مذاکرات سے پہلے ہی عمران کا فوجی تحویل میں جانے کا امکان

یوٹرن خان کہلانے والے عمران خان کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی درخواستوں کے بعد اس معاملے پر تیزی سے بدلتے ہوئے مؤقف نے مذاکرات کی ٹرین پٹری پر چڑھنے سے پہلے ہی ڈی ٹریک کر دی ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمران خان ڈیل کےلیے مذاکرات کرنا بھی چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ عوام میں یہ جھوٹا بھرم بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں کہ انہیں حکومت سے کسی قسم کی ریلیف نہیں چاہیے۔ تاہم دوسری طرف وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کے خواہش مند ہیں حالانکہ فوجی ترجمان ان کی اس خواہش کو سختی سے رد کر چکے ہیں سور اب یہ خبریں زوروں پر ہیں کہ فیض کے بعد عمران کو بھی فوجی تحویل میں لیا جانے والا ہے۔ ایسے میں یہ کہنا بے جانا ہوگا کہ عمران خان  مذاکرات کی ٹرین کو پٹری سے اتار کر اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اڈیالہ جیل میں بند عمران خان پچھلے کئی مہینوں سے بار بار اسٹیبلشمنٹ کو مذاکرات کی پیشکش کر رہے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ پاکستان میں اصل فیصلہ ساز اسٹیبلشمنٹ ہی ہے لہٰذا وہ اس کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ لیکن فوجی ترجمان نے ایک پریس بریفنگ میں عمران خان کی مذاکرات کی خواہش کو سختی کے ساتھ رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے ساتھ تب تک مذاکرات نہیں ہو سکتے جب تک وہ معافی نہیں مانگتے۔ فوجی ترجمان نے مزید کہا کہ ویسے بھی مذاکرات ایک سیاسی عمل ہے جو کہ حکومت کا مینڈیٹ ہے اور فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لہٰذا اگر کسی نے مذاکرات کرنے ہیں تو حکومت کے ساتھ کرے۔ فوج کی جانب سے مذاکرات کی خواہش ٹھکرائے جانے کے بعد عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات پر رضامندی کا اظہار کیا تھا اور اس سلسلے میں پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی کو اگے لگایا گیا تھا۔ تاہم بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایک روز خان صاحب مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور اگلے روز کہہ دیتے ہیں کہ وہ جعلی حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔ لہٰذا حکومت بھی اب محمود اچکزئی اور پی ٹی ائی کے ان دیگر رہنماؤں کو سنجیدگی سے نہیں لیتی جو مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ ویسے بھی حکومت سمجھتی ہے کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد عمران کے لیے ریلیف حاصل کرنا ہے جنہیں اب نہ صرف 19 ملین پاؤنڈز کیس میں سزا ہونے جا رہی ہے بلکہ یہ خبریں بھی گردش میں ہیں کہ انہیں 9 مئی کے مقدمات میں فوجی تحویل میں دیا جا سکتا ہے۔

عمران دوبارہ حکومت کی بجائے فوج سے مذاکرات کی بات کیوں کرنے لگے؟

حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مذاکرات کی خبروں میں تب تیزی آئی تھی جب نواز شریف کی زیر قیادت ن لیگ کے اجلاس کے بعد خبر آئی کہ میاں صاحب نے تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سے مذاکرات کی تجویز پیش کی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے نواز شریف کے اس بیان کو سراہا لیکن دوسری جانب تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن کا انٹرویو آیا کہ ’یہ لوگ تو ایجنٹ ہیں ان سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہوں گے تو صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان ہونے گے’۔ یعنی ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ عمران اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹوں سے نہیں بلکہ براہ راست فوجی اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ خواہش ظاہر کرتے وقت وہ شاید بھول گئے کہ اسٹیبلشمنٹ تو خان صاحب کوئی مذاکرات کی خواہش کو سختی کے ساتھ رد کر چکی ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے ہی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے بقول مذاکرات کا مینڈیٹ عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو دیا ہے اور وہ سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کر کے کوئی تجویز لائیں گے تو اس پر غور کیا جائے گا۔ اسی دوران خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کا بیان آ گیا کہ نواز شریف تو مذاکرات چاہتے ہیں لیکن شہباز شریف ایسا ہونے نہیں دیتے کیونکہ ان کی وزارت عظمیٰ چلی جائے گی۔ بیرسٹر سیف نے یہ بونگی بھی ماری کہ دراصل نواز شریف شہباز کو ہٹا کر خود وزیراعظم بننا چاہتے ہیں اور اس لیے وہ مذاکرات نہیں ہونے دے رہے۔ اب بھلا کوئی بیرسٹر صاحب سے پوچھے کہ کیا اس بات پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کے دل میں عمران کے لیے اتنی ہمدردی بھری ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے انہیں جیل سے باہر لانا چاہتے ہیں۔

تاہم مذاکرات کے غبارے سے تب ہوا نکل گئی جب نون لیگی سینیٹر سینیٹر عرفان صدیقی نے اس بات کی ہی تردید کر دی کہ نواز شریف نے کسی بھی قسم کی بات چیت کی تجویز دی ہے۔ ان کے بقول تحریک انصاف کے گھر کے باہر ہلکی سی آہٹ بھی ہو تو ان کی بانچھیں کھل جاتی ہیں۔ بہرحال 24 گھنٹے کے بیانات اور ٹی وی پر سرکس کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے فلور آف دی ہاؤس پر یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دی کہ جب تک نو مئی والا معاملہ حل نہیں ہو گا، کسی سے کوئی بات نہیں ہوگی۔

اب اس سارے معاملے میں پی ٹی آئی کا ایک بڑا ابہام نظر آ رہا ہے اور وہ یہ کہ محمود خان اچکزئی کو انہوں نے اتحاد کا سربراہ بنا کر سیاسی قیادت سے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا ہے لیکن ساتھ میں چاہے بانی پی ٹی آئی ہوں یا رؤف حسن وہ صرف اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی اپنی ذاتی حیثیت میں آج بھی اگر نواز شریف، زرداری یا مولانا سے بات کرنا چاہیں تو یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کے لیے سب کے دروازے کھلیں گے۔ لیکن محمود خان اچکزئی کیسے اور کس مینڈیٹ کے ساتھ حکومتی قیادت سے مذاکرات کریں، جب خود تحریک انصاف بار بار کہہ رہی ہے کہ مذاکرات صرف اسٹیبلشمنٹ سے ہی ہوں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نہ تو پی ٹی آئی سے کسی قسم کے مذاکرات کی خواہش اور نہ اس کے فی الحال کوئی امکانات موجود ہیں۔ تحریک انصاف کو اگر کوئی ریلیف ملے گا یا موجودہ سیاسی تعطل اگر کسی طرح ٹوٹ سکتا ہے تو اس کا حل سیاسی قیادت اور پارلیمان سے نکلے گا۔ تاہم اس کا امکان اس لیے نظر نہیں اتا کہ اب فوجی اسٹیبلشمنٹ 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو سزا دلوانے پر تل چکی ہے اور اسی لیے فیض حمید کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جس کے بعد عمران خان کے بھی فوجی تحویل میں جانے کی خبریں گردش میں ہیں۔

Back to top button