چپ رہنے پر نواز شریف کو سیاست سے علیحدگی کا مشورہ مل گیا

میاں محمد شریف مرحوم نے عالم بالا سے لکھے گئے ایک تخیلاتی خط میں اپنے بیٹے نواز شریف کو پیغام بھیجا ہے کہ اگر وہ صدمے، ناراضی اور مایوسی سے باہر نہیں نکلنا چاہتے تو پھر انہیں سیاست سے الگ ہو جانا چاہئے۔ ساتویں اسمان سے لکھا گیا یہ خط دراصل سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے ذہن کی اخترا ہے۔ یہ تخیلاتی خط میاں شریف کی جانب سے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو لکھا گیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس خط میں اور کیا لکھا گیا ہے۔ میاں محمد شریف عرف ابا جی لکھتے ہیں:

میرے پیارے عملیت پسند بیٹے شہباز!

السلام علیکم! عرصہ دراز سے تم سے رابطہ نہیں ہوا۔ جب سے تم دوبارہ وزیر اعظم بنے ہو میں ہر لمحے تمہاری کارکردگی پر پریشان رہتا ہوں، حالات خراب ہوں تو دل کڑھتا ہے اور جب ہوائیں اچھی خبریں لاتی ہیں تو دل خوش ہوتا ہے۔ سب سے پہلے مبارک باد کہ یہ مہینہ بہت اچھا گیا ہے۔ تمہاری حکومت کا نظام چل پڑا ہے۔ آئی ایم ایف کا قرض مل جانا بہت بڑا مثبت پہلو ہے۔ اقوام متحدہ میں تمہاری جاندار تقریر نے مخالفوں کے منہ بند کردیئے ہیں۔ اس تقریر کے فوراً بعد جنرل ضیاء الحق اور کے ایم عارف ہمارے محلے مبارکباد دینے آ پہنچے، میں نے کوئی زیادہ لفٹ نہیں کروائی مگر پھر بھی وہ دیر تک بیٹھ کر شریف خاندان کے قصیدے پڑھتے رہے۔ انہی کی زبانی اس بات کی تصدیق بھی ہوئی کہ فوج کے ساتھ تمہارا رابطہ اور تعلق مضبوط جا رہا ہے، یہ مہینہ تمہارے لئے یوں بھی اچھا ہے کہ سعودی شہزادہ سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ پاکستان آ رہا ہے۔ اسکے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی وجہ سے کئی برسوں کے وقفے کے بعد 7،8 سربراہِ مملکت اکٹھے اسلام آباد آرہے ہیں، بھارتی وزیر خارجہ کا پاکستان آنا بھی بہت بڑی خبر ہے۔ دوسری طرف 63 اے کے فیصلے نے سیاسی طور پر تحریک انصاف کی امیدوں پر اَوس ڈال دی ہے گویا سیاست ، خارجہ پالیسی اور فوج کے تعاون کے حوالے سے تمہارا کلّہ مضبوط ہوا ہے۔

پیارے بیٹے، مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ چینی صدر شی سے بھی تمہارا کافی مضبوط رشتہ بن گیا ہے۔ میں نے تو بریگیڈیئر قیوم اور جنرل جیلانی کا یہ احسان کبھی نہیں بھلایا کہ انہوں نے نواز شریف کو وزیر اعلیٰ بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ مگر اب مجھے اپنے خاندان کے حوالے سے عجیب و غریب خبریں مل رہی ہیں، لگتا ہے ساری روایات بھلا دی گئی ہیں، تمھارا وہ محسن جس نے تحریک عدم اعتماد میں سب سے متحرک کردار ادا کیا، نواز شریف اور فوج کے مذاکرات کروائے، جنرل عاصم منیر کے لیے نواز شریف کے ساتھ سات ملاقاتیں کیں، اور پھر پی ٹی آئی کا فرنٹ فٹ پر مقابلہ کیا، اس محسن کی مریم نواز اور نواز شریف سے اب تک ایک بھی باقاعدہ ملاقات نہیں ہوئی، خدا کا غضب، یہ ہم کس روایت پر چل پڑے ہیں؟ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ اگرچہ چچا ور بھتیجی میں ذاتی محبت اور گرمجوشی بہت ہے لیکن وفاقی اور پنجاب حکومت میں کوئی موثر رابطہ نہیں ہے۔ اسلام آباد والے اپنے دارلخلافے کی حدود تک محدود ہیں اور پنجاب والے مرکز کو غیر علاقہ سمجھ رہے ہیں، وزیر اعظم کے نیچے کا سٹاف ایک دن یہ بحث کر رہا تھا کہ وزیر اعظم نے وکلا کے سو ڈیڑھ سو لوگوں کے وفد سے ملنا ہے تو لاہور میں کونسی جگہ مناسب ہے؟ مسلم لیگ کے دفتر میں ملاقات کا رنگ سیاسی ہو جاتا لیکن سٹاف کی اتنی بھی جرأت نہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی عملداری میں موجود کسی سرکاری عمارت کو استعمال میں لا سکے۔ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کا نہ اوپر کوئی پرسان حال ہے نہ نیچے ہی انہیں کوئی رسائی حاصل ہے، کہا جا رہا ہے کہ سب کچھ میرٹ پر ہو گا۔ میرٹ کا عرفِ عام میں مطلب یہ ہوتا ہے کہ اور کسی کی مرضی نہیں چلے گی بس وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی مرضی چلے گی۔ وہ سیاہ کریں یا سفید اسے ہی سیاسی زبان میں میرٹ کہا جاتا ہے۔ مجھے حمزہ کے دوستوں نے بتایا کہ پنجاب میں اس کی کوئی شنوائی نہیں، اس نے سالہا سال مسلم لیگ کی تنظیم کو چلایا ہے اسے نولفٹ کہہ کر گھر بٹھانا سیاسی لحاظ سے سراسر غلط ہے۔ مشاورت جو ہمارے خاندان کا خاصہ تھا اس کا نوجوان نسل میں مکمل فقدان نظر آتا ہے۔

