سال کادوسرا چاندگرہن7ستمبرکوہوگا

نایاب سرخ چاند والے گرہن کیلئے تیار ہو جائیں جو لگ بھگ دنیا کا ہر فرد7ستمبر کودیکھ سکے گا۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق 7 ستمبر کو لگنے والا چاند گرہن دراصل بلڈ مون ہوگا۔
چاند گرہن کے دوران زمین، سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے، اور جب چاند زمین کے سائے کے تاریک حصے (امبرا) سے گزرتا ہے تو سورج کی شعاعیں براہ راست اس تک نہیں پہنچ پاتیں۔ اس موقع پر زمینی فضا سے گزرنے والی سورج کی روشنی میں سرخ رنگ زیادہ بکھرتا ہے، جس کے باعث چاند سرخ مائل دکھائی دیتا ہے، اور اسی کو بلڈ مون کہا جاتا ہے۔
یہ گرہن کئی حوالوں سے منفرد ہوگا کیونکہ اسے تقریباً دنیا کا ہر فرد دیکھ سکے گا۔ ٹائم اینڈ ڈیٹ ویب سائٹ کے مطابق 7 ارب سے زائد افراد اس نایاب منظر کے گواہ بنیں گے، جبکہ مکمل گرہن کا دورانیہ تقریباً 82 منٹ ہوگا۔ یہ حالیہ تاریخ کے ان چند گرہنوں میں شامل ہے جنہیں دنیا کی 77 فیصد آبادی دیکھ سکے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مکمل چاند گرہن ہوگا، جو اوسطاً ہر 18 ماہ بعد نظر آتا ہے، تاہم ہر بار چاند سرخ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ 7 ستمبر کا بلڈ مون خاص اہمیت رکھتا ہے۔
یہ گرہن پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 28 منٹ پر شروع ہوگا اور صبح 1 بج کر 55 منٹ پر ختم ہوگا، جس دوران 82 منٹ تک مکمل گرہن جاری رہے گا۔
ایشیا میں پاکستان، بھارت، چین اور جاپان اس نظارے کے لیے بہترین خطے ہوں گے، جب کہ یورپ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں بھی یہ دیکھا جاسکے گا۔
