مدارس رجسڑیشن بل پر پارلیمنٹ کی بالادستی کی جنگ جیتی ہے : مولانا فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہےکہ ایوانوں سے پاس مدارس بل کو قانون بنواکر پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی کی جنگ جیتی ہے۔اس کامیابی پر سب مبارک باد کے مستحق ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہاکہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ اور وفاق المدارس العربیہ سمیت تمام مدارس کے ذمہ داران کو دیرینہ مطالبہ منظور ہونے پر مبارک باد دیتا ہوں۔
ان کاکہنا تھاکہ بھرپور رہنمائی کرنے پر دل کی گہرایوں سے مفتی محمد تقی عثمانی کے مشکور ہیں جب کہ قانونی رہنمائی پر کامران مرتضیٰ کاکردار بھی ناقابل فراموش ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہاکہ ایوانوں سے پاس بل کو قانون بنواکر پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی کی جنگ بھی جیتی ہے،اس کامیابی پر سب مبارک باد کے مستحق ہیں۔
یاد رہےکہ کئی مہینوں کی تاخیر کےبعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے سوسائٹیز رجسڑیشن ایکٹ 2024 پر دستخط کر دیے جس کےبعد دینی مدارس کی رجسٹریشن کا بل قانون بن گیا،قانون کےتحت دینی مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کے مطابق ہوگی۔
یاد رہےکہ گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (ف) سندھ کے جنرل سیکریٹری مولانا راشد سومرو نے لاڑکانہ میں صدر آصف زرداری سے ملاقات کی تھی، اس موقع پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔
پیپلزپارٹی کی قیادت اور جمعیت علمائے اسلام سندھ کے رہنماؤں کے درمیان سیاسی صورت حال کے علاوہ مدارس رجسٹریشن بل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
آصف علی زرداری نے مدارس بل کےمعاملے پر مولانا فضل الرحمٰن کے تحفظات دور کرنے اور معاملہ جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
مدارس کی خودمختاری پرکوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،جے یوآئی
اس سے قبل، 12 دسمبر کو جے یو آئی (ف) کے سینیٹر مولانا عبدالواسع نے سینیٹ میں خطاب کرتےہوئے مدارس بل منظور نہ کیے جانے کی صورت میں وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کا عندیہ دیا تھا۔
ان کاکہنا تھاکہ اگر مدارس کے حوالے سے یہی سلسلہ جاری رہا تو ہم اسلام آباد آئیں گے، آپ گولیاں چلائیں گے اور آپ کی گولیاں ختم ہوجائیں گی،ہم واپس نہیں جائیں گے۔