پیارے بیٹے!!

میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد تم نے بڑے بھائی کو والد جیسا مقام دیا ہے۔ نواز یقیناً اس کا اہل بھی ہے اس کا دل بہت بڑا ہے لیکن اس نے صدمات اور حادثات کے روگ دل کو لگا لئے ہیں وہ پارٹی کا سربراہ ہے لیکن مسلسل غیر متحرک اور خاموش ہے۔ یہ دوعملی نونی سیاست کو تباہ کر رہی ہے۔ شہباز بیٹے، تم تو ویسے بھی سیاست کرتے ہی نہیں نہ سیاست پر بولتے ہو، نہ سیاسی جلسوں سے خطاب کرتے ہو ، نہ پنجاب کا کوئی دورہ کرتے ہو؟ تم سیاست نہیں کر رہے، بس نوکری کر رہے ہو، میں نے تم بھائیوں کو ہمیشہ سمجھایا تھا کہ مہنگائی حکومتوں کیلئے زہر قاتل ہوتی ہے۔ تمہاری حکومت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ مہنگی بجلی ہے جب تک تم دن رات لگا کر یہ مسئلہ حل نہیں کرتے تمہاری کوئی نہیں سنے گا۔

شہباز بیٹے!!

غور سے سنو، نواز شریف ماضی میں ہر سیاسی معاملہ میرے ساتھ ڈسکس کرتا تھا اور مشورہ لیتا تھا، لیکن میں نے سنا ہے کہ تمہارے سارے مشیر ٹیکنو کریٹ ہیں۔ تمہیں خواجہ آصف، رانا تنویر اور رانا ثنا اللہ جیسے سینئر سیاسی ساتھیوں سے زیادہ مشورے کرنے چاہئیں، چچا اور بھتیجی کو نواز کے ساتھ بیٹھ کر وفاق اور پنجاب کی ایک جیسی پالیسیوں پر بات کرنی چاہیے، یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ نونی سیاست کو آگے چل کر مریم نے لیڈ کرنا ہے یا تم نے؟یہ بھی سوچو کہ جنید صفدر، ذکریا اور زید میں سے کسی کو سیاست میں موقع دینا ہے یا نہیں؟ کیا حمزہ پس منظر میں ہی رہے گا یا اس کا مستقبل میں کوئی کردار سوچا گیا ہے؟ یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ کیا نواز شریف نے اسی طرح لمبی چپ اور میل ملاقات سے مکمل گریز کے ساتھ ہی سیاست کرنی ہے؟ اگر وہ صدمے، ناراضی اور مایوسی سے باہر نہیں آتا تو پھر اسے سیاست سے الگ ہو جانا چاہئے۔ آخری بات یہ کہ عمران خان کو عدالتی، فوجی اور عوامی شعبوں میں مادی شکست تو ہو گئی ہے مگر وہ آج بھی سیاسی طور پر وکٹری سٹینڈ پر کھڑا ہے، یہ سچ ہے کہ پے در پے شکستیں پی ٹی آئی کا حوصلہ توڑ دیں گی مگر ان لوگوں کی مکمل مایوسی، ریاست کیلئے بھاری ثابت ہو گی۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ مصالحت کے راستے کھلے رکھو۔ چاہے وہ تمہارے سیاسی مخالف ہی کیوں نہ ہوں لیکن انہیں مایوسی کے اندھیروں میں نہ جانے دو۔

فقط

تمہارا، ابا جی

اسلام آباد میں بلائے فوجی دستوں کو گولی چلانے کا اختیار دے دیا گیا

Back to top button