یہودیوں کے ایجنٹ اور فوج کے ٹاؤٹ کے مابین جنگ میں تیزی

غزہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے قتل عام پر عمران خان کی مسلسل اور معنی خیز خاموشی نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کو اتنا مشتعل کیا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یہودی ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تحریکِ انصاف والوں نے حافظ نعیم کو فوج کا ٹاؤٹ قرار دے دیا جسکے بعد دونوں جماعتوں کے مابین سوشل میڈیا پر شدید آن لائن جنگ جاری ہے۔
حافظ نعیم نے سوال اٹھایا تھا کہ اڈیالہ جیل سے باقاعدگی سے بذریعہ ٹوئٹر ہر چھوٹے بڑے معاملے پر بیان بازی کرنے والے عمران خان اسرائیلی مظالم پر خاموش کیوں ہیں اور یہودی ریاست کی جانب سے قتل عام کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟ اس پر پی ٹی آئی نے سخت رد عمل دیتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے امیر پر اسٹیبلشمنٹ سے لائن لے کر کپتان کے خلاف بولنے کا الزام عائد کر دیا۔ چنانچہ دونوں جماعتوں کے کارکنان سوشل میڈیا پر کھل کر ایک دوسرے کے خلاف بیانات داغ رہے ہیں۔ ایک جانب عمران خان کو یہودیوں کا داماد اور ایجنٹ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ حافظ نعیم الرحمن کو فوج کا ٹاؤٹ اور بکاو مال قرار دیا جا رہا ہے۔
جماعتِ اسلامی کے کارکنان بانی پی ٹی کے لیے "بات کیوں نہیں کرتے” کا ہیش ٹیگ لے کر چل رہے ہیں جب کہ پی ٹی آئی کے حامی حافظ نعیم الرحمن کے لیے "منافقت کیوں کرتے ہو” کا ہیش ٹیگ آگے بڑھا رہے ہیں۔دونوں ٹرینڈز چند گھنٹوں میں سرِفہرست آ گئے اور ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان نے حافظ نعیم کے عمران مخالف تبصروں کو احمقانہ، بدنیتی پر مبنی اور فوج کو خوش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی میڈیا سیل کے بیان میں کہا گیا کہ ریمورٹ کنٹرولڈ سیاست دانوں کی عقل پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ حافظ نعیم ایک مقبول لیڈر کے ایمان پر سوال اٹھانے کی بجائے ان کی فلسطین سے وابستگی پر شک کر رہے ہیں، یہ سیاسی بغض اور فکری غلامی کی انتہا ہے۔ پی ٹی آئی ترجمان نے یاد دلایا کہ کچھ عرصہ قبل خود حافظ نعیم نے بیرسٹر گوہر علی خان سے ملاقات کی درخواست کی تھی تاکہ فلسطین کی حمایت میں مارچ میں اشتراک کیا جا سکے اور پی ٹی آئی نے اس کی غیر مشروط حمایت کی تھی۔ ترجمان نے کہا کہ عمران خان ہی وہ واحد پاکستانی لیڈر ہیں جنہوں نے ہمیشہ اسرائیل اور اس کے مقامی حواریوں کے خلاف واضح اور جرات مندانہ مؤقف اپنایا۔
پی ٹی آئی نے جماعتِ اسلامی پر فوجی ایجنڈے کے تحت بیان بازی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ حافظ نعیم نے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کے بارے میں حالیہ خطاب میں کیوں بات نہیں کی حالانکہ وہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے؟ ترجمان نے حافظ نعیم سے سوال کیا کہ کیا آپ کو اس پر بولنے کی اجازت نہیں ملی؟ کیا آپ کی زبان صرف عمران خان کے خلاف چلتی ہے، پی ٹی آئی ترجمان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین پر جتنا واضح اور جرات مندانہ مؤقف عمران خان کا ہے، اتنا کسی اور پاکستانی سیاستدان کا نہیں ہے اور پی ٹی آئی کے بیانات دراصل عمران خان ہی کے مؤقف کی ترجمانی کرتے ہیں۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے ترجمان کی جانب سے اس لمبی چوڑی بیان بازی کے باوجود عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے فلسطینیوں کے حق میں یا اسرائیلی مظالم کے خلاف ابھی تک کوئی ٹویٹ پوسٹ نہیں کی گئی۔ ادھر ترجمان جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کے ترجمان کو جواب دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ وہ حافظ نعیم پر تنقید کرنے کی بجائے ٹرمپ اور اسرائیلی پالیسیوں کیخلاف آواز اٹھائے۔ اس نے کہا کہ دنیا بھر میں اسرائیلی مظالم کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن نہ تو تحریک انصاف کی جانب سے کوئی احتجاج کیا گیا ہے اور نہ ہی عمران نے کوئی اسرائیلی مخالف بیان دیا ہے۔
جیل میں قید عمران خان گندی گالیوں اور اشاروں پر کیوں اتر آئے؟
جماعتِ اسلامی کے ترجمان نے واضح کیا کہ حافظ نعیم نے کئی مواقع پر عمران کو سیاسی قیدی قرار دیا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ایسے شخص کے لیے آواز اٹھانا فلسطینیوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ عمران خان نے ٹرمپ کو امریکی صدر منتخب یونے پر مبارکباد کے بیان تو دیے لیکن وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم پر خاموش رہے۔ مشتاق احمد خان کے معاملے پر ترجمان جماعتِ اسلامی نے کہا کہ حافظ نعیم نے انکی گرفتاری کو کئی بار عوامی سطح اور اعلیٰ فورمز پر اٹھایا ہے لہذا پی ٹی آئی کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔ ترجمان نے سوال اٹھایا کہ عمران کی جماعت اسرائیل مخالف مظاہرے کیوں نہیں کرتی اور حماس کی حمایت سے کیوں گریزاں ہیں۔
ترجمان جماعت اسلامی کے بیان کا اختتام اسی جملے پر ہواکہ پی ٹی آئی کو حافظ نعیم کے خلاف بیانات دینے کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بولنا چاہیے، جو اسرائیل کا اصل سرپرست ہے اور فلسطینیوں کے قتل عام کا ذمہ دار ہے۔ ادھر تحریک انصاف کے ترجمان نے جواب الجواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ حافظ نعیم اپنی فوج کی خدمت جاری رکھیں، لیکن اُس عظیم قائد کے خلاف زبان مت چلائیں جو قوم کے ضمیر اور خودداری کی علامت بن چکا ہے۔
