ٹرین پر حملہ کرنے والوں کا اصل ٹارگٹ چھٹی پر جانے والے فوجی تھے

جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے حملے میں بازیاب ہونے والے مسافروں نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں کا اصل ٹارگٹ سکیورٹی فورسز کے جوان تھے جو ٹرین میں سوار تھے اور چھٹی پر گھروں کو جا رہے تھے۔ انکا کہنا ہے کہ حملے کہ بعد ٹرین کو ہائی جیک کرنے والے دہشت گرد آپس میں بلوچی میں بات کر رہے تھے اور ان کا لیڈر انھیں بار بار ایک ہی ہدایت دے رہا تھا کہ سکیورٹی فورسز کے جوانوں پر خصوصی نظر رکھو، یہ ہاتھ سے نکلنے نہیں چاہییں۔
بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرین کے ایک مسافر نے حملے کا تفصیلی احوال بیان کیا ہے۔ جعفر ایکسپریس کی بوگی نمبر تین میں موجود مشتاق محمد کا کہنا تھا کہ ’حملے کا آغاز ’ایک بہت بڑے دھماکے‘ سے ہوا۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ ’دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ٹرین کی کھڑکیاں اور دروازے ہل کر رہ گئے اور میرا ایک بچہ نیچے گر گیا۔‘
مشتاق محمد کے مطابق ’اس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی جو ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ اس فائرنگ کے دوران ایسا منظر تھا جو کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔‘
مشتاق محمد بتاتے ہیں کہ ’پھر آہستہ آہستہ فائرنگ رکی اور مسلح افراد بوگیوں میں داخل ہو گئے۔ انھوں نے لوگوں کے شناختی کارڈ دیکھنا شروع کیے اور ان ہی میں سے کچھ لوگوں کو علیحدہ کرتے گئے۔ ہماری بوگی کے دروازوں پر تین تین عسکریت پسند پہرہ دے رہے تھے۔ انھوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ سویلین، خواتین، بوڑھوں اور بلوچوں کو کچھ نہیں کہیں گے۔‘ مشتاق محمد نے بھی بتایا کہ حملہ آور آپس میں بلوچی میں بات کر رہے تھے اور ان کا لیڈر انھیں بار ایک ہی بات کہہ رہا تھا کہ فوجی اہلکاروں پر خصوصی نظر رکھو، یہ ہاتھ سے نکلنے نہیں چاہییں۔ ہماری بوگی سے انہوں نے ایک درجن کے قریب مسافروں کو نیچے اتارا اور کہا کہ یہ سب سکیورٹی اہلکار ہیں۔
اس دوران ایک شخص نے مزاحمت کی کوشش کی تو اسے تشدد کر کے نیچے اتارا گیا اور پھر گولیاں چلنے کی آواز آئی۔ اس کے بعد بوگی میں موجود تمام لوگ حملہ آوروں کی ہدایات پر عمل کرتے رہے۔ شام کے وقت حملہ آوروں نے مسافروں سے کہا کہ ہم بلوچوں، عورتوں، بچوں اور بزرگ مسافروں کو رہا کررہے ہیں۔ وہ مجھے نہیں چھوڑ رہے تھے مگر جب میں نے بتایا کہ میں تربت کا رہائشی ہوں اور میرے ساتھ بچے اور خاتون ہیں تو انھوں نے مجھے بھی جانے دیا۔
ایک اور مسافر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں بتایا کہ کیسے مسلح افراد شناختی کارڈز کے ذریعے یہ تصدیق کر رہے تھے کہ کون صوبے سے باہر کا رہنے والا ہے۔
یہ بالکل بی ایل اے کی جانب سے حالیہ حملوں جیسا طریقہ کار تھا۔
ایک مسافر جسے قریبی سٹیشن پر پہنچنے کے لیے چل کر چار گھنٹے لگے، نے بتایا کہ حملہ آوروں نے سب سے پہلے شناختی کارڈز اور سروس کارڈز چیک کیے۔ اس مسافر نے دعویٰ کیا کہ ’میرے سامنے دو فوجیوں کو گولی ماری گئی اور چار دیگر کو وہ ساتھ لے کر چلے گئے، ان کا کہنا تھا کہ ’جو فوجی پنجابی تھے، انھیں حملہ آور اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔‘
جعفرایکسپریس حملہ،امریکہ،چین،ایران،یورپی یونین کی مذمت
جعفر ایکسپریس میں سوار ایک اور مسافر محمد اشرف نے بتایا کہ میرے اندازے کے مطابق وہ حملہ آور دو سو کے قریب افراد کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بھی سو سوا سو کے قریب تھی۔
دوسری جانب فوجی ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والے تمام 33 دہشت گردوں کو بازیابی آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا۔ انکے مطابق اس آپریشن کے دوران 21 مسافر اور چار فوجی جوان بھی شہید ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ دہشت گردوں نے 11 مارچ کو تقریباً ایک بجے کے قریب بولان کے علاقے اوسی پور میں ریلوے ٹریک دھماکے سے اڑا دیا اور جعفر ایکسپریس کو روکا، اس ٹرین میں 440 افراد سوار تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مسافروں کو بازیاب کروانے کے لیے فوجی آپریشن میں ایس ایس جی، ایئرفورس اور پولیس نے حصہ لیا، پہلے مرحلے میں خودکش حملہ آور کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد بازیابی کا آپریشن شروع کیا گیا، جس میں آرمی، ایئرفورس، فرنٹئیر کور اور ایس ایس جی کے جوانوں نے حصہ لیا اور یرغمالیوں کو مرحلہ وار رہا کروا لیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فوجی آپریشن کے دوران دہشتگرد افغانستان میں اپنے سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈ سے سٹیلائٹ فون کے ذریعے رابطے میں تھے۔
