلط ثابت کر دیتا ہے۔یاد رہے کہ پاکستان میں سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چائینیز کی حفاظت کے لیے پاک فوج کی ایک پوری ڈویژن موجود ہے جس کی سربراہی ایک میجر جنرل کرتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ چینی شہریوں پر حملے روکنے میں ناکامی کا ذمہ دار کون سا ادارہ ہے؟
اس سے پہلے مارچ 2024 میں خیبر پختونخوا کے علاقے بشام میں ایک خودکش حملے میں پانچ چینی باشندوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانی حکام نے چینی حکومت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ آئندہ ایسے حملے نہیں ہوں گے، لیکن یہ یقین دہانی بھی کھوکھلی نکلی۔ اگر بشام حملے کی ویڈیو فوٹیج دیکھی جائے تو صاف نظر اتا ہے کہ چینی انجینیئرز جس بس میں سفر کر رہے تھے اس کے نہ تو اگے اور نہ ہی پیچھے سکیورٹی موجود تھی، حالانکہ سٹینڈرڈ آپریشنل پروسیجر کے مطابق ایسا ہونا ضروری تھا۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور نے بارود سے اپنی بھری گاڑی چینی شہریوں کو لی کر جانے والی بس سے ٹکرائی جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔ اس سے قبل 2021 میں اپر کوہستان کے علاقے داسو میں بھی چائینیز انجینئیرز کی ایک بس کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں 9 چینیوں سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے میں بھی حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی چینی باشندوں کو لے جانے والی بس سے ٹکرائی تھی۔
اس سے پہلے بھی پاکستان کے دیگر علاقوں بشمول کراچی اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں چینی شہریوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ خیال رہے کہ چین نے پاکستان میں ’چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور‘ یعنی سی پیک پراجیکٹ کے تحت 62 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یوں سی پیک سے منسلک منصوبوں پر کام کرنے کے لیے چینی انجینئرز اور دیگر کارکنان کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے۔ چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے کراچی میں ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے جلد از جلد ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ناقدین چینی شہریوں پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں پاکستان کی طرف سے مہیا کردہ سکیورٹی انتظامات پر سوالات اُٹھا رہے ہیں اور انہیں کو سیکیورٹی اداروں کی مکمل ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے سینٹر مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک بہت بڑا سکیورٹی فیلیئر ہے لہازا میں جاننا چاہوں گا کہ چینی انجینیئرز اور تکنیکی ماہرین کی سکیورٹی کے لیے کیا اصول وضع کیے گئے تھے۔‘ یاد ریے کہ ماضی میں مشاہد کئی بار وزیر بھی رہے ہیں اور حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے ہر حملے کے نیتجے میں چینی حکومت کا اپنی شہریوں کی سکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کی قابلیت پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب بھی پاکستانی وزیراعظم اور صدر کی ملاقات چینی رہنماؤں سے ہوتی ہے تو ’چینی شہریوں کی سکیورٹی کا معاملہ چینی رہنماؤں کی طرف سے ترجیحی بنیاد پر اُٹھایا جاتا ہے۔‘
پاکستان میں چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے فوج، رینجرز، لیویز اور پولیس فورس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی میں چائنیز پر ہونے والے حملوں کے بعد حکومت کی جانب سے ان افراد کی حفاظت کے لیے خصوصی فورس بنانے کے بھی اعلانات سامنے آئے ہیں۔ اسلام آباد میں تعینات ایک سکیورٹی افسر نے بتایا کہ پاکستان میں سی پیک کے منصوبوں پر کام کرنے والے چائینیز کی حفاظت کے لیے ایک ڈویژن موجود ہے جس کی سربراہی پاک فوج کے ایک میجر جنرل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں پولیس کا ایک ’سی پیک یونٹ‘ ہے جو چینی شہریوں کی سکیورٹی کا ذمہ دار ہے اور اس کے علاوہ فرنٹیئر کانسٹبلری کو بھی اکثر اوقات تعینات کیا جاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان میں چینی باشندوں پر مسلسل ہونے والے حملے سکیورٹی اداروں کی صلاحیت پر بی ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔
