آئی ایس آئی کو بینظیر پر حملے کا پہلے سے علم تھا لیکن ایکشن نہ لیا

بے نظیر بھٹو کی شہادت سے ایک رات پہلے تب کے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹنٹ جنرل ندیم تاج نے بی بی سے ملاقات کر کے انہیں بتایا تھا کہ کل کے جلسے میں انہیں قتل کرنے کی سازش تیار ہے، لہذا وہ جلسہ ملتوی کر دیں۔ تاہم بے نظیر بھٹو نے آئی ایس آئی چیف کو کہا کہ اگر ان کی ایجنسی کو قتل کی سازش اور اس کے پیچھے موجود عناصر کا بھی پتہ ہے تو وہ انہیں گرفتار کیوں نہیں کرتے، لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج نے جواب میں کہا کہ وقت بہت کم ہے لہذا ان کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ بے نظیر کے قتل کے سارے منصوبے کا علم ہونے کے باوجود اگلے روز جلسے کے اختتام پر جب محترمہ لیاقت باغ سے نکلی تو ان کا 300 سے زائد اہلکاروں پر مبنی سکیورٹی حصار ختم کر دیا گیا جس کے بعد شوٹرز اور خودکش بمبار نے ان کی گاڑی کے قریب پہنچ کر نہ صرف ان کے سر کو نشانہ بنایا بلکہ دھماکہ بھی کر دیا۔ یاد رہے جب بے نظیر بھٹو کو نشانہ بنایا گیا تب ان کی گاڑی کے قریب صرف 13 پولیس اہلکار موجود تھے۔ اسی وجہ سے شوٹر انکے سر کا نشانہ لے کر تین گولیاں چلانے میں کامیاب ہوا جسکے فورا بعد خودکش بمبار نے اپنی جیکٹ بھی پھوڑ ڈالی۔

آج دن تک اس سوال کا جواب نہیں مل پایا کہ بینظیر بھٹو کا قتل کس نے کیا حالانکہ سب جانتے ہیں کہ قاتل کون تھا؟ ایک المناک واقعے میں بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد انصاف کی تلاش اب بھی جاری ہے کیونکہ عدالت نے اس کیس میں ملوث 5 افراد کو پہلے ہی بری کر دیا ہے۔ ان میں اعتزاز شاہ، شیر زمان، عبدالرشید، رفاقت اور حسنین تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ تھے۔

 یہ تنظیم 27؍ دسمبر 2007ء کو بینظیر بھٹو کے قتل سے صرف 12؍ دن قبل کمانڈر بیت اللہ محسود کی قیادت میں تشکیل پائی تھی۔ قتل میں ملوث کچھ ملزمان مولانا سمیع الحق مرحوم کے مدرسہ حقانیہ کے طالبعلم تھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا اور ان کیخلاف اس ہائی پروفائل قتل کے حوالے سے ٹھوس شواہد دستیاب ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔  تاہم، عدالت نے بعد میں ناکافی شواہد کی وجہ سے اور کیس کی تفتیش کی ساکھ پر سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں بری کر دیا تھا۔ یوں بینظیر بھٹو کے قتل کے اصل مجرموں، سازش میں ملوث افراد اور منصوبہ سازوں کی شناخت اور ان کیخلاف کارروائی میں ناکامی نے پاکستان کی انٹیلی جنس اور تفتیشی ایجنسیوں کی ساکھ پر مزید سوالات اٹھا دیے۔

یاد رہے کہ راولپنڈی کی انتخابی ریلی میں بی بی کی شہادت نے قوم کو مایوسی میں مبتلا کرنے کے ساتھ بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد حالات و واقعات تنازعات کا شکار ہوگئے، اہم شواہد کو مبینہ طور پر خراب کر دیا گیا جس سے تحقیقات کی ساکھ پر سوالات اٹھنے لگے۔ اہم فرانزک شواہد مٹا دیے گئے، جائے وقوعہ کو عجلت میں دھو دیا گیا تاکہ ثبوت مٹائے جا سکیں۔ تب کی وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈیر جاوید اقبال نے ایک پریس کانفرنس میں اس قتل کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا، جس میں ٹی ٹی پی سے جڑے مبینہ مجرموں کی فون کالز اور انکے خاکے پیش کیے گئے۔ تاہم، یہ دعوے بینظیر کی پیپلز پارٹی سمیت کئی لوگوں کو قائل کرنے میں ناکام رہے اور آزاد و شفاف تحقیقات کے مطالبات سامنے آئے۔

خود بے نظیر بھٹو نے اپنی شہادت سے چند ہفتے قبل سینیئر صحافی عامر میر کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر میں غیر فطری موت کا شکار ہوئی تو میری موت کا ذمہ دار جنرل مشرف ہوگا۔ بی بی کی شہادت کے بعد پاکستان کھپے کا نعرہ لگانے والے آصف زرداری کی زیر قیادت پیپلز پارٹی نے قتل کا الزام تب کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف پر عائد کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے اقوام متحدہ کے تحت آزاد انکوائری کرانے کے متعدد مطالبات کے نتیجے میں 2009 میں اقوام متحدہ کا فیکٹ فائنڈنگ مشن تشکیل دیا گیا جس نے بڑے پیمانے پر قتل کی تحقیقات کیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں قتل کی ذمہ داری جنرل مشرف کی زیر قیادت فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ناکامی پر ڈالی گئی جس پر فوجی قیادت سیخ پا ہو گئی۔ بی بی کی شہادت کے بعد ہونے والے الیکشن کے نتیجے میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی اور اصف زرداری صدر پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔ فوجی دباؤ کے نتیجے میں تب کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے  اقوام متحدہ کو ایک خط میں مطالبہ کیا کہ وہ اپنی رپورٹ  واپس لے جس سے قتل بارے شکوک و شبہات کو مذید ہوا ملی۔

بعد ازاں ایک انٹرویو میں پرویز مشرف نے بھی اعتراف کیا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش بارے پہلے ہی علم ہو چکا تھا۔ جنرل مشرف نے انکشاف کیا کہ آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل ندیم تاج نے 26 دسمبر 2007 کو بینظیر بھٹو سے ملاقات کرکے انہیں خبردار کیا تھا کہ وہ لیاقت باغ کی ریلی سے خطاب نہ کریں۔

اسکے باوجود، بینظیر بھٹو نے ریلی سے خطاب کیا اور یہ فیصلہ بالآخر ان کی جان لے گیا۔ تاہم مشرف نے یہ نہیں بتایا کہ اگر آئی ایس آئی کو بے نظیر کے قتل کی سازش اور اس میں ملوث عناصر کا پہلے سے پتہ تھا تو پھر منصوبہ ناکام بنانے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ بی بی کے قتل کے بعد سے اب تک کئی سازشی نظریات گردش کر رہے ہیں، جن میں مختلف افراد شامل ہیں، لیکن مجرموں کی نشاندہی کیلئے کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

بے نظیر بھٹو نے مشرف کو ہی اپنا ممکنہ قاتل کیوں قرار دیا تھا؟

 2008 سے 2013 تک اقتدار میں رہنے والی پیپلز پارٹی نے سچائی سے پردہ اٹھانے کیلئے اپنے تئیں کوششیں کیں لیکن ان سب کے باوجود بینظیر بھٹو کی شہادت کی تفصیلات غیر واضح ہیں۔

Back to top button