انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم سے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے : رانا ثناء اللہ

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کا کہنا تھاکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی سے نبردآزما قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو دہشت گردی کے مقدمات میں کسی فرد کو زیر حراست رکھنےکا قانونی حق دینےسے لاپتہ افراد کا معاملہ جزوی طور پر حل ہوجائے گا۔

سینئر رہنما مسلم لیگ ن  رانا ثناء اللہ نے کہاکہ کچھ قانون نافذ کرنے والے ادارے،فوج اور سویلین ادارے دہشت گردی کا مقابلہ کررہے ہیں لیکن انہیں مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کرنے،حراست میں لینے اور ان سے پوچھ گچھ کا کوئی قانونی اختیار نہیں،انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم قانونی طور پر سویلین اور فوج سے جڑے قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کرنے کی اجازت دےگی،یہ اختیار نہ ہونےکی صورت میں لاپتہ افراد کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ پی ڈی ایم کی گزشتہ حکومت کے دوران،وہ وزیر داخلہ ہونے کےحیثیت سے فوجی حکام اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر لاپتہ افراد کے مسئلےکو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کےلیے ایک جامع حکمت عملی پر کام کررہے تھے۔

رانا ثناء اللہ نےکہا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے اس موضوع پر بات چیت کےدوران صاف کہہ دیا تھاکہ اگر فوج اور سویلین اداروں سے جڑے قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو مشتبہ دہشت گرد کو حراست میں لینےکا قانونی حق نہ ملا تو اس صورت حال کی وجہ سے لاپتہ افراد کا مسئلہ پیدا ہوگا۔

سینئر رہنما مسلم لیگ ن رانا ثناء اللہ نےکہا کہ ان دنوں میں ہونےوالی بات چیت میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار نہیں کرتے اور اس سے پوچھ گچھ سے گریز کرتےہیں تو اس سے عوام اور ملک کی سلامتی کےلیے بڑا خطرہ پیدا ہوگا اور اس سے دہشت گردوں اور اُن کے نیٹ ورکس کو مدد ملے گی۔

پی ٹی آئی بیرونی طاقتوں کو کہہ کر عمران خان کو بیرون ملک بھجوانا چاہتی ہے، خواجہ آصف

رانا ثناء اللہ نےکہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت کے دوران ماضی کے لاپتہ افراد کے مسئلےکو حل کرنے کےلیے ایک جامع حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیاگیا لیکن میڈیا اور سول سوسائٹی کے گروپوں کے ممکنہ تنازعات کے خدشے سےمطلوبہ قانون سازی نہیں ہو پائی۔

Back to top button