11 ارب کے جہاز کی خرید نے مریم کی ساکھ کا جنازہ نکال دیا

معروف لکھاری اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے اپنے لیے 11 ارب روپے مالیت کا وی وی آئی پی طیارہ خریدنے کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں ایسا فیصلہ عوامی احساسات سے متصادم ہے اور اس نے ان کی ساکھ کو بری طرح مجروح کیا ہے۔
رؤف کلاسرا نے اپنے سیاسی تجزیے میں سوال اٹھایا ہے کہ جب ملک میں غربت کی شرح میں اضافے کی رپورٹس سامنے آ رہی ہوں اور عوام کو معیشت کی بحالی کے نام پر زیادہ سے ذیادہ ٹیکسوں کا سامنا ہو تو ایسے میں حکمرانوں کی جانب سے عوام کے ٹیکسوں سے اپنی ذات کے لیے لگژری نوعیت کے اخراجات کرنا کیا مناسب ہے؟ ان کے مطابق جب عام آدمی مہنگائی اور بے روزگاری کے دباؤ میں زندگی گزار رہا ہو تو اربوں روپے کے طیارہ خریدنے کی خبر فطری طور پر غصے اور مایوسی کو جنم دیتی ہے۔
کلاسرا نے نشاندہی کی کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے بعض حالیہ انتظامی اقدامات، جیسے تجاوزات کے خلاف آپریشن اور صفائی مہمات، کو عوامی سطح پر سراہا جا رہا تھا اور صوبے کے مختلف اضلاع میں انتظامی بہتری کے آثار بھی دیکھے گئے۔ تاہم ان کے بقول طیارے کی خریداری کی خبر نے اس مثبت تاثر کو متاثر کیا اور حکومت کو غیر ضروری تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب طیارہ خریدنے کی خبر سامنے آئی تو ابتدا میں حکومتی حلقوں کی جانب سے اس کی تردید کی کوشش کی گئی، یہ بھی کہا گیا کہ نیا جہاز تو پنجاب ایئر لائنز کے فلیٹ میں شامل کرنے کے لیے خریدا گیا ہے حالانکہ سب جانتے تھے کہ یہ جہاز پہلے سے ہی وزیراعلی مریم نواز کے زیر استعمال ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر وزیراعلی کی میڈیا ٹیم کی جانب سے دی گئی الٹ پلٹ وضاحتوں نے عوامی سطح پر شکوک و شبہات کو بڑھاقا دیا اور حکومت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑی۔ کلاسرا کا کہنا ہے کہ اگر ابتدا ہی میں مکمل شفافیت کے ساتھ حقائق سامنے رکھے جاتے تو شاید معاملہ اس قدر متنازع نہ بنتا۔
انہوں نے وفاقی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے متعدد بیرونی دوروں پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر بیرونی سرگرمیوں کے باوجود معاشی اشاریے بہتر نہیں ہو رہے تو عوام کے ذہن میں سوالات پیدا ہونا فطری امر ہے۔ ان کے مطابق پارلیمانی حاضری کے مقابلے میں بیرونی دوروں کی کثرت بھی تنقید کا باعث بنی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا مؤقف ہے کہ یہ سفارتی روابط پاکستان کی عالمی ساکھ کی بحالی کے لیے ضروری تھے اور ان کے مثبت اثرات وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ رؤف کلاسرا نے ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سرکاری وسائل کے استعمال پر تنازعات نئی بات نہیں۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور کے بعض اخراجات اور دیگر ادوار میں پروٹوکول اور سرکاری سہولیات کے استعمال پر اٹھنے والے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام اب ایسے معاملات پر زیادہ حساس ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں جہاں عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری جیسے رہنما بھی متحرک ہیں، وہاں عوامی تاثر غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ان کے بقول اگر حکومت واقعی طویل سیاسی سفر کرنا چاہتی ہے تو اسے سادگی، کفایت شعاری اور مالی شفافیت کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا۔
آصف زرداری نے پنجاب کے دورے میں عمران کا رگڑا کیوں نکالا؟
کلاسرا نے سوال اٹھایا کہ کیا 11 ارب روپے کا طیارہ واقعی انتظامی ضرورت تھا کیونکہ وزیراعلی پنجاب کے پاس پہلے بھی دو جہاز موجود ہیں؟ ان کے مطابق مسئلہ صرف ایک طیارے کی خریداری کا نہیں بلکہ اس تاثر کا ہے جو عوام کے ذہن میں قائم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ احتیاط سے خرچ نہیں ہو رہا تو اس سے حکومت کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور یہی پہلو حکومتِ پنجاب کے لیے سب سے بڑا سیاسی چیلنج بن سکتا ہے۔
